کاشتکار گندم میں سرسوں/ کینولہ کی کاشت اور کھادوں کے متناسب استعمال سے سست تیلے کا تدارک

wheat-aphidلاہور:7نومبر:2013زرعی میڈیا ڈاٹ کام: کاشتکار گندم میں سرسوں/ کینولہ کی کاشت اور کھادوں کے متناسب استعمال سے سست تیلے کا تدارک ممکن بنائیں ۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق گندم کی فصل پر کئی سالوں سے مسلسل ایفڈ(سست تیلہ)کا حملہ بڑھ رہا ہے ۔ یہ کیڑا پودوں سے رس چوستا ہے اس سے ان کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے پودے کمزور ہو جاتے ہیں ۔بڑھوتری رک جاتی ہے۔پیداوار اوراس کا معیار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔کیڑے کے جسم سے لیسدار میٹھا مادہ نکلتا ہے جو پتوں اور پودوں کو لگ جاتاہے۔

اس پر کالی الی پیداہو جاتی ہے۔پودے کا خوراک بنانے کا عمل رک جاتا ہے۔ پیداوار پر برا اثر پڑتا ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ کیڑا بہت سی وائرسی بیماریوں کو پھیلانے میں مدد دیتا ہے۔گندم کی فصل پر کیڑے کا تدارک اس لیے مشکل ہے کہ گندم پر کیڑے کے خلاف زہر کے سپرے کی سفارش نہیں کی جاتی کیونکہ اس کے بہت برے اثرات ہیں جن میں ماحول کا آلودہ ہونا ،صحت کے مسائل اور مفید کیڑوں کا ختم ہونا شامل ہے۔ترجمان کے مطابق کھیتوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے فائدہ مند کیڑے ایفڈ (سست تیلہ) کوکھا کر ختم کر دیتے ہیں۔لیکن اس میں فائدہ مند کیڑوں کے دیر سے پیدا ہونے کی وجہ سے ایفڈ(سست تیلہ) سے فصل کو کافی نقصان ہو جاتا ہے ۔اڈیپتو فارمز پر کئی سال تجربات کرنے کے بعد ایفڈ(سست تیلہ) کو کنٹرول کرنے کی بہت ہی سادہ اور قابل عمل حکمتِ عملی تیار کی ہے۔جس پر کوئی خرچ نہیں آتا ۔اس طریقہ میں گندم میں 100فٹ کے فاصلہ پرسرسوں/ کنولہ کی دو لائنیں کاشت کر کے ایفڈ(سست تیلہ) کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ سرسوں/کینولہ کے پودوں پر گندم کے پودوں سے پہلے ایفڈ(سست تیلہ) حملہ آور ہوتا ہے ۔اس طرح فائدہ مند کیڑے بھی اس پر پہلے پیدا ہوتے ہیں۔جس وقت گندم پر ایفڈ (سست تیلہ) کا حملہ شروع ہوتا ہے اس وقت تک فائدہ مند کیڑوں کی تعدادکنولہ کے پودوں پر بہت زیادہ ہو جاتی ہے یہ فوراََ گندم کی فصل پر منتقل ہو جاتے ہیں اور چند ہی دنوں میں گندم کے ایفڈ(سست تیلہ) کو کھا کر کنٹرول کر لیتے ہیں۔سرسوں/کنولہ پر حملہ کرنے والا ایفڈ گندم کی فصل کو نقصان نہیں پہنچاتا۔اسی طرح گندم پر حملہ کرنے والا ایفڈکنولہ کے پودوں پر حملہ آور نہیں ہوتا۔لیکن دونوں فصلوں پر پائے جانے والے مفید کیڑے ہر طرح کے ایفڈ(سست تیلہ) کو کھاتے ہیں اور کامیابی سے کنٹرول کرتے ہیں۔یاد رہے گندم کی فصل پر کسی بھی صورت میں زہروں کا سپرے نہیں کرنا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ سرسوں/ کنولہ سے حاصل ہونے والا خوردنی تیل بھی مقامی آبادی کی ضرورت کو پورا کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔ اس وقت خوردنی تیل کی درآمد پر کثیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔

ترجمان کے مطابق تجربات کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جس فصل پر صرف نائٹروجن کھادبحساب 69کلوگرام فی ایکڑ استعمال کی گئی تھی۔ اس پر تیلے کا حملہ اس فصل کے نسبتاً زیادہ تھا جس پر کھادوں کا متناسب استعمال(NPK69-46-25) کلوگرام فی ایکڑ کے حساب سے کیا گیا تھا۔ لہٰذا ان تجربات کے مطابق سست تیلے کے تدارک کے لئے کھادوں کے متناسب اسعمال کی سفارش کی جاتی ہے۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More