ربیع کے چارہ جات (لوسرن، جئی) کی کاشت

تحریر : نوید عصمت کاہلوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات ملتان

زرعی سفارشات
زرعی سفارشات

لوسرن
سال بھر میں چارے کی تمام کٹائیوں سے اوسطً تقریباً ایک ہزار من فی ایکڑ سبز چارہ حاصل کیا جاتا ہے۔ جبکہ موافق موسمی حالت میں بیج کی پیداوار 3 تا 5 من فی ایکڑ لی جا سکتی ہے۔ تحقیقاتی ادارہ چارہ جات سرگودھا کی منظور شدہ قسم سرگودھا لوسرن 2002 سبز چارے اور بیج کی بھرپور پیداوار کی صلاحیت رکھتی ہے۔
آب و ہوا:۔ یہ فصل ہر قسم کی آب و ہوا سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس فصل کے لئے نیم خشک علاقے بہت موزوں ہوتے ہیں اور ایسے علاقوں میں یہ فصل ہر قسم کی زمین پر کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے۔ خشک علاقوں میں لوسرن کی آبپاش فصل نہایت کامیاب رہتی ہے۔ مرطوب آ ب و ہوا اس فصل کیلئے مفید نہیں۔ زیادہ بارش والے علاقوں میں لوسرن کی فصل اپنی دوامی حیثیت برقرار نہیں رکھ سکتی کیونکہ وہاں جڑی بوٹیوں اور گھاس کی افراط ہو جاتی ہے۔ یہ پودا دھوپ کو پسند کرتا ہے اس لئے سردیوں میں بارش اور بادل اس کیلئے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

زمین اور اس کی تیاری :۔ لوسرن کی فصل کے لئے بہتر نکاس والی زرخیز میرا زمین جس میں کیلشم وافر مقدار میں موجود ہو موزوں ترین ہے۔ سیم زردہ او ر کلر والی زمین اس کے لئے مناسب نہیں۔ لوسرن کی فصل چونکہ 6 سے 7 سال تک چارہ دیتی رہتی ہے اس لئے اس کی تیاری پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ ایک دفعہ مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں، چار پانچ دفعہ ہل سہاگہ چلا کر زمین کو نرم اور بھربھرا کر لیں۔ کھیت کا ہموار ہونا ضروری ہے۔

وقت کاشت:۔ لوسرن کی بوائی کے لئے بہترین وقت 15 اکتوبر سے 15 نومبر تک ہے ۔
لوسرن کا ٹیکہ:۔ بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے پودے کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جا تی ہے اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ نصف لٹر پانی میں سو گرام چینی کے محلول میں جراثیمی پیکٹ ڈال کر آٹھ کلو گرام لوسرن کے بیج کے ساتھ اچھی طرح ملائیں۔ بیج کو ٹیکہ لگانے کے بعد سایہ میں خشک کر کے جلدی کاشت کریں کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکہ کی افادیت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ اگر کہیں ایسا ٹیکہ میسر نہ ہو اور اگر کسی کھیت میں لوسرن پہلی بار کاشت کی جا رہی ہو تو دو من فی ایکڑ لوسرن کی مفید جراثیم والی مٹی اس کھیت سے لا کر ڈال دی جائے جہاں پچھلے سال لوسرن کاشت کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یاد رہے کہ یہ مٹی بیمار شدہ کھیت سے نہ لی گئی ہو۔ شعبہ بیکٹیریالوجی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد سے لوسرن کے بیج کا ٹیکہ حاصل کر کے محکمانہ ہدایات کے مطابق استعمال کریں اس سے پودوں کی نائٹروجن بنانے کی صلاحیت بڑھ جانے سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔
کھادیں:۔ ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + آدھی بوری یوریا یا اڑھائی بوری نائٹروفاس + ایک بوری ایس ایس پی یا چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ + ایک بوری یوریا یا ایک بوری نائٹروفاس + ایک بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ + تین بوری ایس ایس پی فی ایکڑ بوائی کے وقت استعمال کریں۔ اس کے بعد ہر سال اکتوبر میں ایک تا ڈیڑھ بوری ڈی اے پی استعمال کریں۔

شرح بیج:۔ خالص، صاف ستھرا اور صحتمند بیج بذریعہ ڈرل یا کیرا 4 تا 5 کلو گرام فی ایکڑ بوائی کے لئے کافی ہے، ناقص بیج کا رنگ سرخی مائل بھورا جبکہ معیاری بیج کا رنگ زرد ہوتا ہے۔
طریقہ کاشت:۔ چارے کی بہتر پیداوار اور خالص بیج کے حصول اور جڑی بوٹیوں کی آسان تلفی کے لئے بہترین تیار شدہ وتر زمین میں قطاروں میں بذریعہ سنگل روکاٹن ڈرل کا شت کریں۔ بیج زیادہ گہرا نہیں جانا چاہیے ورنہ اگاؤ متاثر ہو گا۔ لائنوں کا فاصلہ ایک تا ڈیرھ فٹ رکھیں۔

آبپاشی:۔ فصل کو پہلا پانی بوائی کے تین ہفتہ بعد اور پھر باقی پانی حسب ضرورت دیں۔ اس فصل کی جڑیں زمین میں دور تک گہری چلی جاتی ہیں اور اس طرح یہ فصل پانی
کی کمی کو اچھی طرح برداشت کر لیتی ہے۔ برسات کے دنوں میں اسے پانی کی بالکل ضرورت نہیں رہتی۔ عام طور پر اسے فی کٹائی ایک پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور نسبتاً خشک علاقوں میں دو پانی درکار ہیں۔ موسم گرما میں چارے کی فصل کو پانی ہر15 تا 30 دن کے بعد لگائیں۔

جڑی بوٹیوں کی تلفی :۔ لوسرن کی فصل چونکہ سال ہا سال چلتی ہے لہٰذا اس میں گھاس اور جڑی بوٹیاں اگنے کی صورت میں فصل کو بیج کے لئے چھوڑنے سے پہلے قطاروں میں کاشتہ خراب فصل میں ہل چلا دیں۔ لوسرن کی بیج والی فصل کو کھبل اور آکاش بیل نقصان پہنچاتی ہیں ، ان کی تلفی کے لئے محکمہ زراعت کے عملہ سے مناسب زہر کا سپرے کریں تاکہ خالص، معیاری اور جڑی بوٹیوں سے پاک بیج کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔

بیج والی فصل کی کٹائی، گہائی اور سنبھال:۔ لوسرن کی فصل سے بیج حاصل کرنے کے لئے اس کی کٹائی وسط مارچ سے آخر مارچ تک بند کردیں۔ لوسرن کی بیج والی فصل کو بڑی احتیاط سے پوری طرح پکنے پر کاٹیں۔ بیج کی فصل کاٹنے کے بعد کھیت میں آبپاشی سے اس کی نشوونما دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔ لوسرن کا بیج چونکہ بہت قیمتی ہوتا ہے لہٰذا اس کی کٹائی، گہائی اور سنبھال پر خصوصی توجہ دیں۔ فصل کو کچا ہرگز نہ کاٹیں کیونکہ اس طرح ناقص بیج حاصل ہو گا۔ کٹائی صبح کے وقت کریں تاکہ بیج سے بھرپور پکی ہوئی ڈوڈیاں کم سے کم کھیت میں گریں اور بیج کا نقصان نہ ہو۔ زیادہ رقبہ پر کاشتہ بیج والی فصل کی کٹائی کمبائن ہارویسٹر سے کرائیں تو بہت بہتر ہو گا۔ بصورت دیگر فصل کو کاٹ کر کھیت میں بڑے بڑے گٹھے باندھ لیں اور خشک ہونے پر گہائی کر کے بیج کو خشک لیکن ہوا دار سٹور میں کپڑے کے تھیلوں یا پٹ سن کی بوری میں سنبھال کر رکھیں۔ ۔

جئی
’’ایس 2000 ‘‘ تحقیقاتی ادارہ چارہ جات سرگودھا کی منظور شدہ قسم ہے جو سرد چارے اور بیج کی زیادہ پیداوار کی حامل بہترین قسم ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ ہذا کی منظور شدہ قسم ’’پی ڈی 2 ایل وی 65 ‘‘ بھی بہترین پیداواری صلاحیت کی حامل ہے جو کہ چارے کے لئے کچھ پچھیتی کاشت ہوتی ہے۔، جئی کی این نئی قسم ’’سرگودھا جئی 2011 ‘‘ منظور ہو چکی ہے جو کہ ایس 2000 سے 9 فیصد زیادہ پیداوار کی حامل ہے۔

آب و ہوا:۔ جئی کی فصل سرد مرطوب آ ب و ہوا میں بہتر نشوونما کرتی ہے۔ یہ فصل خشکی کی متحمل نہیں ہو سکتی اگر آبپاشی کے لئے پانی میسر ہو تو اسے نسبتاًً گرم مرطوب آب و ہوا میں بھی کامیابی سے کاشت کیا جا سکتا ہے۔ جہاں گندم کاشت ہوتی ہے وہاں جئی بھی کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے۔

زمین اور اس کی تیاری :۔ بھاری زرخیز میرا زمین اس کی کاشت کے لئے موزوں ترین ہے۔ زمین کو تین چار دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو نرم اور بھربھرا کر لیں۔ اچھی طرح تیار کردہ ہموار زمین میں اس نشوونما یکساں اور بہتر ہوتی ہے البتہ سیم زدہ، نشیبی، کمزور اور ریتلی زمینیں اس کی کاشت کے لئے مناسب نہیں ہیں۔

شرح بیج اور وقت کاشت:۔ چارے والی فصل کیلئے 32 کلوگرام جبکہ بیج والی فصل کیلئے 16 تا 20 کلو گرام بیج فی ایکڑ کاشت کریں۔ بوائی کے لئے بیج خالص، صاف ستھرا اور صحتمند بیج ہونا چاہیے۔ کاشت کرنے سے پہلے بیج کو سفارش کردہ پھپھوندی کش زہر لگائیں اس سے بیج کی تمام ممکنہ بیماریوں کو کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ چارے کے لئے فصل کو حسب ضرورت شروع اکتوبر سے آخر نومبر تک جبکہ صرف بیج کے لئے فصل کو شروع دسمبر سے نصف دسمبر تک کاشت کریں ۔ شروع اکتوبر میں چارے کے لئے کاشتہ فصل کو 70 تا 75 دن کے بعد چارے کیلئے کاٹ کر اس کی پھوٹ سے بیج کی اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر ایک ہی کٹائی لینی ہو تو فصل 90 تا 100 دنوں میں بھرپور چارہ کیلئے تیار ہو جاتی ہے۔
طریقہ کاشت:۔ ایک ایک فٹ کے فاصلے پر لائنوں میں کاشت کرنے سے چارے اور بیج کی بھرپور پیداوار لی جا سکتی ہے ۔

آبپاشی:۔ چارے کے لئے جئی کی فصل کو راؤنی سمیت تین چار پانی درکار ہوتے ہیں۔ پہلا پانی بوائی کے تین ہفتہ بعد اور پھر حسب ضرورت پانی دیں۔ بیج والی فصل کو خصوصا گوبھ پر اور دوران عمل زرپاشی پانی کی خصوصی فراہمی زیادہ پیداوار کی حامل ہوتی ہے۔

برداشت:۔ چارے والی فصل سے باآسانی 700 من فی ایکڑ سبز چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، جبکہ بیج کی پیداوار 20 تا 25 من فی ایکڑ حاصل کی جا سکتی ہے۔ اگر فصل کو صرف بیج کیلئے کاشت کرنا ہو تو اسے شروع دسمبر سے 15 دسمبر تک کاشت کریں تاکہ اس کے گرنے کا امکان کم سے کم ہو جائے۔ صرف چارے کیلئے کاشت کردہ فصل کو 50 فیصد پھول آنے پر کاٹ دیں تاکہ بہتر پیداوار حاصل کی جا سکے۔

کھادیں: ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری یوریا + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا چار بوری سنگل سپر فاسفیٹ (18 فیصد) + ڈیڑھ بوری یوریا + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا پانچ بوری سنگل سپر فاسفیٹ (14 فیصد)+ ڈیڑھ بوری یوریا + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا ڈیڑھ بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ + ڈیڑھ بوری یوریا + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یاساڑھے تین بوری نائٹروفاس + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ بوائی کے وقت جبکہ پہلے پانی کے ساتھ ایک بوری یوریا یا دو بوری امونیم نائٹریٹ فی ایکڑ پہلے پانی کے ساتھ استعمال کریں

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More