تحفظ ماحولیات فورم ‘ ٹیکنالوجی پارک سمیت ارفع کریم آئی ٹی ٹیکنالوجی پارک قائم کرنے کی منظوری

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ہینڈ آؤٹ
university-of-agriculture-fفیصل آباد 07نومبر2013ء ( زرعی میڈیا ڈاٹ کام) فیصل آباد کے تمام تدریسی ‘ تحقیقی و انتظامی اداروں نے مشترکہ کاوشوں کے ذریعے شہر میں فوری طو رپر تحفظ ماحولیات فورم ‘ ٹیکنالوجی پارک سمیت ارفع کریم آئی ٹی ٹیکنالوجی پارک قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔اس حوالے سے فیصل آباد ریسرچ فورم کا غیرمعمولی اجلاس زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے نیو سینٹ ہال میں کمشنر فیصل آباد ڈویژن سردار محمد اکرم جاوید کی صدارت میں منعقد ہوا جس کے مہمان خصوصی ڈسٹرکٹ کوارڈی نیشن آفیسر نور الامین مینگل تھے ۔ کمشنر فیصل آباد ڈویژن سردار محمد اکرم جاوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہر مہذب معاشرے میں کم سے کم 20فیصد رقبے پر جنگلات موجود ہوتے ہیں جن کی وجہ سے شہروں کے درجہ حرارت اعتدال اور عوام کی صحت بہتر رہتی ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح شرمناک حد تک کم ہے جس کی وجہ سے عوام کی صحت اور معیار زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

انہوں نے شہر کے تمام تعلیمی‘ تحقیقی اور انتظامی اداروں پر زور دیا کہ انفرادی و اجتماعی کاوشوں کے ذریعے ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے شہریوں کیلئے مزید آسانیاں پیدا ہوں ۔ فورم سے افتتاحی کلمات میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے بتایا کہ ان کا ادارہ ملک میں متناسب زراعت کو فروغ دینے اور زرعی مداخل اور پانی کے منصفانہ استعمال کو رواج دینے پر کام کر رہا ہے تاکہ زرعی اجناس کی پیداواری لاگت میں کمی لاکر کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جا سکے۔ان کا کہنا تھاکہ یونیورسٹی کے انجینئرز وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی طرف سے صوبے میں ایک لاکھ بائیوگیس ٹیوب ویل نصب کرنے میں ٹیکنیکل معاونت فراہم کر رہے ہیں جبکہ وفاقی وزارت انفرمیشن ٹیکنالوجی کے آئی سی ٹی فنڈ کی وساطت سے سائبرایکسٹینشن کے ذریعے فرٹیلائزرماڈل کا میگا پراجیکٹ بھی آغاز پذیر ہونے جا رہا ہے

۔ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے خوردنی تیل کے حوالے سے سرسوں (براسیکاUAF-11)کی مختصر دورانئے اور چھوٹے قد کی ورائٹی متعارف کروادی ہے جسے فروغ دے کر خوردنی تیل کے برآمدی بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ ڈسٹرکٹ کوارڈی نیشن آفیسر نور الامین مینگل نے بتایاکہ ضلعی انتظامیہ لاہور کی طرز پر شہریوں کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کیلئے 100ملین روپے کی لاگت سے دلکش فیصل آباد پروگرام کا آغاز کر رہی ہے جس میں تمام سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے مرکزی شہراؤں کی تزئین و آرائش کا عمل آمدہ بہار تک مکمل کر لیا جائے گا جبکہ 50ملین روپے شہر کے ثقافتی ورثہ کی بحالی اور تحفظ پر خرچ کئے جائیں گے جس کیلئے یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات کی عملی شمولیت بھی انٹرنیز کی صورت میں یقینی بنائی جائے گی۔گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر ذاکر حسین نے بتایا کہ پانی کی فی کس دستیابی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے غریب ممالک کی فہرست میں شامل ہوچکا ہے لہٰذا پانی کے منصفانہ اور شعوری استعمال کے فروغ دینے کیلئے فوری طور پر گراؤنڈ واٹر اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جانا چاہئے۔

انہوں نے فیصل آباد ویمن یونیورسٹی کے رقبہ سے 100ایکڑ اراضی ٹیکنالوجی پارک کے قیام کیلئے مختص کا اعلان بھی کیا۔ایم ڈی واسا زاہد عزیز نے بتایا کہ ان کا ادارہ 88ملین گیلن پانی کے ساتھ شہر کے 50فیصد باسیوں کو صاف پانی مہیا کر رہا ہے جبکہ بدلے میں شہری اس سے تین گنا زیادہ پانی سیوریج کے صور ت میں ان کے سپرد کرتے ہیں جس میں سے صرف 10فیصد پانی کی ٹریٹمنٹ ممکن ہوپا رہی ہے۔انہوں نے شہر کی جامعات پر زور دیا کہ اس پانی سے توانائی کے حصول میں تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی رہنمائی کی جائے۔فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل محمد احمد رجوانہ نے انکشاف کیا کہ فیصل آباد کے زیرزمین پانی میں آلودگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے لہٰذا وہ جملہ مسائل کے خاتمے اور تحفظ ماحولیات کے حوالے اقدامات میں کمیونٹی کی شمولیت یقینی بنائیں گے۔

ڈائریکٹر فاسٹ چنیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب معروف نے بتایا کہ بھارت میں آئی ٹی انڈسٹری کی برآمدات معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں جس کی بنیادی وجہ وہاں ہر بڑے شہر میںآئی ٹی ٹیکنالوجی پارک کا متحرک کردار ہے لہٰذا پاکستان میں کراچی‘ اسلام آباد اور لاہور کے بعد فیصل آباد میں بھی ارفع کریم آئی ٹی ٹیکنالوجی پارک کا قیام فوری عمل میں لایا جائے تاکہ بڑے شہروں کے آئی ٹی انٹرپن یوررزاس شہر کو بھی اپنی سرگرمیوں کا حصہ بنائیں اور آئی ٹی کے ماہرین کو ملازمتوں کیلئے دوسرے شہروں کا رخ نہ کرنا پڑے۔ڈائریکٹر پیری ڈاکٹر محمد افضل نے بتایاکہ ایک درخت اپنے جملہ اوصاف کی وجہ سے بنی نوع انسان کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے فوائد دیتا ہے لہٰذا ہر شخص کو موزوں موسمی حالات میں شجرکاری مہم کا متحرک کردار بننا چاہئے۔انہوں نے بتایا کہ ششیم میں سوکھا پن کی بیماری کے خاتمہ کیلئے انہوں نے اس کے صحت مند پودوں کی کامیاب کلوننگ کے بعد لاکھوں پودوں کی نرسری قائم کر دی ہے جس کی پورے ملک میں شجرکاری کے ذریعے اس اہم درخت کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی تعدادکو نہ صرف روکا جا سکتا ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ممکن ہوگا۔ایڈیشنل کمشنر مہر شفقت اللہ مشتاق نے تقریب کی نقابت کے فرائض ادا کئے۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More