Food for Thought :ذرا سو چیں

Muneeza Majid

food-crisis-in-pakistan-hot-topicزرعی میڈیا ڈاٹ کام: دنیا جتنی بھی ترقی کر لے اس کا ناطہ زمین سے نہیں ٹوٹ سکتا ۔کیونکہ اس میں کشش ہے جو ہمیں اپنی جانب کھینچتی ہے ہم اسی سے لیتے ہیں اسی کو دیتے ہیں اسی پر مرتے ہیں اسی سے جیتے ہیں اور خوش قسمت ہیں وہ سر سبز اور شاداب علاقے جو اپنی زمین سے خوراک پیدا کرتے ہیں ا ن خوش قسمت ملکوں میں سے ایک ملک پاکستان بھی ہے جس کے جس علاقے میں جو لگاؤ وہ ہی اُگ آتا ہے ۔شمال سے جنوب تک پھل ، پھول ،سبزیاں ،دالیں اور اناج کیا اس ملک میں نہیں اُگتا ۔ پھر بھی کسی کے پاس روٹی نہیں تو کسی کے پاس دال نہیں اور کوئی ان دونوں سے محروم ہے کتنی عجیب سی بات ہے کہ چار موسموں میں چونسٹھ اجناس پیدا کرنے والے ہم لوگ خود دانے دانے کو ترس رہے ہیں یہ کیا ماجرہ ہے ایسا کیوں ہے؟ اور کب تک رہے گا؟ اسی تجسس نے ہمیں اس راہ پر ڈالا ۔اس کھوج میں ہم پر جو کھلا وہ ان حقائق سے بالکل مختلف تھا کہ پاکستان چاول کی پیدوار میں دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے تو کپاس کی پیداوار میں تیسرے نمبر پر ۔گندم میں خود کفیل ہے اور کئی پھلوں کی پیداوار میں دوسرے ملکوں کی کفالت کر سکتا ہے اس بات میں کتنی حقیقت ہے اس کا اندازہ اس بات سے ہی ہو جاتا ہے کہ ہمارا کسان غربت کے ہاتھوں فاقوں تک پہنچا ہوا ہے جو ملک دنیا میں پیداواری حساب سے دوسرے تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہوں وہاں کے کسان جیتے جی نہیں مرتے۔ ۔

ہمارے کسان کے پاس ہے کیا وراثت میں ملی ہوئی کچھ زمین اور تجربہ جو اسے دو وقت کی روٹی تو دیتا ہے لیکن خوشحالی نہیں دیتا ۔کیونکہ نہ اسے خالص بیج ملتا ہے نہ کھاد اور اس پر پیدا ہونے والی بیماریاں نقلی ادویات سے رہی سہی فصل کو بھی تباہ کر جاتی ہیں ۔ہمارے بے چارے کسان کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اسے اپنی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی بھی نہیں مل پاتا ۔بجلی ہو گی تو موٹریں چلیں گی بجلی کی بجائے ڈیزل کا استعمال جو مہنگا سے مہنگا ترین ہو رہا ہے ۔یہ تو ہمارے کسان کی پیداواری چکی ہے جس میں وہ پس کر باہر آتا ہے تو اس کے بعد اس کی پیداوار کو سونے کے بھاؤ لینا چاہیے ۔اور ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ پیداوار خریدار تک سونے کے بھاؤ ہی پہنچتی ہے ۔

لیکن اس کو کسان سے مٹی کے بھاؤ لے کر سونے کے بھاؤ بیچنے والے ایک نہیں دو نہیں بلکہ بیسیوں لوگ ہیں اصل پیسہ مڈل مینوں کی جیبوں میں چلا یاتا ہے اور پیدواری اجناس بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں لٹ جاتے ہیں ۔ ہمارے کسان پر یہ ظلم کب سے ہو رہا ہے اورکب تک ہوتا رہے گا اس سوال کا جواب دینا آسان نہیں ہے ۔ظلم ہو رہا ہے ہوتا ہی جا رہا ہے کیونکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ کسان کسی فورم پر یکجا نہیں ہو سکتے یہ ایک الگ بحث ہے کہ فرقوں نسلوں اور طبقوں میں بٹے ہوئے ہم لوگ کسی مشکل میں ایک ساتھ کھڑے نہیں ہو تے۔مزید المیہ یہ ہے کہ باقی کمیونٹی کے لوگ اپنے حقوق کے لیے پھر بھی کو ئی پلیٹ فارم بنا ہی لیتے ہیں لیکن ہماری سب سے بڑی فارمنگ کمیونٹی کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں ہے جو اس کے خلاف ہونے والے اس ظلم کو ظلم سمجھے اور اس کے خلاف لڑے ۔یہاں کئی سوالوں کے ساتھ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اخبار ہوں یا رسائل یا ٹی وی اور ایف ایم کے چینلز ۔

پاکستان کی اس سب سے بڑی کمیونٹی کے لیے گنے چنے اخبار رسائل اور چیلز ہی نظر آتے ہیں ہمیں فیشن ، سیاست ، سماج اور کھیل ویل پر تو بہت کچھ دیکھنے اور پڑھنے کو ملتا ہے لیکن لاکھوں خرچ کر کے چھپنے والے اخبارات اور رسائل میں ہمارےغریب کسان کو کوئی نہیں پوچھتا ۔۔۔ آخر کیوں ؟؟ ایسے اندھیرے میں فارمنگ ریوولیوشن ٹیم چند سر پھرے لوگوں کا ایک گروپ ہے جو اس تمنا کے ساتھ کہ ہماری کاوش سے کوئی ایک چولہا ہی جلے کسانوں کی راہنمائی کے لیے پچھلے تین سال سے فری ایس ایم ایس چینل کے ذریعے کسان کے گھر گھر تک پہنچ رہا ہے ہم اپنا ماہنامہ اپنے ہزاروں ممبران کو بذریعہ ڈ اک بھیج رہے ہیں ۔جیسے جیسے ماہنامہ فارمنگ ریوولیوشن کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے ہمارے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں ہم اپنے کسان بھائی سے اس کی کوئی قیمت نہ لینا چاہتے ہیں نہ لیں گے ہماری ہر پاکستانی سے درخواست ہے کہ پاکستان کی اس بنیادی کمیونٹی کا ساتھ دینے کے لیے ہمارا ہاتھ پکڑیں ۔ ہمارا نہیں بلکہ اس کسان کا ساتھ دیں جس کا اس زرعی ملک میں کوئی پُرسان حال نہیں ۔اس کے لیے آپ کی یہ مدد اس روشنی سے کم نہیں ہے جو کسی مایوس کے دل کا دیا جلائے گی۔جب لوگوں کے دیے ہوئے فنڈ سے شوکت خانم جیسا بڑا کینسر ہسپتال چل سکتا ہے ۔جب ایدھی ویلفیئر سینٹر کام کر سکتے ہیں تو ہمارے کسان کے لیے ایک پلیٹ فارم کیوں نہیں بن سکتا جس کی ابتداء فارمنگ ریوولیوشن ٹیم نے کر دی ہے آپ کی مزید راہنمائی کے لیے ہمارا فری ایس ایم ایس چینل نمبر نیچے موجود ہے

Hot Topics, Food for Thought, ذرا سو چیں

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

Hot Topics, Food for Thought, ذرا سو چیں

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More