وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پروفیسر احسن اقبال نے قومی زرعی تحقیقاتی سنٹر اسلام آباد میں قومی اور بین الا قوامی ورکشاپ

اسلام آباد(زرعی میڈیا ڈاٹ کام) وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پروفیسر احسن اقبال نے قومی زرعی تحقیقاتی سنٹر اسلام آباد میں قومی اور بین الا قوامی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق وہ ہو

جس سے مسائل حل ہو ں اور تحقیق برائے نتائج ہوں۔ انہوں نے کہا کہ باوجود اسکے کہ زراعت میں بڑھوتی ہوئی ہے مگر جنوبی ایشیاء میں غربت میں کمی نہیں آسکی۔انہوں نے کہا کہ نوجوان جنوبی ایشیاء کی تعمیر و ترقی کے لئے مثالی اور فعال کردار ادا کر یں گے اور معاشی استحکام میں انکا بہترین رول ہو گااور آنے والے وقت میں نوجوان نسل ہتھیار نہیں بلکہ قوموں کی ترقی کے لئے انقلاب برپا کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ایشیاء کے اس خطے میں امن قائم کرنے میں دنیا کی خدمت کر رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ انٹرنیشنل کمیونٹی ہمارے حالات سمجھے اور ہمارے ساتھ ملکر تحقیق کے نئے پراجیکٹس بنائے جس سے ہماری GDP بہتر ہو اور ملک معاشی لحاظ سے اپنے قدموں پر کھٹرا ہو سکے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ ملکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے مگر اسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں تحقیق کے نتیجے میں بہتر چیزیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پیدا کر رہے ہیں۔ اللہ نے پاکستان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے جس میں چار قسم کا موسم، بہترین زمین اور وسائل ہیں جس سے دنیا کی ہر فصل اور بہترین اقسام کے پھل یہاں پیدا کر رہا ہے۔ مگر ہماری بد قسمتی سے وہ تمام اقسام خام مال کی صورت میں بیرون ملک روانہ کر دی جاتی ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ان کو خام مال کے طور پر باہر بھیجنے کی بجائے ان میں value addition کریں اور مزید بہتر چیزیں بنا کر export کریں ۔ جیسے دبئی میں کھجور کی value کر کے بیچا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ 50% پاکستانی آبادی 20 سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے اس نوجوان نسل کو استعمال کرنے کے لئے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اگر ہم ایسا نہ کر سکے تو یہی نوجوان نسل ملک کی تباہی کا باعث بنے گی اور اگر اس کو صیح طور سے استعمال کیا جائے تو یہی نوجوان ملک میں انقلاب کا پیش خیمہ ہونگے ۔ اس نوجوان نسل کا 70% حصہ دیہات میں رہتا ہے اس لئے دیہات میں زراعت کی بیس پر انڈسٹری لگانی چاہیے جو زرعی پراڈکٹ کو develop کرے اور نوجوان نسل کا بہتر استعمال ہو سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے دفاتر انٹرنیشنل رپورٹس سے بھر ے ہوئے ہیں لیکن یہ صرف دفاتر کی ہی زینت بنے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان رپورٹس کا بہتر استعمال کرتے ہوئے ان کی کریں اور اپنی پالیسیوں کو ان کے مطابق ترتیب دیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر افتخار احمد ، چئیرمین پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے کہا کہ اس ملک کی 67 فیصد آبادی زراعت پر انحصار کرتی ہے اور اسی شعبہ زراعت کا ملک کی GDP میں 20% حصہ ہے اور 44 % لیبر فورس زیرِ استعمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملکر اپنے علم اور تجربات سے نئی نئی دریافت کو آپس میں share کرنا ہو گا تا کہ اس شعبہ میں ترقی حاصل ہو سکے۔ ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ نوجوان نسل کو تربیت کی اشد ضرورت ہے اور یہی نسل مسائل پر قابو پانے اور جنوبی ایشیاء میں زراعت کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو گی۔

اس موقع پر ڈاکٹر سائمن ہیرن

DG ، ڈاکٹر راج ایس پاروڈا ایگزیکٹو سیکرٹری (APPARI) اور ڈاکٹر عظیم خان DG

این اے آر سی نے شُرکاء سے خطاب کیا۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More