سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار برائے فوڈ سیفٹی اور نیوٹریشن کے شعبوں میں درپیش مسائل: وائس چانسلر

university-of-agriculture-faisalabad-handout23oct20131
فیصل آباد 23 اکتوبر ( زرعی میڈیا ڈاٹ کام) پاکستان حلال فوڈ کے عالمی معیارات اپنا کر اپنی برآمدات میں بھرپور اضافہ یقینی بنا سکتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے سہ روزہ بین الاقوامی سیمینار برائے فوڈ سیفٹی اور نیوٹریشن کے شعبوں میں درپیش مسائل کے اختتامی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر حلال فوڈ کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لئے فوڈ سیفٹی کے ضابطوں کی پاسداری یقینی بنا کر عالمی مارکیٹ میں پاکستان اپنا بھرپور حصہ شامل کر سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے ریورس انجینئرنگ اور ویلیوایڈیشن نظام کی تشکیل کے لئے سائنسدانوں کو آگے بڑھنا ہو گا۔ ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد جہاں ایک طرف فوڈ ٹیکنالوجسٹ پیدا کر رہی ہے وہاں فوڈ انڈسٹری کے لئے فوڈ انجینئرنگ ڈگری پروگرام کا آغاز کر کے تربیت یافتہ افرادی قوت بھی تیار کرنے میں صف اول کی جامعہ کا اعزاز رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں ایچ ای سی سے منظورشدہ 7۔ ریسرچ جرنل شائع ہو رہے ہیں ان میں سے تین ایمپکٹ فیکٹر کے حامل ہیں جبکہ ملک کا سب سے زیادہ ایمپکٹ کا حامل ریسرچ جریدہ بھی اسی یونیورسٹی سے شائع ہوتا ہے۔

ان سے پہلے ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر فقیر محمد انجم نے کہا کہ یونیورسٹی میں جہاں ڈیری ٹیکنالوجی، غذائیات کے امتزاج اور فورٹی فائیڈ فوڈ پر کام کیا جا رہا ہے وہاں حلال فوڈ کا تحقیقی مرکز قائم کرنے کے لئے کوششیں بروئے کار لائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوڈ انڈسٹری کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ بھرپور مہارت کے حامل سائنسدان تیار کر رہا ہے جنہیں بین الاقوامی اور ملکی فوڈ انڈسٹری میں خدمات سرانجام دینے کے مواقع ملتے ہیں۔ تھائی لینڈ کے حلال فوڈ ریسرچ سنٹر کے سائنسدان ڈاکٹر ابراہیم نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں فوڈ کے ساتھ ساتھ سماجی حوالے سے حلال مصنوعات کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے تھائی لینڈ بھرپور کردار ادا کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں حلال مصنوعات اور حلال فوڈ کی ڈیمانڈ میں گذشتہ چند سالوں کے دوران بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ برائے فوڈ پشاور کے سائنسدان ڈاکٹر اورنگزیب نے حتمی سفارشات پیش کرتے ہوئے نیوٹریشن کے حوالے سے اہم نکات میں بتایا کہ ماں اور بچے کی صحت کو یقینی بنانے کے لئے حکومتی سطح پر موثر کوششیں بروئے کار لائی جائیں جبکہ آئرن، وٹامن اے اور زنک کی کمی پر قابو پانے کے لئے خوردنی تیل اور دیگر غذائی اشیاء میں فورٹی فیکیشن کے عمل کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مائیکرونیوٹریئنٹ کی کمی کے لئے بھی اسی قسم کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سیمینار میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سکول کی سطح پر نیوٹریشن کی تعلیم دی جائے اور پالیسی سازی و عمل درآمد کے لئے ایک سنٹرل باڈی کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

سیمینار میں اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کا قیام عمل میں لایا جائے اور پاکستان فوڈ اینڈ نیوٹریشن کونسل کی تشکیل بھی یقینی بنائی جائے۔ ڈاکٹر اورنگزیب نے فوڈ سیفٹی کے حوالے سے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرز پر تنظیمیں قائم کی جائیں اور پنجاب پیور فوڈ قوانین 2011ء کی طرز پر قانون سازی کا اہتمام کیا جائے۔ سیمینار میں مطالبہ کیا گیا کہ تمام لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کوششیں کی جائیں اور مارکیٹ میں دستیاب منرل واٹر کو ارزاں اور عام آدمی کی پہنچ تک رسائی کے لئے ضوابط بنائے جائیں۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر جاوید عزیز اعوان نے ملکی اور بین الاقوامی مندوبین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ ان سفارشات کے ذریعے اعلیٰ سطح پر فوڈ سیفٹی اور نیوٹریشن کے لئے پالیسی سازی میں مدد مل سکے گی۔

زرعی یونیورسٹی, زرعی, University of Agriculture Faisalabad (UAF), Food security, Nutrition,
Copy Rights @ ZaraiMedia.com
زرعی یونیورسٹی, زرعی, University of Agriculture Faisalabad (UAF), Food security, Nutrition,

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More