فوڈ سیکورٹی کے ساتھ ساتھ فوڈ سیفٹی پر بھرپور توجہ دینا ہو گی: فلپ تھائی باؤد

university-agriculture-faisalabad-food-security-pakistanفیصل آباد 22۔اکتوبر (زرعی میڈیا ڈاٹ کام) پاکستان میں متعین فرانس کے سفیر فلپ تھائی باؤد نے کہا ہے کہ 21ویں صدی کے ترقیاتی اہداف اور غربت کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے فوڈ سیکورٹی کے ساتھ ساتھ فوڈ سیفٹی پر بھرپور توجہ دینا ہو گی۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے زیراہتمام سہ روزہ بین الاقوامی کانفرنس برائے ’’فوڈ سیفٹی‘‘ کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مربوط کاوشیں بروئے کار لاتے ہوئے فوڈ سیکورٹی اور فوڈ سیفٹی جیسے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جا سکتے ہیں۔ فرانسیسی سفیر نے کہا کہ پاکستان بھرپور ثقافت کا حامل ہے اور خطے کے ممالک کو اپنی ثقافتوں کے تحفظ کے لئے عہدحاضر کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو بین الاقوامی درجہ بندی میں 98ویں اور ایشیائی رینکنگ میں 20ویں درجہ بندی کے حصول پر مبارکباد دیتے ہوئے ادارے کی تعلیمی و تحقیقی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے یونیورسٹی کی لائبریری میں فرنچ لینگوئج سنٹر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر سنٹر کا افتتاح بھی کیا۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت ساڑھے تین کروڑ آبادی کے لئے ملک میں غلے کی فراہمی ایک تشویشناک مرحلہ تھا اب 18کروڑ سے زائد آبادی کے لئے زرعی سائنسدانوں نے مختلف اجناس کی صورت میں بھرپور پیداوار کی حامل فصلیں تیار کی ہیں جو کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ملکوں کے لئے بھی برآمد کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دور میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک کا انتظام سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ علاقوں میں لوگوں میں وٹامن کی کمی کے ساتھ ساتھ متناسب خوراک کا شعور نہ ہونے کی وجہ سے صحت عامہ کی صورت حال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اس مقصد کے لئے عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ وفاقی سیکرٹری پلاننگ حسن نواز تارڑ نے کہا کہ ملک کی 58فیصد آبادی غذائی عدم استحکام کی شکار ہے اور آنے والے سالوں میں اس کے حجم میں اضافہ متوقع ہے جس کے لئے سائنسدانوں کو پالیسی ساز اداروں کے ساتھ مل کر کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پانچ سال سے کم عمر 44فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں جو کہ ایک تشویشناک امر کی نشاندہی کرتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر فقیر محمد انجم نے کہا کہ انسٹی ٹیوٹ میں قائم کئے جانے والے ٹیکنالوجی ٹرانسفر سنٹر میں آئس کریم، پیسچرائزڈ دودھ اور دہی کے ساتھ ساتھ پنیر چھوٹے پیمانے پر فرانس کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے جس سے ملک کے فوڈ انڈسٹری سے وابستہ شعبہ جات کو تربیت یافتہ افرادی قوت میسر آ سکے گی۔ تقریب سے برونوویلن زولو چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر یونیڈو، علی عباس قزلباش پروگرام آفیسر ٹی آر ٹی اے اور ڈاکٹر طاہر ظہور نے بھی خطاب کیا۔

فوڈ سیکورٹی, Food security, University of Agriculture Faisalabad (UAF),

Copy Rights @ ZaraiMedia.com
فوڈ سیکورٹی, Food security, University of Agriculture Faisalabad (UAF),

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More