چنے کی وقت پر کاشت

چنا کی کاشت اور دیکھ بھال
چنا کی کاشت اور دیکھ بھال

لاہور:زرعی میڈیا ڈاٹ کام: کاشتکار چنے کی کامیاب فصل کے حصول کیلئے کاشت اکتوبرمیں مکمل کرلیں۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق چنے کی وقت پر کاشت کی گئی فصل زیادہ پیداوار دیتی ہے جبکہ پچھیتی کاشت سے فصل کی نشوونما کم اورپیداوار متاثر ہوتی ہے۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ چنے کی کاشت کے لئے عام جسامت کے دانوں والی اقسام کا 30کلوگرام صاف ستھراخالص اور صحتمند بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے پودے کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے۔ ایک ایکڑ کیلئے بیج کو ٹیکہ ) پیکٹ پر درج مقدار( لگانے کے لئے تین گلاس یعنی 750 ملی لیٹر پانی میں 150 گرام )تقریبًا اڑھائی چھٹانک( شکر ٗ گُڑ یا چینی ملا کر شربت کی صورت میں بیج پر چھڑکیں۔ پھر اس میں ٹیکہ ملا کر بیج اور ٹیکہ کو اچھی طرح ملائیں۔بیج کو سایہ میں خشک کرنے کے بعد جلدی کاشت کریں۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکہ کی افادیت بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ یہ ٹیکہ قومی زرعی تحقیقاتی ادراہ اسلام آباد (NARC) ایوب زرعی تحقیقاتی ادراہ(AARI) فیصل آباداور نبجی(NIBGE) جھنگ روڑ فیصل آباد سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ بارانی علاقوں میں ریتلی اور نرم زمین میں پہلے سے محفوظ کردہ وتر میں کاشت بذریعہ ڈرل یا پور کریں تاکہ بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ) اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15 سینٹی میٹر (6 انچ ) ہونا چاہئے۔اگر کاشت سے پہلے بیج کو 6سے 8گھنٹے بھگو کر تھوڑی دیر کے لئے خشک کر کے بیجائی کی جائے تو اس سے اگاؤ بہتر ہو گا۔چنے کی فصل کو نائٹروجنی کھاد کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ البتہ فاسفورسی کھاد کے استعمال سے دانے موٹے اور زیادہ تعداد میں بننے سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔بارانی علاقے جہاں مناسب وتر موجود ہو وہاں ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ کاشت کرتے وقت استعمال کر یں۔چنے کی فصل کو پیازی ، باتھو ، چھنکنی بوٹی،لیہلی،رُت پھلائی ، دُمبی سٹی اور ریواڑی نقصا ن پہنچاتی ہیں۔زرعی ماہرین کے مشورہ سے ان کو کنٹرول کریں۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More