ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کی جانب پیش رفت، ایک سراب ہے

ایشیا اور پیسیفک ممالک کی اقتصادی اور سماجی رابطوں کی تنظیم (ای ایس سی اے پی) کے زیراہتمام ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کے حوالے سے چھبیس اگست کو ہونے والی ایک کانفرنس کا
ایشیا اور پیسیفک ممالک کی اقتصادی اور سماجی رابطوں کی تنظیم (ای ایس سی اے پی) کے زیراہتمام ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کے حوالے سے چھبیس اگست کو ہونے والی ایک کانفرنس کا

سرکاری ہسپتال کے جنرل وارڈ میں نادرہ بیڈ کا سہارا لیے، جھک کر اپنی ذاتی اشیاء جن میں کنگھی، مگ، اور کچھ دوائیں شامل تھیں، ایک پلاسٹک بیگ میں جمع کررہی تھیں۔

صبح سویرے ہی ان کی ہسپتال سے چھٹی ہوگئی تھی، اور وہ اس وقت سے اپنے شوہر کا انتظار کررہی تھیں۔ان کا گھر یہاں سے سات گھنٹے کے فاصلے پر تھا، اور وہ چاہتی تھیں کہ سورج غروب ہونے سے قبل اپنے گھر پہنچ جائیں۔ جب میں نے ان سے ایک سوال پوچھا تو وہ میری فکرمندی کے جواب میں انہوں نے کمزوری کے سبب محض مسکرانے پر اکتفا کیا۔

انہیں ولادت کے بعد پیدا ہوجانے والی پیچیدگی کے سبب ایک ضروری آپریشن کے لیے میرپورخاص سے کراچی لایا گیا تھا، یہ سہولت ان کے شہر میں دستیاب نہیں تھی۔

ایک نرس نے ڈان کو بتایا کہ ستائیس برس کی نادرہ، چار لڑکیوں کی ماں ہیں، جن کی عمریں آٹھ سال سے لے کر پانچ ہفتوں تک کی ہیں، وہ اسکول کبھی نہیں گئیں۔ اور مزید یہ کہ وہ ان خوش قسمت خواتین میں شامل ہیں، جن کا خاندان ان کی ضرورت کے مطابق انہیں علاج معالجہ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔

اگلے ہفتے وزیراعظم نواز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 68ویں اجلاس سے خطاب کرنے جارہے ہیں، اگرچہ یہ لازمی نہیں ہے، لیکن توقع یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک وہاں ملینیئم ڈویلپمنٹ پروگرام کے اہداف (ایم ڈی جی) کے حوالے سے اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان نے اس حوالے سے کوئی تیاری کر رکھی ہے؟

اس حوالے سے شک وشبہہ پیدا ہونے کی کافی ساری وجوہات موجود ہیں۔

تمام منصوبوں کے باوجود برسوں گزرجانے کے بعد پاکستانی ریاست اس قابل نہیں ہوسکی ہے کہ معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے ایک بنیادی سماجی ڈھانچے کی تشکیل کے چیلنج سے نمٹ سکے۔ مثال کے طور پر زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق طبی سہولیات میں بہتری پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے جو  اعداد و شمار دستیاب ہیں وہ چھ سال پرانے ہیں، لیکن ان سے بھی حقائق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کی کارکردگی کی رپورٹ کے مسودہ جو ابھی تک فائنل نہیں کیا جاسکا ہے، میں دیئے گئے اعداد وشمار کے مطابق 2006-07ء کے دوران ہر ایک لاکھ بچوں کی پیدائش میں سے 276 بچے مردہ پیدا ہوتے تھے، اس شرح میں کمی کا ہدف  2015ء تک اسے  140 تک لانا تھا۔اس رپورٹ کا مسودہ ڈان کو پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے مہیا کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے آن لائن دستیاب رپورٹ کے خلاصے کے مطابق پاکستان ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کے تمام اہداف سے پیچھے ہے۔ لیکن ہماری قیادت کی توجہ اس جانب سے نہیں ہٹتی کہ وہ اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں اپنے وفد میں لوگوں کی بڑی تعداد کو لے کر جائیں، اور ان کی توجہ نہیں جاتی تو اس بات پر کہ ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کے اہداف کے حصول کے لیے کیا کیا جانا چاہیئے۔

سینیئر ماہر معاشیات شاہد نعیم نے بذریعہ ٹیلی فون اسلام آباد سے ڈان کو بتایا کہ ”اس سال اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس 22 ستمبر کو شروع ہوگا، لیکن ملکی رپورٹ کو حتمی  صورت دینے ے لیے مزید وقت درکار ہوگا، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یقینی طور پر صوبائی حکومتوں سے رجوع کرنا ضروری ہوگا کہ قومی صحت اور تعلیم کے شعبے صوبوں کے پاس ہیں اور ان سے متعلقہ اعدادوشمار صوبے ہی فراہم کرسکتے ہیں، ہم اس رپورٹ کو شایع کرنے سے پہلے ان کے فراہم کردہ اعدادوشمار شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ کارکردگی کی رپورٹ کا مسودہ ستمبر کے دوسرے ہفتے کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ارسال کردیا گیا ہے،اور یقیناً یہ رپورٹ اگلے ہفتے وزیراعظم کے دورے کے آغاز سے پہلے تیار ہوجائے گی۔

کارکردگی کی اس رپورٹ کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان نے عہد کیا ہے کہ وہ 2015ء غربت کو 13 فیصد تک کم کرے گا۔ اس حوالے سے اس مسودے میں تحریر ہے کہ :

”غربت کو ناپنے کے لیے کوئی متفقہ تعریف موجود نہیں ہے، غربت کے سرکاری تخمینے اور پاکستان کے سماجی اور معیار زندگی کے پیمانے کے سروے (پی ایس ایل ایم) سے ظاہر ہوتا ہے کہ غربت کے اثرات اپنے ہدف کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔ تخمینے کے طریقہ کار میں بعض تیکنیکی اختلافات کی وجہ سے پاکستان 2007-08ء کے دوران غربت سے متاثرہ لوگوں کی کل تعداد پیش نہیں کرسکا تھا۔“

اس مسودے میں غربت میں کمی کا فنڈ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھی ذکر کیا گیا ہے، لیکن ان پروگراموں کے توسط سے ملک میں ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کی سمت کیا پیش رفت ہوسکی، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے۔

ایک سینیئر آفیسر نے کہا کہ یہ وضاحت کا یہ طریقہ کار خود کو بچانے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے، غربت کے حوالے سے اعدادوشمار یا تو جمع ہی نہیں کیے گئے ہیں، یا پھر شرمندگی سے بچنے کے لیے اسے عام کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔

اسی طرح شوکت عزیز کے وزارتِ عظمیٰ کے دور میں حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والے ایک اقتصادی ماہر کا کہنا بھی یہی تھا کہ ”اس مسودے کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انتہائی عجلت میں تیار کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا دستاویزی ثبوت ہے کہ اربابِ اقتدار اپنے غریب عوام اور ان کے مسائل کے حوالے سے کیا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

لیکن موجودہ حکومت کی اقتصادی ماہرین کی ٹیم میں شامل ایک سینیئر رکن نے ترقیاتی مقاصد کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت میں کمی کا الزام ماضی کی حکومتوں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ زیادتی ہوگی کہ تین ماہ پرانی حکومت پر گزشتہ 13 برسوں کی ناکامیوں کی ذمہ داری عائد کی جائے۔“

ملینیئم ڈویلپمنٹ گول کے حوالے سے پاکستان کے عہد کو پورا کرنے کے لیے ان تیرہ سالوں میں سے آٹھ سال تک ملک پر جنرل مشرف کی حکمرانی تھی، اس کے اگلے پانچ سال پیپلزپارٹی کی قیادت میں مخلوط حکومت نے اس کو دیکھا۔ کسی شک و شبہہ کے بغیر انہیں اس ضمن میں کوتاہی کاذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ اور مسلم لیگ نون نے اپنے 110 صفحات کے منشورکے صرف دو نکات میں میلینئم ڈویلپمنٹ گول کا حوالہ دیا ہے، یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ اس نے اسے اپنی اقتصادی حکمت عملی کا حصہ بنالیا ہے۔ ذرائع ڈان

Published in ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More