پیاز کی پنیری کی کھیت میں منتقلی

پیاز کی پنیری کی کھیت میں منتقلی
پیاز کی پنیری کی کھیت میں منتقلی

September 18, 2013

سبزیاں انسانی غذا کا اہم جزو ہیں۔ ان میں وہ تمام غذائی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو بہت سی دوسری خوردنی اجناس میں موجود نہیں ہوتے لہٰذا یہ انسانی جسم کو ضروری اجزاء مثلاً حیاتین، نمکیات اور طاقت کے ضروری حرارے مہیا کرتی ہیں۔ پیاز کا شمار قدیم ترین سبزیوں میں ہوتا ہے۔ پیاز خون کی شریانوں میں جمع ہونے والی چربی کو تحلیل کرتا ہے اور انسانوں کو دل کے مہلک امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ پیاز میں معدنی نمکیات وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں اس کا استعمال انسان کو گرمی کے نقصان دہ اثرات سے بچائے رکھتا ہے۔ کاشتکار حضرات پیاز کی کاشت کو فروغ دے کر نہ صرف اپنی زرعی آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ اس کی برآمد سے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے۔

وقت کاشت و زمین کی تیاری:۔ خزاں کی فصل کیلئے جولائی میں کاشتہ پنیری ماہ ستمبر میں کھیت میں منتقل کی جاتی ہے۔ پیاز کی بہتر پیداوار کے حصول کیلئے پنیری کو بروقت کھیت میں منتقل کر دیں۔ پنیری کی کھیت میں منتقلی کیلئے زمین کی تیاری کے لئے پہلے مٹی پلٹنے والا ہل چلائیں اور بعد میں دو مرتبہ کلٹیویٹر چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیں۔ کاشت سے پہلے 12-10 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد فی ایکڑ کے حساب سے ڈالیں اور اس میں 20 کلوگرام یوریا ملا کر زمین کو پانی لگا دیں۔ وتر آنے پر زمین کو ہل چلا کر سہاگہ سے نرم اور ہموار کر کے چھوڑ دیں تاکہ جڑی بوٹیاں اگ آئیں۔ جڑی بوٹیاں اگنے کے بعد دوبارہ ہل چلا کر زمین کو کھلا چھوڑ دیں اس سے ایک تو جڑی بوٹیاں تلف ہو جائیں گی اور دوسرے دھوپ لگنے سے زمین سے کئی بیماریوں کے جراثیم بھی ختم ہو جائیں گے۔

کھادوں کا استعمال:۔ کیمیائی کھادوں کی مقدار کا تعین کرنے سے پہلے زمین کا تجزیہ کروائیں۔ اگر زمین کا تجزیہ نہ کروایا جا سکے تو اوسط زرخیز زمین کیلئے بوقت بجائی ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا چار بوری ایس ایس پی + آدھی بوری یوریا + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ یا دو بوری نائٹروفاس + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ۔ پنیری کی منتقلی کے ایک ماہ بعد آدھی بوری یوریا یا ایک بوری امونیم سلفیٹ، آدھی بوری یوریا یا ایک بوری امونیم سلفیٹ، پونی بوری نائٹروفاس۔ پیاز بنتے وقت ایک بوری امونیم سلفیٹ یا آدھی بوری یوریا، ایک بوری امونیم سلفیٹ یا آدھی بوری یوریا، پونی بوری نائٹروفاس فی ایکڑ استعمال کریں۔
طریقہ کاشت:۔ پنیری کو کھیت سے وترحالت میں اس طرح اکھاڑیں کہ اس کی جڑیں بالکل نہ ٹوٹیں۔ پودے کھیلیوں کے دونوں طرف 10 سینٹی میٹر کے فاصلہ پر لگائیں اور کھیت کی آبپاشی کر دیں۔

نئی ٹیکنالوجی:۔ پیاز سے نفع کمانے کے لئے نومبر کے دوسرے ہفتہ میں چار کلوگرام بیج سے دس مرلہ جگہ پر نرسری کاشت کریں۔ مئی کے آخر تک اسی جگہ کھڑی نرسری سے چھوٹے چھوٹے پیاز تیار ہو جاتے ہیں۔ مئی میں اس سے بننے والے چھوٹے چھوٹے پیاز اکھاڑ لیے جائیں اور ان کو ہوادار بوریوں میں ڈال کر تین ماہ تک ہوادار کمرے میں سٹور کر لیں۔ مون سون کی بارشوں کے دوران یعنی اگست کے پہلے ہفتہ میں ان کو 75 سینٹی میٹر کی کھالیوں کے دونوں طرف تین چار انچ کے فاصلہ پر کاشت کر دیں۔ منتقلی کے ایک دن بعد اس پر مناسب جڑی بوٹی مار زہر کا سپرے کریں۔ یہ فصل پیاز کی قلت کے دوران یعنی نومبر میں بطور سبز پیاز اور دسمبر

میں بطور خشک پیاز تیار ہو جاتی ہے۔ اس فصل کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھنا، مٹی چڑھانا اور ایک بوری پوٹاش ڈالنا بے حد ضروری ہے۔

جڑی بوٹیوں کی تلفی:۔ پیاز کی فصل میں انواع و اقسام کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ پیاز کی فی ایکڑ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے جڑی بوٹیوں کی تلفی بہت ضروری ہے۔ پودوں کی کھیت میں منتقلی کے بعد 45 دن کے اندر 2 تا 3 مرتبہ گوڈی اور نلائی کرنے سے جڑی بوٹیوں کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

آبپاشی:۔ فصل کو پہلے تین پانی 7 یا 8 دن کے وقفے سے لگائیں اس کے بعد آبپاشی کا وقفہ بڑھایا جا سکتا ہے۔

پیاز کے ضرر رساں کیڑے، بیماریاں اور ان کا انسداد:۔ پیاز کی فصل پر مندرجہ ذیل نقصان رساں کیڑے اور بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔
پیاز کا تھرپس:۔ یہ کیڑا پودے کے پتوں کی درمیانی کونپلوں میں موجود ہوتا ہے۔ حملہ شدہ پودوں کے پتے چڑ مڑ ہو کر آہستہ آہستہ خشک ہو جاتے ہیں جبکہ حملہ شدہ پتے کی سطح چمکیلی ہوتی ہے۔

پیاز کی سنڈی یا امریکن سنڈی:۔ سنڈی پیاز کی بیج والی فصل میں پھولوں کے گچھوں کو کھا کر نقصان پہنچاتی ہے جس کی وجہ سے بیج کی فصل کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔

ارغوانی جھلساؤ:۔ اس کے حملہ سے پتوں پر ہلکے جامنی رنگ کے لمبوترے کناروں والے دھبے پڑ جاتے ہیں۔ بیج پیدا کرنے والی ڈنڈی گل سڑ جاتی ہے اور پیاز پر سیاہ دھبے بن جاتے ہیں۔

منہ سڑی:۔ اس بیماری کے حملہ سے ابتدائی طور پر پتوں کے نوکدار کناروں پر بھورے رنگ کے دھبے نمودار ہوتے ہیں جو بعد میں سیاہی مائل ہو جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ بیماری کناروں سے نچلی طرف بڑھتی ہے۔

روئیں دار پھپھوندی:۔ یہ بیماری سب سے پہلے پتوں پر زردی مائل پیلے رنگ کے دھبوں کی صورت میں نمودار ہوتی ہے جبکہ پتوں کی نچلی سطح پر پھپھوندی کی نشوونما دیکھی جا سکتی ہے۔ جیسے جیسے بیماری شدت اختیار کرتی ہے دھبوں کی جسامت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر شدید حملہ کی صورت میں پتے سوکھ جاتے ہیں۔

پیاز کی کُنگی:۔ یہ بیماری پتوں پر ابھرے ہوئے دھبوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دھبے پہلے سفید جبکہ بعد میں زرد رنگ کے ہو جاتے ہیں۔ یہ دھبے بے ترتیب اور پتوں کے دونوں طرف ہوتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں پتے مُڑ جاتے ہیں جس سے پیداوار پر برا اثر پڑتا ہے۔

پیاز کی فصل سے ان کیڑوں و بیماریوں کے کیمیائی تدارک کیلئے محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے زہروں کا سپرے کریں۔
برداشت:۔ موسم خزاں کی فصل کی برداشت کا موزوں وقت جنوری سے مارچ ہے۔ پیاز کو برداشت کے بعد 2-1 دن تک سایہ دار اور ہوا دار جگہ میں ہی پڑا رہنے دیں تاکہ وہ اچھی طرح خشک ہو جائے۔ اگر پیاز کی فصل کو صحیح وقت پر برداشت کر لیا جائے تو اسے 6ماہ تک صحیح حالت میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ جب پیاز اپنی نشوونما اور جسامت بڑھانا چھوڑ دے، نئے پتوں اور جڑوں کی بڑھوتری رک جائے اور پودے کا تنا خشک ہو کر جھک جائے مثلاً 15 تا 20 فیصد تک پودے کے تنے خشک ہو کر ٹوٹنا شروع ہو جائیں تو فصل برداشت کیلئے تیار ہوتی ہے۔

پیاز کو اگر بعد از برداشت کچھ عرصہ کیلئے سٹور میں رکھنا مقصود ہو تو تنے کے مکمل طور پر خشک ہونے سے پہلے اسے برداشت کر لیں لیکن اگر پیاز کے پتے سبز ہوں تو ان کو کاٹ دینے سے پودے کے تنے کو نقصان پہنچتا ہے چونکہ اس وقت نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے پھپھوندی کے حملے کی وجہ سے پیاز خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ موٹے تنے والے پیاز کے گٹھے جو کہ ابھی مکمل طور پر پکے نہیں ہوتے ان کو ذخیرہ نہ کریں۔ پیاز کی فصل کو دیر سے برداشت کیا جائے تو اس میں عمل تنفس بڑھ جاتا ہے اور زیادہ درجہ حرارت ہونے کی وجہ سے پیاز کا رنگ و معیار متاثر ہوتا ہے۔ ایسی فصل پر بیماریوں کا حملہ بھی زیادہ ہوتا ہے اور گٹھے جلد پھوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔

پیداوار:۔ موسم خزاں کی فصل سے فی ہیکٹر اوسط پیداوار 10 سے 12 ٹن حاصل ہوتی ہے۔

تحریر و تحقیق: نوید عصمت کاہلوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات

Copy Rights @ ZaraiMedia.com. Please do not copy without permission.  Contact:contact@zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More