چنا کی کاشت اور دیکھ بھال

September 15, 2013

چنا کی کاشت اور دیکھ بھال
چنا کی کاشت اور دیکھ بھال

زرعی میڈیا ڈاٹ کام: چنا ربیع کی ایک اہم پھلی دار فصل ہے۔ پنجاب میں تقریباً 24 لاکھ ایکڑ رقبے پر چنا کی کاشت کی جاتی ہے جو ہمارے ملک میں چنے کے کل رقبے کا تقریباً 80 فیصد ہے۔ پنجاب میں چنے کا تقریباً 92 فیصد رقبہ بارانی علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے جس میں زیادہ تر تھل بشمول بھکر، خوشاب، لیہ، میانوالی اور جھنگ کے اضلاع شامل ہیں۔ ان اضلاع کے بارانی علاقوں کے کاشتکاروں کی معیشت کا انحصار زیادہ تر اسی فصل پر ہے۔ چنا غذائیت کے اعتبار سے بھی ایک اہم جنس اور گوشت کا نعل البدل ہے۔ پھلی دار فصل ہونے کی وجہ سے یہ ہوا سے نائٹروجن حاصل کر کے اسے زمین میں داخل کرتا ہے جس سے زمین کی زرخیزی بحال رہتی ہے۔ چنے زیادہ تر کم بارش والے علاقوں میں کاشت ہوتے ہیں جہاں چنے کی زیادہ تر دیسی اقسام کاشت کی جاتی ہیں کیونکہ کابلی چنے کی پانی کی ضروریات دیسی چنے کی نسبت زیادہ ہے۔ کابلی اقسام کی کھپت روز بروز بڑھ رہی ہے جسے پورا کرنے کے لئے مختلف ممالک مثلاً ایران، آسٹریلیا اور ترکی وغیرہ سے کابلی چنے کی درآمد کی جاتی ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے کابلی چنے کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے کابلی چنے کی مزید بہتر اقسام کی دریافت اور اس کے رقبہ میں اضافہ ضروری ہے۔ مزید بہتر اقسام کی دریافت کے ساتھ ساتھ کابلی چنے کی ستمبر کاشتہ کماد میں اور دھان کے بعد کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں دیسی اور کابلی چنے کی دریافت کردہ اقسام اور پیداواری ٹیکنالوجی اپنا کر چنے کی اوسط پیداوار کافی حد تک بڑھائی جا سکتی ہے ۔

وقت کاشت:۔ وقت پر کاشتہ فصل زیادہ پیداوار دیتی ہے جبکہ پچھیتی کاشت سے پودے کم نشوونما پاتے ہیں ۔ صوبہ پنجاب کے شمالی اضلاع( اٹک اور چکوال) میں چنے کی کاشت کا بہترین وقت 25ستمبر تا 15اکتوبر، گجرات، جہلم،راولپنڈی اور نارووال میں وقت کاشت 15اکتوبر تا 10نومبر، تھل کے علاقہ جات (بھکر، خوشاب، میانوالی، لیہ اور جھنگ) میں چنا کی کاشت کیلئے اکتوبر کا پورا مہینہ موزوں ہے، آبپاش علاقوں (فیصل آباد، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر اور وسطی و جنوبی پنجاب کے دیگر اضلاع) میں چنے کی کاشت آخر اکتوبر سے 15 نومبر تک مکمل کر لیں۔ زیادہ زرخیز زمین اور ستمبر کاشتہ کماد میں چنا کی کاشت 20 اکتوبر تا 10 نومبر تک کی جا سکتی ہے۔

زمین کا انتخاب و تیاری:۔ چنے کی کاشت کیلئے ریتلی میرا اور اوسط درجے کی زرخیز زمین کا انتخاب کریں۔ کلراٹھی اور سیم زدہ زمین اس کی کاشت کیلئے غیر موزوں ہے۔ آبپاش علاقوں میں زمین کی تیاری کیلئے1 یا 2 مرتبہ ہل چلائیں۔ پہلے گہرا ہل چلا کر خودرو گھاس، پچھلی فصل کی باقیات اور جڑی بوٹیاں تلف کر دیں۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر ہل اور سہاگہ چلا کر زمین کو اچھی طرح ہموار کر لیں۔ بارانی علاقوں میں چنے کی کاشت کیلئے مون سون کی بارشوں سے پہلے یا بارشوں کے دوران گہرا ہل چلائیں۔ بارانی علاقوں میں ریتلی اور نرم زمین میں پہلے سے محفوظ کردہ وتر میں زمین کی تیاری کیے بغیر بوائی کریں تاکہ وتر ضائع نہ ہو۔ البتہ ریتلی میرا زمین میں ایک مرتبہ ہل ضرور چلائیں۔

سفارش کردہ اقسام:۔ بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی دیسی اقسام بٹل 98 ، پنجاب 2008- ، بلکسر2000- ، ونہار 2000- ، تھل 2006 ، سی ایم 98، تھل 2006 اور بھکر 2011 جبکہ کابلی چنے کی ترقی دادہ اقسام نور 2013 ، نور 91، نور 2009 اور سی ایم 2008 کاشت کریں۔

شرح بیج:۔ عام جسامت کے دانوں والی اقسام کا 30کلو گرام صاف ستھرا، خالص اور صحتمند بیج فی ایکڑ استعمال کریں۔ دیسی اور کابلی چنے کی موٹے دانوں والی اقسام کا بیج 35 کلوگرام فی ایکڑ سے کم استعمال نہ کریں۔ چنے کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کیلئے پودوں کی تعداد 85 ہزار سے 95ہزار فی ایکڑ رکھیں۔ بیج کو گریڈنگ کر کے موٹے دانے کاشت کرنے سے شروع میں ہی صحتمند پودے اگیں گے اور ان کی اچھی نشوونما ہونے سے پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا۔

کھادوں کا متناسب استعمال:۔ چنا کو دوسری فصلوں کی طرح نائٹروجن کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پودے اپنی ضرورت کے مطابق نائٹروجن ہوا سے حاصل کر لیتے ہیں۔ جو جراثیمی ٹیکہ لگانے سے مزید بڑھ جاتی ہے۔ البتہ فاسفورسی کھاد کے استعمال سے دانے موٹے اور زیادہ تعداد میں بننے سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ کھاد کے استعمال کے لئے کھیت میں وتر کا مناسب مقدار میں ہونا ضروری ہے۔

نائٹروجن اور فاسفورس کی مطلوبہ مقدار حاصل کرنے کیلئے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی یا آدھی بوری یوریا + ڈیڑھ بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ یا ایک بوری نائٹروفاس + ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ یا آدھی بوری یوریا + 4 بوری سنگل سپر فاسفیٹ فی ایکڑ بوائی سے قبل زمین کی تیاری کے وقت استعمال کریں۔

آبپاش علاقوں میں طریقہ کاشت:۔ آبپاش علاقوں میں چنے کی کاشت بذریعہ ڈرل یا پور کریں تاکہ بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ) جبکہ میرا زمینوں اور زیادہ بارش والے علاقوں میں قطاروں کا درمیانی فاصلہ 45 سینٹی میٹر (ڈیڑھ فٹ) اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15 سینٹی میٹر (6انچ) ہونا چاہیے۔

بارانی علاقہ جات میں طریقہ کاشت:۔ بارانی علاقوں میں ریتلی اور نرم زمین میں پہلے سے محفوظ کردہ وتر میں کاشت بذریعہ ڈرل یا پور کریں تاکہ بیج کی روئیدگی اچھی ہو۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ) اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 15 سینٹی میٹر (6انچ) ہونا چاہیے۔ اگر زمین کی زرخیزی زیادہ ہو تو قطاروں کا درمیانی فاصلہ 45 سینٹی میٹر (ڈیڑھ فٹ) رکھیں۔ اگر کاشت سے پہلے بیج کو 6 سے 8 گھنٹے بھگو کر تھوڑی دیر کے لئے خشک کر کے بیجائی کی جائے تو اس سے اگاؤ بہتر ہو گا۔

ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی مخلوط کاشت:۔ ستمبر کاشتہ کماد میں کابلی چنے کی مخلوط کاشت کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ چار فٹ کے فاصلے پر کاشتہ کماد میں بیڈ کے درمیان چنے کی دو لائنیں کاشت کریں جبکہ دو تا اڑھائی فٹ کے فاصلے پر کاشتہ کماد میں چنے کی ایک لائن کاشت کریں۔ اس طریقہ کاشت میں بیج کی مقدار 15 سے 20 کلوگرام فی ایکڑ استعمال کریں۔

جڑی بوٹیوں کی تلفی:۔ چنے کی فصل میں شرع سے جڑی بوٹیوں کی تلفی نہایت ضروری ہے۔ اس فصل کو پیازی، باتھو، چھنکنی بوٹی، لیہلی، رُت پھلائی، دُمبی سٹی اور ریواڑی نقصان پہنچاتی ہیں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے پہلی گوڈی فصل اگنے کے 30 تا 40 دن بعد جبکہ دوسری گوڈی پہلی گوڈی کے ایک ماہ بعد کریں۔ ریتلے علاقوں میں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری نہایت آسان ہے۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے کیمیائی زہروں کا استعمال محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے کریں۔ زہر کی سفارش کردہ مقدار 15 سے 20 کلوگرام ریت میں ملا کر زمین کی تیاری کے وقت کھیت میں چھٹہ کریں۔ بعد ازاں آخری ہل چلا کر فصل کو ڈرل سے کاشت کریں بصورت دیگر بوائی کے وقت سہاگہ سے پہلے سفارش کردہ زہر کی مقدار کو پانی کی مناسب مقدار (150 لیٹر فی ایکڑ) میں ملا کر سپرے کیا جا سکتا ہے۔

آبپاشی:۔ چنے کی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ تھل کے علاقوں میں فصل کی کامیابی کا انحصار بارشوں پر ہوتا ہے۔ موسم سرما کی معمولی بارشیں فصل کی کامیابی کیلئے کافی ہوتی ہیں۔ آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں خصوصاً پھول آنے پر اگر فصل سوکا محسوس کرے تو ہلکا سا پانی لگا دیں۔ کابلی چنے کیلئے پہلا پانی کاشت کے 45 دن بعد اور دوسرا پھول آنے پر دیں۔ دھان کے بعد کاشت کی گئی فصل کو آبپاشی کی ضرورت نہیں پڑتی، ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی کاشتہ فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق آبپاشی کر یں۔
چنے کا قد کنٹرول کرنا:۔ اگیتی کاشت، کثرت کھاد یا بارش وغیرہ کی وجہ سے فصل کا قد بڑھنے لگے تو مناسب حد تک پانی کا سوکا لگائیں یا کاشت کے دو ماہ بعد شاخ تراشی کریں۔
فصل کی برداشت:۔ صوبہ پنجاب کے وسطی علاقوں میں چنے کی برداشت وسط اپریل میں اور شمالی علاقوں میں آخر اپریل سے شروع مئی میں کی جاتی ہے۔ فصل کی کٹائی میں دیر ہر گز نہ کریں ورنہ پھلیاں جھڑ جائیں گی اور پیداوار میں کمی آ جائے گی لہٰذا 90 فیصد ٹاڈ پکنے پر فصل برداشت کر لیں۔ فصل کی کٹائی صبح سویرے کریں کیونکہ اس وقت پودوں پر اوس پڑی ہوتی ہے اور پھلیاں بہت کم جھڑتی ہیں۔ فصل کی کٹائی سے پہلے بیماریوں سے متاثرہ تمام پودے نکال کر جلا دیں تاکہ فصل سے تندرست بیج حاصل کیا جا سکے۔ کٹی ہوئی فصل کو دھوپ میں خشک کرنے کے بعد گہائی کریں۔ گہائی کے لئے تھریشر استعمال کریں۔ بیج کو خشک اور صاف کر کے کیڑے مکوڑوں سے پاک سٹور میں محفوظ کر لیں ۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com. Please do not copy without permission.  Contact:contact@zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More