کماد کی ستمبر کاشت

September 11, 2013

sugarcane
sugarcane

زرعی میڈیا ڈاٹ کام: کماد صوبہ پنجاب کی اہم نقد آور فصل ہے۔ پنجاب میں کماد کی فصل دو موسموں یعنی ایک فروری مارچ اور دوسری ستمبر کے مہینے میں کاشت کی جاتی ہے۔ سال 2012-13میں پنجاب میں18.97 ملین ایکڑ رقبہ کما د کے زیر کاشت تھااور اس سے 43ملین ٹن پیداوار حاصل ہوئی اس طرح اوسط پیداوار607من فی ایکڑ رہی جو کہ ہمارے ترقی پسند کاشتکاروں اور دوسرے ممالک کی اوسط پیداوار سے کم ہے۔پیداوار کے اس گیپ کو کم کرنے کیلئے جدید پیداواری ٹیکنالوجی پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔

کماد کی فصل سے بھرپور پیداوار لینے کے لئے اس کی اقسام کا کردار نہایت اہم ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اقسام کے انتخاب کے لئے ان کی پیداواری صلاحیت، کیڑے اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت کو مدنظر رکھا جائے۔ کماد کی اگیتی اقسام میں سی پی ایف 243 ،ایچ ایس ایف240 ،ایچ ایس ایف242، سی پی 77-400، سی پی ایف 237جبکہ درمیانی اقسام میں ایس پی ایف۔245، ایس پی ایف۔234،ایس پی ایف 213، سی پی ایف246،سی پی ایف247ہیں۔ ایس پی ایف۔234 صرف راجن پور ، بہاولپوراور رحیم یار خان کے اضلاع کے لئے موزوں ترین قسم ہے اور سی او جے 84- پچھیتی تیار ہونے والی قسم ہے۔کماد کی ممنوعہ اقسام ٹرائیٹان ‘سی او ایل 54‘سی او 1148 ) انڈین(‘ سی او ایل 29 ‘سی او ایل 44، بی ایل4-، ایل116-، ایل118، ایس پی ایف238- اور بی ایف162-ہیں انہیں ہرگز کاشت نہ کریں۔ صحت مند‘ بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا انتخاب کیا جائے۔ بیمار اور کمزور گنے چھانٹ کرنکال دیں۔ خاص طور پر ایسے کھیت سے بیج ہرگز نہ رکھیں جس میں رتہ روگ کی بیماری موجود ہو۔ بہتر ہے بیج کے لئے گنے کااوپر والا حصہ استعمال کیا جائے ۔ اس سے اگاؤ اچھاہوگا۔ ستمبر کاشت کے لئے ستمبر کاشتہ اور مونڈھی فصل کا بیج استعمال کیا جا سکتاہے۔ گری ہوئی فصل سے بیج نہ لیں۔3یا 4آنکھوں والے ٹکڑے (سمے)استعمال کیے جائیں۔ آنکھوں کو زخمی ہونے سے بچایا جائے۔ بیج کے لئے گنے کو درانتی یا پلچھی سے نہ چھیلا جائے بلکہ ہاتھوں سے کھوری اتاری جائے۔ بیج کو بوائی کے کھیت میں ہی لاکرچھیلا جائے۔ سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہونا چاہئے وگرنہ اگاؤ کم ہوتا ہے اور دیمک لگنے کا بھی احتمال رہتا ہے۔ بیج تیار کرنے کے بعد بوائی میں تاخیر نہ کی جائے۔ اگر کسی وجہ سے دیر ہو جائے تو بیج کو کھوری سے ڈھانپ کر رکھیں۔ وقفے وقفے سے پانی چھڑکتے رہیں تاکہ گنے خشک نہ ہوں۔ بیج کو پھپھوندی کش زہروں کے محلول میں 3 سے 5منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔بر وقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ چار آنکھوں والے 13 تا 15 ہزار سمے یاتین آنکھوں والے 17تا 20 ہزار سمے ڈالنے چاہئیں۔ یہ تعدادگنے کی موٹائی کے لحاظ سے تقریباً 100 تا 120 من بیج سے حاصل کی جا سکتی ہے۔اگر کاشت میں تاخیر ہو جائے یا زمین کی صحیح تیاری نہ ہو تو بیج کی مقدار میں 10 تا 15 فیصد اضافہ کر دینا چاہئے۔اس کے علاوہ صحت مند بیج کو بارہ (12)سے سولہ (16)مرلے تک لیا جا سکتا ہے لیکن یہ یاد رہے کہ بارہ (12)مرلہ کی صورت میں فصل نو(9) من اور سولہ(16) مرلہ کی صورت میں سات (7)من فی مرلہ سے کم نہ ہو۔

زمینوں میں نامیاتی مادہ کی کمی کے پیش نظر دیسی یا سبز کھاد کا استعمال کیا جائے۔لہذاگوبرکی گلی سڑی کھاد بحساب 3 تا 4 ٹرالیاں (75تا100 من ) یا پریس مڈ 2 تا4 ٹرالی فی ایکڑ ڈالیں۔ہموار زمین میں گہرا ہل چلا کرمناسب تیاری کے بعد سہاگہ لگائیں اور پھر رجر (Ridger) کے ذریعے 10تا 12 انچ کی گہری کھیلیاں چار فٹ کے فاصلے پر بنائیں۔ ان میں فاسفورسی اور پوٹاش کی کھادیں ڈالیں اور پھرسیاڑوں میں سموں کی دو لائنیںآٹھ تا نو انچ کے فاصلے پراس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوں۔اب ان کو مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ دیں اورہلکا پانی لگا دیں۔ مصنوعی کھادوں کا استعمال زمین کے تجزیہ کی بنیاد پر کریں ۔تجزیہ کی عدم دستیابی کی صورت میں زمین کی بنیادی زرخیزی‘ مختلف فصلوں کی کثرت کاشت اور فصلوں کی سالانہ ترتیب کومدنظررکھتے ہوئے کھادوں کا متناسب استعمال کریں۔ فاسفورس اور پوٹاش کی کل مقداربوائی سے قبل سیاڑوں میں ڈالیں۔ نائٹروجن اگاؤ کے بعد تین قسطوں میں ڈالیں۔ ایک تہائی کاشت کے ایک ماہ بعد اور باقی ماندہ دواقساط بالترتیب مارچ کے آخر اوراپریل میں مٹی چڑھاتے ہوئے ڈالی جائیں ۔ کھاد دیر سے دی جانے کی صورت میں فصل بڑھوتری اور پھوٹ کرتی ہے اور گرنے کا خطرہ ہوتا ہے اور گری ہوئی فصل کی پیداوار اور کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔

ستمبر کاشتہ کماد میں اِٹ سِٹ،ڈیلا،سوانکی،تاندلہ،قلفہ اور چولائی پائی جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق جڑی بوٹیوں کی وجہ سے کمادکی پیداوار 25 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لئے پہلی گوڈی اگاؤ مکمل ہونے پر جبکہ دوسری گوڈی مزید ایک ماہ بعد کریں۔سیاڑوں کے درمیان بذریعہ کلٹیویٹر جبکہ پودوں کے درمیان سے جڑی بوٹیاں نکالنے کے لئے کسولہ یا کھرپہ استعمال کریں۔ آخری گوڈی کے بعد مٹی چڑھانے سے نہ صرف جڑی بوٹیاں کنٹرول ہو جاتی ہیں بلکہ فصل گرنے سے بھی محفوظ ہو جاتی ہے۔ کماد کے سیاڑوں پر جڑی بوٹی مار زہرکا سپرے سفارش کردہ مقدار کے مطابق کریں۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More