زرعی یونیورسٹی: ضروریات کو مدنظر رکھ کر پلاننگ یقینی بنانا ہوگی

زرعی میڈیا ڈاٹ کام
زرعی میڈیا ڈاٹ کام

فیصل آباد 10۔ستمبر 2013ء ( زرعی میڈیا ڈاٹ کام) سائنس دانوں کو نئی ایجادات میں سماجی سائنس کے ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر پلاننگ یقینی بنانا ہوگی۔یہ باتیں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے شعبہ دیہی عمرانیات کے زیراہتمام آسٹریلین سیکٹر لنکجز پروگرام کے تحت منعقدہ ورکشاپ کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تعمیر و ترقی ‘معاشرتی مسائل کے خاتمے اور انسانی زندگی میںآسانیوں کیلئے ایسی پلاننگ زیادہ موثراور نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے جس میں دوسرے ماہرین کے ساتھ ساتھ عمرانیاتی محققین کی عملی شمولیت اور تحقیقی سفارشات کو اہمیت حاصل ہو۔

ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ ماہرین عمرانیات کی شمولیت سے دیگر شعبہ جات کے سائنس دانوں کیلئے مختلف علاقوں اور معاشروں میں تحقیقی اہداف کا حصول آسان بنایاجا سکتا ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی اور آسٹریلین ماہرین کے اشتراک سے پاکستان میں آم‘ ترشاوہ پھلوں‘ ڈیری سیکٹر اور ویلیو چین مینجمنٹ کے شعبہ جات میں کئے گئے سروے کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ پیشوں سے منسلک 80فیصد سے زائد افراد کے پاس موبائل فون موجود ہیں جبکہ اس کے مقابلہ میں حکومتی سطح پرایک ہزار کسانوں کیلئے ایک ایکسٹینشن ورکردستیاب ہے لہٰذا حکومت کو بہتر اور موثر کمیونی کیشن کیلئے موبائل فون کے استعمال کو فروغ دیناہوگا۔آسٹریلیا میں کینبرا یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹر جان سپرگزنے بتایا کہ تحقیقی اُمور میں موثر پیش رفت کیلئے کمیونٹی کی شمولیت اہم کردار ادا کرتی ہے لہٰذا پاکستانی سائنس دانوں کو مختلف شعبوں اور جہتوں میں کام کرنے والے ماہرین کو باہمی مشاورت اور مربوط طریقہ کار اپنا کر اہداف حاصل کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اے ایس ایل پی 2پراجیکٹ میں جہاں دیہی آبادی کی زندگی کو سہولیات سے آراستہ کرنے کیلئے ذرائع آمدنی بڑھانے پر توجہ دی جارہی ہے وہاں چاروں شعبوں میں پیداواریت میں اضافہ کیلئے لائحہ عمل بھی تشکیل دیاجا رہا ہے۔ڈین کلیہ سوشل سائنسز ڈاکٹر اقبال ظفر نے کہا کہ پاکستان کے سائنسی اداروں میں عمرانیاتی سائنس دانوں کیلئے گنجائش بڑھانے کی اشد ضرورت ہے اس ضمن میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں مختلف انسٹی ٹیوٹس کو یکجا کرکے فیکلٹی آف سوشل سائنسز کا اجراء کیاگیا ہے تاکہ اپلائیڈ سائنسز کو سماجی حوالے سے صارفین کی ضروریات کے مطابق ترقی دی جا سکے۔چیئرمین شعبہ دیہی عمرانیات پروفیسرڈاکٹراشفاق احمد مان نے کہا کہ سوشل سائنسز کے شعبہ میں جہاں نئے ڈسپلنز متعارف کرائے جا رہے ہیں وہیں پالیسی سازی میں ڈیٹا تیار کرنے کیلئے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین عملی خدمات بھی سرانجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ASLP-2منصوبے کے تحت تیار کی جانیوالی شماریاتی رپورٹ اس ضمن میں زرعی شعبہ کی بہتری کے حوالے سے سنگ میل ثابت ہوگی۔ڈاکٹر اظہار احمد خاں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع میں کئے گئے سروے کے مطابق ڈیری کے شعبہ میں کام کرنے والے عام کسان کی اوسط ماہانہ آمدنی 14ہزار روپے‘ جبکہ آم سے وابستہ چھوٹے کسانوں کی ماہانہ آمدنی 16ہزار روپے ہے جوکہ انتہائی محدود اور ضروریات زندگی کے حوالے سے کم ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ویلیو چین مینجمنٹ میں بہتری لاکر ڈیری‘ ترشاوہ پھلوں‘ اور آم کے کسانوں کے ذرائع آمدنی میں اضافہ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More