پاکستان کی سرمایہ کاری کی پالیسیاں خطہ میں سب سے بہتر ہیں۔زبیر احمد ملک

برطانیہ، مغرب پاکستان سے اقتصادی شراکت داری کا عمل تیز کریں۔ایف پی سی سی آئی
مغربی میڈیا قربانیوں کو نظر انداز کر کے امیج بگاڑنے ، غیر ملکی سرمایہ کاروں کوخوفزدہ کرنے میں مصروف
سرکاری کارپوریشنیں پانچ سو ارب سالانہ ڈبو رہی ہیں،شفاف نجکاری کی بھر پور حمایت کریں گے
آئی ایم ایف کا معیار دہرا ہے، مغرب اور مشرق کیلئے الگ شرائط، غربت بڑھے گی

President FPCCI
President FPCCI

( 08 ستمبر)

ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر احمد ملک نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرمایہ کاری پالیسی خطہ میں سب سے بہترین ہے جس میں بے شمار مراعات، ٹیکس چھوٹ، ڈبل ٹیکسیشن سے نجات، منافع کی بیرون ملک منتقلی اور مقامی پارٹنر کی ضرورت نہ ہونے کو یقینی بنایا گیا ہے۔دوستانہ پالیسیوں سے سبب چھ سو کثیر القوامی کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کر رہی ہیں جن میں سے ایک سو برطانوی ہیں۔دیگر بہت سی بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں جنھیں مغربی میڈیا مسلسل خوفزدہ کر رہا ہے۔

زبیر احمد ملک نے یہ بات پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے برطانوی صحافیوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اٹھارہ کروڑ افراد سے زیادہ کی مارکیٹ ہے جسکے مختلف شعبوں بشمول توانائی، آئی اینڈ گیس، کوئلے، تانبہ، سونے اور دیگر دھاتوں کی کان کنی، انفراسٹرکچر، مواصلات، ٹیلی کام، زراعت اور لائیو سٹاک وغیرہ میں وسیع مواقع موجود ہیں۔مغربی ذرائع ابلاغ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پارٹنر کہتا ہے مگر ہماری لا زوال قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دنیا کو منفی تصویر دکھانے میں مصروف ہے تاہم اسکے باوجود چین،کوریا، بھارت، عرب ممالک اور دیگرپاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں اسلئے مغربی سرمایہ کار بھی بلا خوف و خطرپاکستان کا رخ کریں اور رہائش، نقل و حمل، صحت، تعلیم، معدنی ذخائراور تھر کول کے شعبوں میں سرمایہ لگائیں۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان، توانائی، بجٹ خسارے ، اسلوب حکمرانی، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے کچھ مسائل ہیں جن پر جلد قابو پا لیا جائے گا۔کاروبار کرنا تاجروں کا کام ہے نہ کہ حکومت کا اسلئے سالانہ پانچ سو ارب نقصان کرنے والے اداروں کواصلاحات کے بعدشفاف طریقہ سے فروخت کیا جائے کاروباری برادری تعاون کرے گی۔ملک زبیر کے مطابق آئی ایم ایف کا معیار دہرا ہے، مغربی ممالک کو نرم اور دیگر ممالک کو سخت شرائط پر قرض دیا جاتا ہے۔ پاکستان پر لاگو کی گئی شرائط سے کاروبار ناممکن اورغربت میں اضافہ ہو گا۔پاکستان میں ایک ترقی یافتہ قوم بننے کے تمام لوازم موجود ہیں اور ہمارا مستقبل انتہائی روشن ہے۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More