خوراک میں زہریلے مادے

Page 1
Page 1

ڈاکٹر شہزاد نوید جدون
جنرل منیجر آل ٹیک پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ
مائیکوٹاکسنز پھپھوندی سے قدرتی طور پر پیدا ہونے والے کیمیائی مادوں کے گروہ ہیں جوکہ کئی اقسام کی فصلوں اور خوراک کے اجزاء (غذائی اجناس) مثلاًمیوہ جات سیب جوس(سیب کا رس)، کافی ، خشک پھلوں وغیرہ میں گرم اور نمدار حالات میں نشوونما پاتے ہیں۔
محفوظ خوراک کے لحاظ سے ایفلا ٹاکسن (B1, B2,G1 & M1)اوکرا ٹاکسن A (Ochratoxin) ، پاٹیولن(Patulin) اور فیوسیرم(Fusarium) پھپھوندی کے پیدا کردہ زہریلے مادے B1,B2 & B3،ٹرائیکوتھیسنز (Trichothacenes) (بنیادی طور پر نوالینول(Nivalenol)، ڈی آکسی نوالینول،T22 اور HT22 اور زیرلینون(Zearalenone) نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔
مائیکوٹاکسنز انسانوں میں کئی مضرت صحت اثرات پیدا کرسکتے ہیں۔ ایفلا ٹاکسن بشمول ایفلاٹاکسنB1سب سے زیادہ خطرناک ہیں یہ جینیاتی مادے(DNA) کو نقصان پہنچا کر جانوروں میں کینسر پیدا کرسکتے ہیں۔ انسانوں میں جگر کے کینسر پیدا کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔
دوسرے مائیکوٹاکسنز بھی کافی مضرصحت ہیں اور گردوں،نظام انہضام، نظام تولید کی خرابی کا باعث بنتے ہیں اور قوت مدافعت میں کمی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ زیادہ تر مائیکوٹاکسنز کی روزانہ قابل برداشت حدود(Tolerate daily T) مقرر کی جاچکی ہیں جو کہ مائیکوٹاکسنز کی اس مقدار کا تعین کرتی ہے۔ جو کوئی (انسان، جانور)بغیر مضرصحت اثرات کے روزانہ کھا سکتا ہے۔
استعمال کنندگان(Consumers)کی سیفٹی کے لیے یورپی کمیشن نے زہریلے مادوں(Mycotoxins)کی کئی غذائی اجناس میں حدود کے لیے قانون سازی کی ہے۔یہ قوانین ان مخصوص غذائی اجناس پر لاگو ہوتے ہیں جوکہ UKمیں درآمد کیے یا پیدا کیے (اگائے )جائیں۔ مزید برآں درآمدی قوانین ان تمام ترقی پذیر ممالک پر لاگو کئے گئے ہیں جہاں ان زہریلے مادوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے جوکہ استعمال کنندگانکی مزید حفاظت کرتا ہے۔
خوراک اور فیڈ میں پائے جانے والے مائیکوٹاکسنز کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:
* مائیکوٹاکسنز پھپھوندی کی کچھ اقسام سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے ہیں۔
* مائیکوٹاکسنز رُوحِ زمین پر پائے جانے والے زہریلے مادوں میں سب سے زیادہ زہریلے مادے ہیں۔
اقسام:
۔ ایفلاٹاکسن(Aflatoxin)
۔ اوکراٹاکسن اے(Ochratoxin A)
۔ فیوسیریم ٹاکسن(Fusarium Toxin)
۔ ایرگٹ ایکلائیڈ (Ergot Akaloids)

۔ آلٹرنیریبا ٹاکسن (Alternaries toxins)

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More