گاجر کی کاشت

لاہور 7ستمبر 2013

Carrot in Pakistan
Carrot in Pakistan

گاجر کی کاشت: گاجر کاآبائی وطن افغانستان ہے اب یہ پوری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے اس کا سلاد، اچار اور حلوہ مقبول عام ہے۔ یہ پیٹ کے کیڑوں

(Thread worms)

کیلئے بھی زہر قاتل ہے ۔پیشاب آور ہونے کی وجہ سے یورک ایسڈ کی زیادتی اور استسقاء کا بھی علاج ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گاجر کینسر کی گلٹیاں بننے کا عمل روک دیتی ہیں لہٰذا کاشتکار اس کے جدید پیداواری عوامل اپنا کر نہ صرف عوام کو سستی گاجر فراہم کر سکتے ہیں بلکہ اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔

گاجر سرد آب و ہوا کی فصل ہے لہٰذا بیج کے اگاؤ کیلئے 7 تا 24 ڈگری سینٹی گریڈ مثالی درجہ حرارت ہے۔اسی طرح 20 تا 25 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ سے زیادہ پیداوار اور اچھی گاجر لینے کیلئے انتہائی مناسب ہے۔ گاجر ہر قسم کی زمین میں کامیابی سے کاشت کی جاسکتی ہے لیکن اچھی پیداوار کیلئے گہری میرا زمین اور اگیتی پیداوار کیلئے ریتلی میرا درکار ہوتی ہے۔ چکنی زمین میں کئی جڑوں والی چھوٹی چھوٹی گاجربننے کا امکان ہوتا ہے جبکہ بہت زیادہ نامیاتی مادہ والی زمین میں بھی گاجر کی کوالٹی اور رنگت خراب ہوجاتی ہے۔ لہٰذا خوبصورت لمبی اور ہموار گاجر پیدا کرنے کیلئے ہلکی میرا زمین ہی بہتر رہتی ہے۔

پنجاب میں گاجرکی اگیتی کاشت اگست میں شروع ہوجاتی ہے اور پچھیتی کاشت اکتوبر کے آخرتک جاری رہتی ہے۔ ستمبر کا دوسرا ہفتہ پنجاب میں اس کی کاشت کیلئے نہایت موزوں ہے۔ درآمد شدہ اقسام نومبر تا دسمبر کاشت ہوتی ہیں۔ بوائی سے پہلے اگر بیج 12گھنٹے پانی میں بھگو لیا جائے تو شرح اگاؤ میں اضافہ ممکن ہے۔ اچھی قسم کا صحت مند اور زیادہ روئیدگی والا بیج جو جڑی بوٹیوں سے پاک و صاف ہو استعمال کرنا چاہیے۔ 6 تا 8 کلو گرام بیج ایک ایکڑ کے لئے کافی ہوتا ہے ۔اگیتی فصل کی صورت میں شرح بیج 15کلو گرام فی ایکڑ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ گاجر لمبی جڑ والی فصل ہے۔ اگر زمین اچھی طرح تیار نہ ہو اور اس میں مٹی کے ڈلے اور گوبر کی کچی کھاد (FMY) موجود ہو تو گاجر کی شکل اور رنگ پوری طرح نشوونما نہیں پاتی۔ لہٰذا زمین خوب گہرائی تک نرم اور بھربھری ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے وتر حالت میں زمین کو 3 تا 4مرتبہ گہرا ہل چکا کر سہاگہ دے کر اچھی طرح تیار کر لیا جائے۔ زمین کی تیاری سے قبل داب سسٹم کے ذریعہ جڑی بوٹیوں کی تلفی فصل پر بہت مثبت اثرات چھوڑتی ہے۔

اچھی طرح گلی سڑی گوبرکی کھاد نہ صرف اچھی پیداوار کا سبب بنتی ہے بلکہ کیمیائی کھادوں کے استعمال کی بھی کم ضرورت ہوتی ہے۔ نائٹروجنی کھاد کا زیادہ استعمال گاجر کی کوالٹی خراب کر دیتا ہے۔ زمین کی تیاری کے دوران 2 بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاش فی ایکڑ یکساں بکھیر دیں اور زمین میں اچھی طرح ملا دیں۔ فصل کے ایک ماہ بعد ایک بوری امونیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈال دیں۔اچھی طرح ہموار اور تیار شدہ زمین میں 75 سینٹی میٹر (اڑھائی فٹ) کے فاصلہ پر پٹڑیاں بنا کر دونوں کناروں پر ایک سینٹی میٹر گہری لائنوں میں بیج کیرا کرکے مٹی سے ڈھانپ دیں اور فوراً پانی اس طرح لگائیں کہ پٹڑیوں پر ہر گز نہ چڑھنے پائے۔ شروع میں ہفتہ میں دو دفعہ آبپاشی کرنے سے اگاؤ بہتر ہوتا ہے۔

بعد میں فصل کی ضرورت کے مطابق وقفہ بڑھاتے جائیں لیکن ہفتہ وار آبپاشی بہتر رہتی ہے۔ برداشت سے دو ہفتہ قبل پانی بند کر دیں تاکہ گاجر کی مٹھاس بڑھ جائے اور انہیں اکھاڑنے میں بھی سہولت ہو۔کوالٹی اور اچھی پیداوار کے حصول کے لئے جڑی بوٹیوں کا کنٹرول اشد ضروری ہے۔ بجائی کے بعد دو سے چھ ہفتہ کے اندر جڑی بوٹیوں کا تدارک پیداوار پر مثبت اثرات چھوڑتا ہے۔ اس کے بعد فصل خود ہی جڑی بوٹیوں پر قابو پالیتی ہے۔ گاجرکی بہتر کوالٹی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ گاجر کی بروقت چھدرائی کی جائے چھدرائی اس طرح کریں کہ پودوں کا درمیانی فاصلہ 2 تا 3 سینٹی میٹر رہے۔ چھدرائی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ پودے جڑوں سمیت نکلیں اور بہت زیادہ بڑھوتری والے اور کمزور پودے بھی نکال دیں۔ گاجر 100سے 120دن بعد پوری طرح تیار ہوتی ہے لیکن روز مرہ استعمال کیلئے تقریباً 80 تا 90 دن بعد جب اس کی موٹائی 2 تا 4سینٹی میٹر ہو جائے تو برداشت کرلیں۔ گاجر برداشت کرنے سے دو ہفتہ قبل آبپاشی بند کردینی چاہیے تاکہ زمین تر وتر حالت میں ہوجائے اور گاجریں اکھاڑنے میں مشکل نہ ہو۔

گاجر کی کاشت

Copy Rights @ ZaraiMedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More