علم کی شمع بجھنے کا امکان، گومل یونیورسٹی اساتذہ کاتنخواہوں کی عدم فراہمی کے خلاف سراپا احتجاج

گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز
گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز

ڈیرہ اسماعیل خان ( )گومل یونیورسٹی ٹیچرز ویلفیئر فورم کے زیر اہتمام گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے اساتذہ نے تنحواہوں کی عدم دستیابی کے باعث سٹی کیمپس گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے گیٹ پر پر امن احتجاج کیا۔احتجاج میں مختلف ڈیپارٹمنٹس کے پروفیسرز ، اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچرز کے علاوہ مختلف ڈیپارٹمنٹس کے چیئرمین حضرات نے شرکت کی۔شرکاء نے مختلف قسم کے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر انھوں نے علم کی شمع کو بجھنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس پسماندہ علاقے کے بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے حکومت خصوصی مالی پیکج کا اعلان جلد از جلد کرے ۔

انھوں نے اس بات پربھی زور دیا کہ یونیورسٹی کے فنڈ ز کی بندش اس علاقے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کے مترادف ہے۔جس سے گریٹ 16سے 22تک کے ملازمین کی تنخواہوں کی بندش کے بعدیونیورسٹی مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔احتجاجی جلوس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے گومل ٹیچرز ویلفیئر فورم کے صدر پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ اختر پرنسپل گومل کالج آف ویٹرنری سائنسز،جنرل سکریٹری گومل ٹیچرز ویلفیئر فورم پروفیسرڈاکٹر شکیل چیئرمین آئی سی آٹی ڈیپارٹنمٹ،ایگزیکٹیوممبر گومل ٹیچرز ویلفیئر فورم احسان اللہ دانش اورایگزیکٹیوممبرگومل ٹیچرز ویلفیئر فورم ڈاکٹر انعام الحق کا کہنا تھا کہ ہم اضافی تنخواہ کا کوئی مطالبہ نہیں کر رہے مگر سابقہ تنخواہ بھی نہ ملنا اساتذہ کے ساتھ زیادتی ہے ۔

اس علاقے کے حکومتی نمائندگان گومل یونیورسٹی میں زیر تعلیم بچوں کے مستقبل کی فکر کریں اورعلاقائی و قومی ترقی کے لیے تعلیم پر توجہ دیں۔انھوں نے کہا کہ 2011میں پے سکیل ریوائز ہوئے جیکہ 50%تنخواہوں اور میڈیکل الاونس میں اضافہ کیا گیاسن بارہ میں 20%اضافہ جبکہ موجودہ بجٹ میں تنخواہو ں کی مد میں 10%اضافہ کا اعلان تو ہوا مگر یہ تمام فنڈ زآج تک نہیں دیئے گے مزید یہ کہ یونیورسٹی کے بجٹ پر 30%کٹوتی لگائی گی جسکی وجہ سے یونیورسٹی کا مالی خسارہ دن بدن بڑھ رہا ہے ۔مقررین نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بجلی اور گیس کی عدم دستیابی سے انکا متبادل تلاش کرکے گزارہ کر کے ترقی پا سکتیں ہیں مگر تعلیم کے بغیر نہ تو وہ ترقی کر سکتی ہیں اور نہ ہی تعلیم کا کوئی متبادل ہے۔تعلیم کا تصور استاد کے بغیر ممکن ہی نہیں مگر اس علاقے کے معمار ان قوم اساتذہ کے ساتھ زیادتیاں عروج پر ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ ہم نہ تو کلاسوں کا بائیکاٹ کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی دوسری تعلیمی سرگرمیوں کو ڈسٹرب کرنا چاہتے ہیں ہم اساتذہ ہیں اور ہمیں کلاس روم تک ہی رہنے دیا جائے سٹرک پر کتبے اٹھانا اس پیشہ کے شایان شان نہیں اگر ہمیں حکومت ایسا کرنے پر مجبور کر رہی ہے ۔انکا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمارے مسائل حل نہ کیے گئے تو ہم دو ہفتوں بعد اسی طرح کے پر امن احتجاج کے لیے اپنے بال بچوں سمیت حکمرانوں کو دکھڑے سنانے کیلیے پشاور اور اسلام آباد کا رخ کریں گے۔مقررین کا کہنا تھا کہ جامع گومل میں اس علاقے کے غریب لوگوں نے سائیکل پر آکر پی ایچ ڈی تک کی تعلیم حاصل کرکے اس یونیورسٹی اور علاقے کا نام روشن کیا ہے آج گوملین پورے پاکستان میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

تعلیمی خدمت میں پیش پیش اس یونیورسٹی کے استاندہ کی تنخواہوں کی عدم فراہمی سے گومل یونیورسٹی کے ڈیفالٹ ہونے کا اندیشہ ہے اگر خدانخواستہ ایسا ہوا توپسماندہ سرائیکی علاقہ کے نوجوان طلباء و طالبات علم کی روشنی سے محروم ہو جائینگے۔مقررین نے اساتذہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں اساتذہ کو عظمت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جامع گومل کے اساتذہ کو ملکی اور بیرو ن ملک نوکریوں کی چار گنا تنخواہ کے ساتھ پیش کش ہیں مگر وہ اس علاقے کی ترقی کے حامی ہیں اس لیے علاقائی خدمت کی وجہ سے وہ ان تمام پیش کش کو ٹھکرکر اس کی خدمت میں مگن ہیں اور آج وہ مالی مشکلات کی وجہ سے گھریلو اخراجات برداشت کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں ۔انکا مزید کہنا تھا کہ اگر اس ملک پر خدانخواستہ برا وقت آگیا ہے یا آئے گا تو ہم بغیر تنخواہوں کے بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں مگر اسکی ابتدا وزیر اعظم اور وزرائے اعلی سے ہونی چاہیے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جامع گومل ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جو منفی سوچ کا خاتمہ تعلیم سے کر کے علاقے میں قیام امن لاسکتی ہے مگر اس کے لیے حکومتی اداروں کے علاوہ سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ گومل یونیورسٹی پر خصوصی توجہ دی جائے اور اس کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان جلد از جلد کرکے مالی بحران سے نکالا جائے بصورت دیگرمسقبل میں اس کے خوفناک نتائج نکلیں گے جونہ صرف اس علاقے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ناقابل برداشت ہونگے۔

Copy Rights @ ZaraiMedia.com.

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More