بے موسمی سبزیات کی کاشت

September 02, 2013

نوید عصمت کاہلوں

بے موسمی سبزیات کی کاشت

Be mosami sbziat ki Kasht
Be mosami sbziat ki Kasht

موسم گرما کی سبزیوں کی اگیتی دستیابی اور زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے ٹنل کاشت کے طریقہ کو رواج دیا گیا ہے ۔ٹنل کاشت سے نہ صرف اگیتی سبزیوں کا حصول ممکن ہے بلکہ ٹنل میں کاشت کردہ سبزیات کی فی ایکڑ پیداوار بھی عام فصل سے زیادہ ہوتی ہے۔ٹنل میں کاشت کی گئی سبزی کی پیداوار روایتی طریقہ کاشت کی نسبت پودوں کی فی کنال تعداد زیادہ ہونے، کھاد اور آبپاشی کے صحیح اور مناسب استعمال، مناسب آب و ہوا کی فراہمی اور انتہائی نگہداشت کی وجہ سے عام فصل سے زیادہ ہوتی ہے۔

ٹنلز کی اقسام بلحاظ اونچائی:۔ پست ٹنل کی اونچائی تقریباً ایک میٹر ہوتی ہے اور اس میں کھیرا،کریلا ، گھیا کدو، چپن کدو، حلوہ کدو، گھیا توری، خربوزہ اور تربوز غیرہ اگائے جاتے ہیں۔ ان سبزیات کی براہ راست کاشت کے لئے دسمبر کا پہلا پندھرواڑہ موزوں ہے۔

واک ان ٹنل تقریباً 2 میٹر اونچی ہوتی ہے اور اس میں شملہ مرچ کی پنیری یکم تا 20 ستمبر تک کاشت کی جاتی ہے جبکہ نرسری کی منتقلی 15 اکتوبر تا 10 نومبر تک ہوتی ہے۔سبز مرچ کی پنیری کی کاشت یکم تا 30 ستمبر تک جبکہ اس کی منتقلی 15 اکتوبر تا 10 نومبر تک کی جاتی ہے، کھیرا کی براہ راست کاشت 15 نومبر تا 15 دسمبر تک، کریلا کی کاشت 15 تا 30 نومبر، بینگن کی پنیری کی کاشت یکم تا 20 ستمبر جبکہ اس کی منتقلی 15 اکتوبر تا 10 نومبر تک کی جا سکتی ہے۔ ٹماٹر کی پنیری کی کاشت یکم تا 15اکتوبر اور 15 تا 25 نومبر تک اس کی منتقلی کی جاتی ہے۔ گھیا کدو کی براہ راست کاشت یکم تا 10 نومبر تک کی جاتی ہے۔

بلند ٹنل کی اونچائی 4 تا 5 میٹر ہوتی ہے اس میں ٹماٹر کی پنیری کی کاشت یکم تا 15 اکتوبر تک جبکہ اس کی منتقلی یکم تا 15 نومبر تک کی جاتی ہے۔ گھیا کدو اور کریلا کی کاشت یکم تا 15 نومبر تک جبکہ کھیرا کی کاشت 25 اکتوبر تا 15 نومبر تک کی جا سکتی ہے۔

نرسری اگانے کیلئے زمین کا انتخاب و تیاری:۔ نرسری کی کاشت کے لئے ایسی زمین کا انتخاب کریں جو کلر سے پاک اور ہموار ہو، پانی کا نکاس اچھا ہو،درختوں کے نیچے نہ ہو بلکہ کھلی جگہ پر ہو تاکہ سائے کے اثرات سے محفوظ رہے۔ زمین کی تیاری کے لئے پتوں و پودوں کے دیگر حصوں سے بنی ہوئی کھاد جو بہت اچھی طرح گلی سڑی ہو ڈال کر روٹا ویٹر سے اچھی طرح زمین میں ملا لیں اور پانی لگا دیں۔ اب اس رقبے کو تیار کر کے اچھی طرح ہموار کرلیں ۔ اس ہموار زمین پر 8 تا 10 فٹ چوڑی حسب ضرورت لمبی اور 6 تا 8 انچ اونچی پٹڑیاں بنا لیں۔ دو پٹڑیوں کے درمیان 2 فٹ جگہ چلنے پھرنے اور بیٹھ کر گوڈی کرنے کے لئے چھوڑ دیں۔

نرسری کاشت کرنے کا طریقہ :۔ نرسری ہمیشہ جالی دار واک ان ٹنل بنا کر اس میں کاشت کریں۔ جالی دار واک ان ٹنل کی پہلی لائن سے بجائی شروع کریں اور 3 انچ کے فاصلہ پر ایک ایک بیج لگاتے جائیں، ایک لائن مکمل ہونے کے بعد دوسری لائن میں بیج لگاتے وقت کوشش کریں کہ دو ملحقہ لائنوں میں بیج آمنے سامنے نہ آئیں تاکہ پودوں کو اگنے کے بعد بڑھوتری کے لئے زیادہ کھلی جگہ مل سکے۔ بیج کاشت کرنے کے بعد سریے سے بنائی گئی لائنوں پر پتوں کی اچھی طرح گلی سڑی کھاد بھل میں ملا کر تھوڑی سی مقدار میں ڈال کر اوپر سے جھاڑو لگا کر سطح ہموار کر دیں۔ بیج لگانے کے بعد ہرپٹڑی کو دھان کی پرالی، سرکنڈا یا دب وغیرہ سے ڈھانپ دیں۔ بیج پھوٹنے شروع ہوں تو پرالی وغیرہ کو اوپر سے ہٹا دیں ۔ پودے اگنے کے بعد مناسب وقفہ سے پٹڑیوں پر پودوں کے درمیان سے جڑی بوٹیاں ہاتھ سے نکالتے رہیں۔

نرسری کی آبپاشی:۔ نرسری کاشت کرنے کے بعد سے لے کر منتقلی تک نرسری کو پانی والے فوارے کے ساتھ حسب ضرورت پانی دیتے رہیں۔ نرسری والی پٹڑی کو کسی صورت خشک نہ ہونے دیں اور نہ ہی زیادہ گیلا رکھیں تاکہ تر وتر رہے۔ دن کے اوقات میں نرسری کو اس طرح پانی لگائیں کہ شام ہونے سے قبل پتے خشک ہو جائیں۔ بیج لگانے کے بعد ٹماٹر کی نرسری کو دو یا تین ہفتے بعد اور شملہ و سبز مرچ کو چار ہفتے بعد پانی لگانا بند کر دیں تاکہ نرسری کے پودوں میں سختی آ جائے اور ان میں پانی کی کمی برداشت کرنے کی قوت پیدا ہو جائے۔

زمین کی تیاری:۔ ٹنل کے اندر چونکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کا حصول پیش نظر ہوتا ہے اس لئے زمین کی پیداواری صلاحیت بہت زیادہ ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لئے انتہائی زرخیز زمین درکار ہوتی ہے۔ کاشت سے پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد زمین میں بحساب 15 تا 20 ٹن فی ایکڑ استعمال کریں ۔ سبز کھاد کے طور پر جنتر کاشت کریں اور پھول آنے سے پہلے اس کو زمین میں روٹا ویٹ کر دیں تاکہ زمین میں نامیاتی مادہ کی کمی پوری ہو سکے۔ کاشت سے پہلے اچھی طرح ہل اور سہاگہ چلا کر زمین تیار کر لیں اور بلحاظ فصل مقررہ فاصلے پر نشان لگانے کے بعد پٹڑیاں بنا لیں۔
کھادوں کا استعمال:۔ کھادوں کے استعمال سے پہلے ضروری ہے کہ زمین کا تجزیہ لیبارٹری سے کرا لیں تاکہ زمین کی زرخیزی کا پتہ چل سکے اور اس کے مطابق کھادیں استعمال کی جا سکیں۔ تاہم اوسط درجہ کی زرخیز زمین کے لئے مندرجہ ذیل مقدار میں کھادوں کا استعمال کریں۔

واک ان اور بلند ٹنلز میں کھیرا اور گھیا کدو کی کاشت کیلئے زمین کی تیاری کے وقت ساڑھے چار بوری ڈی اے پی+ چار بوری پوٹاشیم سلفیٹ، ایک ماہ بعد مٹی چڑھاتے وقت ڈیڑھ بوری یوریا ، پھول آنے پر ایک بوری یوریا + ایک بوری نائٹروفاس + آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ پہلی چنائی کے ایک ماہ بعد ایک بوری یوریا + ایک بوری نائٹروفاس + آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔ ٹماٹر کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری کے وقت ساڑھے چار بوری ڈی اے پی + چار بوری پوٹاشیم سلفیٹ، مٹی چڑھاتے وقت ڈیڑھ بوری یوریا، پہلی چنائی پر ایک بوری یوریا + ایک بوری نائٹروفاس + آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ پہلی چنائی کے ایک ماہ بعد ایک بوری یوریا + ایک بوری نائٹروفاس+ آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔ شملہ مرچ اور سبز مرچ کی کاشت کیلئے زمین کی تیاری کے وقت سوا دو بوری ڈی اے پی+ دو بوری پوٹاشیم سلفیٹ، مٹی چڑھاتے وقت ایک بوری یوریا، پہلی چنائی پر ایک بوری یوریا + ایک بوری نائٹروفاس + آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ پہلی چنائی کے ایک ماہ بعد ایک بوری یوریا + ایک بوری نائٹروفاس + آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔

پست ٹنل میں کریلا کی کاشت کیلئے زمین کی تیاری کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ، پودوں کا قد 10 سم ہونے پر آدھی بوری یوریا، پھول آنے پر آدھی بوری یوریا + ایک بوری نائٹروفاس+ آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ پہلی چنائی کے ایک ماہ بعد آدھی بوری یوریا+ ایک بوری نائٹروفاس+ آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ استعمال کریں۔ چپن کدو کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ، پودوں کا قد 10 سم ہونے پر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔ حلوہ کدو، گھیا کدو، گھیا توری اور کھیرا کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی + ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ، پھول آنے پر ایک بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔ خربوزہ اور تربوز کی کاشت کے لئے زمین کی تیاری کے وقت دو بوری ڈی اے پی + چار بوری ایس ایس پی (18 فیصد)+ ایک بوری ایس او پی + دو بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں۔

نرسری کی ٹنل میں منتقلی:۔ نرسری ہمیشہ شام کے وقت ٹنل میں منتقل کریں اور ساتھ ہی پانی لگا دیں۔نرسری منتقل کرتے وقت یہ خیال رکھا جائے کہ نرسری اگر زمین میں لگائی گئی ہے تو نرسری اکھاڑتے وقت بڑی جڑ (Main Root) نہ ٹوٹے وگرنہ اس کا اثر آئندہ پودے کی بڑھوتری اور آخر کار اس کے پھل پر پڑے گا۔
پودوں اور لائنوں کے درمیان فاصلہ:۔ اچھی اور صحتمند نرسری کو ٹنل میں منتقل کرنے کے لئے پودوں اور لائنوں کے درمیان متوازی فاصلہ رکھنا چاہیے تاکہ پودے کے چاروں طرف سے روشنی اور ہوا کا گزر آسانی سے ہو سکے اور پودے کی جڑیں بھی چاروں طرف سے خوراک حاصل کر سکیں۔

آبپاشی:۔ موسم کے لحاظ سے پانی میں کمی بیشی کریں شدید گرم موسم میں ہر تین تا چار دن بعد پانی دیں جب کہ سردیوں میں دو تا تین ہفتہ بعد ہلکا پانی دیں۔ ٹنل میں آبپاشی کا موزوں ترین طریقہ ڈرپ اریگیشن ہے اس سے پیداوار میں قابل قدر اضافہ ہوتا ہے اور ٹنل نمی کی زیادتی سے محفوظ رہتی ہے اس کے علاوہ کھادوں کا بھی صحیح استعمال ہوتا ہے۔ پانی اور کھاد میسر رہنے کی وجہ سے پودے صحتمند رہتے ہیں اور پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔

ٹنل کی صفائی اور کیڑوں اور بیماریوں کا بروقت تدارک:۔ ٹنل کے اندر اور باہر ہر قسم کے مرے (Dead) ہوئے پودے تلف کر دیں جو کہ ٹنل کے اندر بیماری پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ سفید مکھی، ٹوکا، تیلا (Aphid) اور سرنگ بنانے والے کیڑے (Leaf Miner) کا ٹنل کے اندر داخلہ روکنے کے لئے اندر اور ارد گرد مناسب کیڑے مار ادویات کا استعمال محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے کریں

Off-season Vegetables
Off-season Vegetables

بے موسمی سبزیات کی کاشت

Copy Rights @ www.zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More