محکمہ لائیوسٹاک کی مانیٹرنگ ڈیویژن اور تحصیل کی سطح پر بھی کی جائے گی

Livestock Sector
Livestock Sector

لاہور :محکمہ لائیوسٹاک و ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب کا ہدف دنیا میں دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر سے پہلے نمبر پر آنا ہے اور یہ ممکن ہے۔ ہمارے پاس جانوروں کی بڑی تعداد موجود ہے بس ہمیں بہتر خوراک ، مینجمنٹ اور بریڈنگ کے ذریعے فی جانور پیداوار میں اضافہ کرنا ہو گا۔اگر ہم دودھ کی پروسیسنگ کو 4فیصد سے 10 فیصد پر لے جائیں تو انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو دودھ امپورٹ کرنے کی بجائے دوسرے ممالک میں بھیجنا چاہئے۔ گوشت کی حلال مارکیٹ میں بڑا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا شمار دنیا کے پانچ بڑے میٹ ایکسپورٹرز میں ہوسکتا ہے۔ پولٹری میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے ایکسپورٹ پوٹینشل موجود ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر ساجد یوسفانی سیکرٹری لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ پنجاب نے ڈاکٹر خالد محمود شوق چیف ایڈیٹراور ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب ایڈیٹر ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز سے خصوصی ملاقات میں کیا۔ اس موقع پر پولٹری و لائیوسٹاک کے شاعر محمد اقبال نلے والے، زرعی میڈیا ڈاٹ کام کے چیف ایگزیٹو خرم شہزاد اور یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ انیمل سائنسز کے مینجر پلیسمنٹ سنٹر محمد احمد بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام اہداف کو حاصل کرنے کے لئے صرف لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کام نہیں کررہابلکہ تحقیقی ادارے، ویٹرنری یونیورسٹیاں اور کالجزسب ساتھ ساتھ ہیں۔ یہ سب بھی ڈیپارٹمنٹ ہی کا حصہ ہیں۔محکمہ کے دیگر اہداف کے بارے ان کا کہنا تھا کہ ہم مستقبل میں بہاولپور میں ویٹرنری یونیورسٹی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ سمال ریومننٹس ریسرچ سنٹر کا قیام، فٹ اینڈماؤتھ ڈیزیز کا کنٹرول اور پولی ویلنٹ ویکسین کی تیاری بھی ڈیپارٹمنٹ کی ترجیحات میں شام ہیں۔محکمہ کے فارمز پر فوڈر ریسرچ کا شعبہ بھی قائم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح پروونشل اور ڈسٹرکٹ سرٹیفائیڈ لیبز کو ریسرچ ونگ سے منسلک کر رہے ہیں تاکہ ریسرچ کے اداروں اور فیلڈ کے مابین رابطہ رہے اور دونوں مل کر بیماریوں کی روک تھام کے لئے کام کر سکیں۔

محکمہ کے مانیٹرنگ سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نئے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت محکمہ لائیوسٹاک کی مانیٹرنگ کو مؤثر بنایا جائے گا۔ اس نئے سیٹ اپ میں تحصیل لیول پر بھی مانیٹرنگ یونٹ قائم ہو گا تاکہ ایک DLO کو سارا ضلع براہِ راست مانیٹر نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح ڈیویژن کی سطح پر بھی مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا جائے گا جو کمشنر کے ساتھ کام کرے گا۔ اس سے صوبے بھر کی مانیٹرنگ بہتر ہو جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ پنجاب بھر کے ویٹرنری اسسٹنٹس کو انٹرنیٹ کے ذریعے کنیکٹ کیا جائے گا جس سے روزانہ کی بنیاد پر فیڈ بیک کا حصول ممکن ہو گا ۔ ریگولیٹری سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے محکمہ نے چار پانچ نئے قوانین ڈرافٹ تیار کر لئے ہیں جن میں پولٹری ریگو لیشنز، میٹ پرڈکشن ریگولیشنز، میٹ پروسسینگ ریگولیشنز وغیرہ شامل ہیں۔ اسمبلی کے پراسیس کے بعد یہ فائنل ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ لائیوسٹاک امپورٹ کے مسائل پر قابو پانے کے لئے فیڈرل گورنمنٹ کے ساتھ مل کے کام کر رہے ہیں۔
غیر منظور شدہ ویٹرنری تعلیمی اداروں کے بارے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ایکریڈیشن کے لئے ٹائم فریم تو یونیورسٹیاں دیں گی مگر ہم اس معاملے میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔ محکمہ کے فارمز ان اداروں کو الاٹ کر دیے ہیں۔ لیبارٹریز کے لئے جلد حکومت سے گرانٹ لے دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ فیکلٹی دینے کے لئے بھی تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گورنمنٹ کا کام ڈائریکشن دینا اور پالیسی میکنگ میں فیسیلٹیٹ کرناہے۔ اصل کام پرائیویٹ سیکٹر کو کرنا ہوتا ہے ۔ ہمارا کام ہے سائیلیج بنا کر دیکھانا ، آگے پرائیویٹ سیکٹر کا کام ہے کہ وہ اس میں سرمایہ کاری کرے۔ہم نے سائیلیج کا ماڈل پیش کر دیا اس کے بعد پرائیویٹ سیکٹر نے اس کو کامیاب بزنس کے طور پراپنایا۔ اسی طرح حکومت سارے پنجاب میں ونڈا سپلائی نہیں کر سکتی ۔ ہم نے بطور ماڈل ونڈا بنا کے دیکھا دیا اس کے بعد نجی شعبہ میں ونڈے کے کئی یونٹس قائم ہو گئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیویلپمنٹ بورڈ (PLDDB)اور پنجاب ایگریکلچر اینڈ میٹ کپمنی(PAMCO) کو بند کرنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ یہ اپنے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کام کریں گے اور اپنے اہداف کو پورا کریں گے۔ ان اداروں کے چیف ایگزیٹو آفیسرز کی سلیکشن انڈر پروسس ہے جبکہ ان کو درپیش دیگر مسائل کو ہرصورت حل کیا جائے گا۔ ڈاکٹر خالد محمود شوق کی جانب سے دی گئی میڈیا کنسلٹییٹوبورڈ کے قیام کی تجویز کا سیکریٹری لائیوسٹاک و ڈیری ڈیویلپمنٹ نے خیر مقدم کیا ۔

Copy Rights @ www.zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More