مونگ اور ماش کی کاشت

مونگ اور ماش کی کاشت
مونگ اور ماش کی کاشت

کاشتکار مونگ اور ماش کی کاشتہ فصلات کو حالیہ بارشوں اور مون سون کے جاری سیزن میں مزید پانی نہ دیں کیونکہ ان فصلات میں زیادہ پانی سے نباتاتی نشوونما میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے اورپھل پھول کم لگتے ہیں ۔ محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق سال 2012-13ء میں پنجاب بھر میں 2لاکھ 88ہزار 561ایکڑ رقبہ پر مونگ کاشت کی گئی ہے جس میں سے 2لاکھ 75ہزار 984ایکڑ آبپاش جبکہ 12ہزار 577ایکڑ بارانی ہے ۔مونگ کا پیداواری ہدف 78ہزار 469ٹن رکھا گیا ہے۔اسی طرح 44ہزار 128ایکڑ رقبہ ماش کے زیر کاشت ہے جس میں سے 5ہزار 421ایکڑ آبپا ش جبکہ 38ہزار 707ایکڑ بارانی ہے ۔

ماش کا پیداواری ہدف 6ہزار 54ٹن مقرر کیا گیا ہے ۔زرعی ماہرین کے مطابق مونگ اور ماش کی فصلات کے پیداواری اہداف کے حصول کے لیے حالیہ بارشوں کے دوران پانی کے استعمال کے لیے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ان فصلات کو کاشت سے لے کر برداشت تک صرف تین پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ترجمان نے ہدایت کی کہ بارشوں کے دوران اُگنے والی جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی یقینی بنائیں ۔ ضرورت پڑنے پر پھول نکلنے اور پھلیاں بننے کے عمل کے دوران ہلکی آبپاشی کی جا سکتی ہے ۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ ان فصلات سے بھرپور پیداوار لینے کے لیے حملہ آور کیڑوں خصوصاََ لشکری سنڈی ، سفید مکھی اور سبز تیلے کے تدارک کی طرف خصوصی توجہ دیں کیونکہ یہ کیڑے مختلف بیماریاں مثلاََ پتوں کا پیلا پن اور چُر مُر وائرس پھیلانے کا سبب بنتے ہیں ۔اسی طرح زیادہ نمی اور بارش والے موسم میں پتوں کی دھبے دار بیماری، جڑ اور تنے کا گلنا، تنے کی سڑانڈ ، پودوں کا مرجھاؤ اور کوڑھ پن جیسی بیماریوں کا شدید حملہ ہو سکتا ہے ۔ ان بیماریوں کے حملہ کی صورت میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے کسی موثر پھپھوندی کش زہر کا سپرے کریں۔

Copy Rights @ www.zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More