ریڈ کاٹن بگ اور ڈسکی کاٹن بگ کا بروقت تدار ک انتہائی ضروری ہے: محکمہ زراعت

 کپاس کی پیداوار بڑھانے
کپاس کی پیداوار بڑھانے

لاہور :23 اگست 2013:محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق کپاس کی پیداوار بڑھانے اور عمدہ کوالٹی کی روئی پیدا کرنے کے لیے ریڈ کاٹن بگ اور ڈسکی کاٹن بگ کا بروقت تدار ک انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ کیڑے کپاس کے پھولوں اور ٹینڈوں سے رس چوس کرنہ صرف پیداوارمیں کمی کا سبب بنتے ہیں بلکہ روئی کو داغ دار کر کے کوالٹی کو شدید متاثر کرتے ہیں ۔ترجمان نے مزید بتایا کہ اس وقت صوبہ پنجا ب میں 57لاکھ 80ہزار ایکڑ رقبہ پر کپاس کاشت کی گئی ہے ۔جس کا پیداواری ہدف 96لاکھ گانٹھ مقرر کیا گیا ہے۔

روئی کی کوالٹی بہتر نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال ملکی سطح پر اربوں روپے کا نقصان ہو جاتا ہے ۔ عمدہ قسم کی کپاس اور روئی پیدا کرنے کے لیے صاف چنائی ،ذخیرہ اور ترسیل میں احتیاط کے ساتھ ساتھ ان کیڑوں پر کنٹرول حاصل کرنا از حد ضروری ہے ۔ زرعی ماہرین کے مطابق ان کیڑوں کے بالغ اور بچے دونوں حالتوں میں سبز ٹینڈے میں اپنی سوئی داخل کر کے بیج کا رس چوس لیتے ہیں ۔متاثرہ بیج اور روئی پر بیکٹیریا اور فنجائی کا حملہ ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجہ میں ٹینڈا پوری طرح نہیں کھلتا اور غیر معیاری روئی پیدا ہوتی ہے۔

کیڑے کے فضلات سے بھی روئی آلودہ ہو جاتی ہے یا پھر جننگ فیکٹریوں میں جننگ کے دوران ان کیڑوں کے کچلنے سے روئی پر داغ بن جاتے ہیں ۔ترجمان نے مزید بتایا کہ بیج پر شدید حملہ کی صورت میں تیل کے اجزاء کم ہو جاتے ہیں اور اس طرح بیج کا اگاؤ بھی متاثر ہوتا ہے ۔زیادہ نمی اور کم درجہ حرارت پر ان کیڑوں کا حملہ بڑھ جاتا ہے اس طرح ستمبر سے نومبر تک ان کیڑوں کے حملہ کے تدارک کے لیے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ترجمان کے مطابق ان کیڑوں کی میزبان فصلات یعنی بھنڈی توری، جوار ، باجرہ اور پٹ سن پر بھی ان کیڑوں کی تلفی کو یقینی بنائیں ۔جڑی بوٹیوں کی تلفی پر خصوصی توجہ دیں ۔ فصل پر حملہ کی صورت میں زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زہروں میں سے کسی ایک زہر کا سپرے کریں ۔

کاٹن, Cotton

Copy Rights @ www.zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More