آم کے باغات میں بعد از بر داشت تحفظِ نباتات

Saturday, 17 August 2013

زرعی میڈیا ڈاٹ کام

آم, Mango
آم, Mango

صوبہ پنجاب میں سال 2011-12 ء میںآم کے 2لاکھ75ہزار ایکڑ زیر کاشت رقبہ سے1.3ملین ٹن پیداوار حاصل ہوئی۔ اس طرح اوسط پیداوار 126.9من فی ایکڑ رہی ۔ آم کے باغات سے بھرپور پیداوار لینے کے لیے اس پر حملہ آور بیماریوں کا تدارک کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ آم کا پودا نرسری سے لے کر پھل کے پکنے تک سارا سال مختلف بیماریوں کی زد میں رہتا ہے۔ اس پودے کا کوئی بھی حصہ ایسانہیں جس پر کسی بیماری کا حملہ نہ ہوتا ہو۔ ان بیماریوں میں پاؤڈری ملڈیو (Powdery Mildew ) ، بلاسم بلائیٹ (Blossom Blight) اور آم کا بٹور (Malformation) قابلِ ذکر ہیں۔ ان تینوں بیماریوں کی وجہ سے پھل نہیں بنتا یاابتدائی مراحل میں ہی گر جاتا ہے ۔ وہ بیماریا ں جو پتوں ، تنے ، شاخوں اور جڑوں پر حملہ آور ہو تی ہیں ان کے نقصان کا اندازہ باغبان صحیح طور پر نہیں لگاسکتے کیونکہ ان بیماریوں کا پھل سے براہ راست تعلق نہیں ہوتالیکن ان کی وجہ سے بھی پیداوار میں بہت حد تک کمی آتی ہے اور بالآخر پودے انحطاط کا شکار ہو جاتے ہیں۔

آم کا پودا اپریل سے لے کر ماہ اگست تک نئی منزلیں نکالتا ہے جن پر مذکورہ بالا بیماریوں میں سے کوئی بھی بیماری اِس دوران حملہ آور ہوسکتی ہے ۔ماہ اگست ستمبر میں موسمی حالات تمام بیماریوں کے لئے سازگار ہوتے ہیں ا وراس موسم میں ان بیماریوں کے جراثیم چست ہو کر حملہ کرتے ہیں۔ بیماری کے جراثیم موسم سرما میں بیماری کامنبہ (Inoculumn ) ثابت ہو کر سردی کاموسم گزارتے ہیں ۔ موسمِ سرما کے بعد موسم بہار میں پودوں پر حملہ آور ہوتے ہیں جس سے پھولوں اور پھر یقیناًپھل کو خاصا نقصان پہنچتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آم کے پھل کی برداشت کے بعد یعنی اگست ستمبر میں تحفظِ نباتات کا خاص طور پر خیال رکھا جائے تا کہ نہ صرف ان بیماریوں کے جراثیم جو اِسی موسم میں دوسری مرتبہ حملہ آور ہونے جارہے ہیں وہ تلف ہو جائیں بلکہ وہ بیماریاں جن کاحملہ اگلے سال موسم بہار میں متوقع ہوتا ہے، تحفظِ نباتات کی مناسب حکمت عملی اپناتے ہوئے انکی بھی تلفی یقینی بنائی جا سکے اس لئے آم کے پھل کی برداشت کے بعد ان سفارشات پر عمل کر یں۔

آم کے پھل کی برداشت کے بعد بیمار، خشک ، آپس میں الجھی ہوئی ، بٹور والی اور زمین کے ساتھ لگنے والی شاخیں کاٹ دیں۔ صحیح کاٹ چھانٹ کے لئے مکمل طور پر

Canopy Management

کے حوالہ سے ماہرین سے آگا ہی حاصل کریں تاکہ آم کے درختوں کی چھتری کو مناسب حد تک کاٹ کر ان کی صحیح طور پر سنبھال کی جا سکے۔ کاٹ چھانٹ کے لئے آری اور تیز دھار والے آلات استعمال کریں۔آم کے باغات میں کلہاڑا یا کُند آلات نہ چلائے جائیں۔ بڑی شاخیں کاٹنے کے بعد اِ ن پر بورڈو پیسٹ چونا، نیلا تھوتھا یا کاپر سلفیٹ اور پانی

1:1:10 کی نسبت سے لگائیں۔ بڑی شاخ کو ہمیشہ تِرچھا یعنی لکھنے والی قلم کی شکل میں کاٹ کر اُس کے اوپر بورڈو پیسٹ لگا دیں۔ اس کے بعد پودوں پر کاپر والی پھپھوندی کش زہر مثلاً کاپر آ کسی کلورائیڈ یا کاپر ہائیڈروآکسائیڈ بحساب 250 گرام 100 لیٹر پانی میں یا بورڈو مکسچر بحساب 4:4:50 کی نسبت سے اچھی طرح سپرے کر دیں۔ایسے پودے جو ڈائی بیک (Die Back ) ، سڈن ڈیتھ (Sudden Death ) یا گموسس (Gummosis ) کا شکار ہوں اس موسم میں ان پودوں کا علاج بہتر طریقے سے ماہرین کے مشورہ سے کریں۔ سڈن ڈیتھ کی بیماری کی صورت میں کا ٹ چھانٹ کے بعد کاپر والی زہر کا سپرے کریں پھر 15 دن کے وقفہ سے کسی بھی موئثرسرائیت پذیر پھپھوندی کش زہر کا دوسرا سپرے کریں ۔ اگست ستمبر میں کسی کیڑے کے حملہ کی صورت میں کیڑے مار زہر کو پھپھوندی کش زہروں کے ساتھ ملا کر بھی سپرے کیا جاسکتا ہے۔

آم, Mango

Copy Rights @ www.zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More