پالک کی کاشت (Spinach farming)

July 26, 2013

پالک کی کاشت(Spinach farming)
پالک کی کاشت(Spinach farming)

زرعی میڈیا ڈاٹ کام:

پالک کی کاشت (Spinach farming): پالک پتوں والی سبزیوں میں سب سے مقبول سبزی ہے۔ طبی اعتبار سے پالک جسم کا وزن، خون میں شوگر کی مقدار کم کرنے، گلے، چھاتی کی سوزش اور درد کو دور کرنے اور کینسر جیسے موذی مرض سے بچاتی ہے۔ پالک کی کاشت کے لئے معتدل سے سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے۔ پتوں کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے سرد مرطوب آ ب و ہوا چاہئے۔ یہ سرد موسم کی سبزی ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ درجہ حرارت(30تا35ڈگری سینٹی گریڈ) برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ تاہم سردیوں میں اس کی بڑھوتری نسبتاً زیادہ ہوتی ہے اور کم وقفہ سے فی کٹائی سے زیادہ پیداوارحاصل ہوتی ہے۔ پنجاب کے آب پاش علاقوں میں جولائی اگست میں کاشت کی ہوئی فصل سات کٹائیاں دینے کے ساتھ ساتھ زیادہ پیداوار دیتی ہے۔ جبکہ بارانی علاقوں میں مون سون سیزن کے بعد وتر حالت میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ وسط نومبر سے دسمبر تک کاشت ہونے والی فصل صرف ایک کٹائی دیتی ہے کیونکہ بعد میں اس کے پھول نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تا ہم پالک کو کھاد او رپانی کے مناسب استعمال سے سارا سال کاشت کیا جا سکتا ہے۔

پالک کا 15تا20کلو گرام بیج فی ایکڑ کے حساب سے بذریعہ ڈرل کاشت کریں۔بوائی سے قبل ٹاپسن ایم یاامیڈا کلوپرڈ2ملی گرام فی کلو گرام بیج کو لگا کر کاشت کریں۔پالک کیلئے زرخیز میرا زمین جس میں پانی کا نکاس بہتر ہو کا انتخاب کرنا چاہئے۔پالک قدرے کلراٹھی زمین کو بھی برداشت کر لیتی ہے لیکن زیادہ کلراٹھی زمین میں اس کی کاشت ممکن نہیں۔ کاشت سے ایک ماہ قبل زمین کو ہموار کرنے کے بعد گوبر کی گلی سڑی کھاد 12 تا 15 ٹن فی ایکڑ کے حساب سے ڈال کر دو دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر زمین میں ملا دیں اور کھیت کو پانی لگا دیں۔ وتر آنے پر دو دفعہ ہل اور سہاگہ چلاکر دبا دیں تاکہ جڑی بوٹیوں کے بیج اگ آئیں اور گوبر کی کھاد مزید گل سڑ جائے۔ پالک کی کاشت کے لئے کھیت کا ہموار ہونا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ پٹڑیوں پر پانی چڑھ جانے کی صورت میں یا بیج تک مناسب پانی نہ پہنچنے کی صورت میں اگاؤ متاثر ہوگا۔ کھیت کو دس دس مرلہ کی کیاریوں میں تقسیم کر لیں اور 75 سینٹی میٹر کے فاصلے پر پٹڑیاں بنا لیں۔ ان پٹڑیوں کے دونوں کناروں پر لکڑی سے 2 تا 3 سینٹی میٹر گہری لکیریں اس طرح کھینچیں کہ باہر کا کنارہ کھڑا رہے تاکہ پانی بیج تک نہ پہنچ سکے۔ ان لکیروں میں بیج کیرا کریں۔ بیج بونے کے بعد پٹڑی کے درمیان سے ہاتھ کی مدد سے مٹی لے کر بیج کو اچھے طریقے سے ڈھانپ دیں۔ کھیت کے ارد گرد گھوم پھر کر اچھی طرح سے اطمینان کر لیں کہ کہیں چیونٹیوں کے گھر موجود تو نہیں۔ اگر نظر آئیں تو فوراً کوپیکس پاوڈر کا چھڑکاؤ کریں۔ ایسا نہ کرنے سے کیڑے پالک کا بیج نکال کر ایک جگہ اکٹھا کر دیں گے جس کی وجہ سے اگاؤ بری طرح سے متاثر ہوگا۔

کاشت کے وقت: نائٹروجن 23 کلو گرام، فاسفورس 27 کلوگرام (3بوری سنگل سپر فاسفیٹ+ 1بوری یوریا یا سوا بوری ڈی اے پی+ 189بوری یوریا) استعمال کریں۔دو کٹائیوں کے بعد ایک بوری یوریا (23کلو گرام نائٹروجن)فی ایکڑ ڈالنے سے بعد والی کٹائیاں جلدی تیار ہو جاتی ہیں۔ پتے بڑے ہونے کی وجہ سے زیادہ پیداوار حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ منڈی میں بہتر قیمت مل جاتی ہے۔

جب پودے تین سے چار پتے نکال لیں تو گچھے اکھاڑ دیں۔ چھدرائی کرنے میں ہرگز دیر نہ کریں۔ کیونکہ دیر سے اکھاڑنے پر بچ جانے والے پودے بھی متاثر ہوں گے جس سے پیداوار بری طرح متاثر ہوگی۔ جبکہ ایک جگہ پر زیادہ تعداد میں اگے ہوئے پودوں کی بڑھوتری بھی متاثر ہوگی جس سے کٹائی دیر سے ہونے کے ساتھ پتے چھوٹے ہونے کی وجہ سے پیداوار بھی کم ہوگی۔پہلی آبپاشی بوائی کے فوراً بعد کریں۔ اس طرح پٹڑیوں پر کاشت کی ہوئی فصل کے لئے پانی کا وقفہ 8 تا 10 یوم رکھیں جبکہ ڈرل سے کاشت کی ہوئی فصل کیلئے پانی کا وقفہ 12 تا 14 یوم رکھیں۔ بوائی کرنے کے ایک ماہ بعد گوڈی کرنے سے جڑی بوٹیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ہر کٹائی کے بعد گوڈی کرنے سے جڑی بوٹیوں سے پاک پتے حاصل ہوں گے جن کی مارکیٹ میں زیادہ قیمت ملے گی۔ سیاہ دھبوں کی بیماری اور پچھیتا جھلساؤ اہم بیماریاں ہیں۔ فصل پر حملہ آور ہونے والے کیڑے سست تیلا اور امریکن سنڈی ہیں۔پتوں کو کاٹ کر چھوٹی چھوٹی گچھیاں بنالی جاتی ہیں ۔ اُن گچھیوں کو سایہ دار جگہ پر گیلے ٹاٹ کے نیچے رکھیں تاکہ منڈی پہنچنے تک پتوں کا رنگ اور تازگی برقرار رہے۔

“دیسی پالک” کے نام سے ادارہ تحقیقات سبزیات نے 1992 میں پالک کی قسم عام کاشت کے لئے منظور کروائی ہے اس قسم کے پتے موٹے، چوڑے، نرم اور رسیلے ہوتے ہیں۔ پتوں کی رنگت گہری سبز اور پیداوار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی پیداواری صلاحیت 35ٹن فی ہیکٹر ہے۔ نیز یہ قسم بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بھی رکھتی ہے۔ “کنڈیاری پالک” اس کے پتے کٹے ہوئے اور بیج کانٹے والے ہوتے ہیں۔ یہ قسم گرم موسم میں کامیاب نہیں رہتی۔ اس کے پتے نرم اور ذائقہ میں اچھے ہوتے ہیں۔ پیداوار قدرے کم ہوتی ہے۔(زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب)
پالک کی کاشت (Spinach farming)
***

Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More