دھان کی سنڈیاں، ضرر رساں کیڑے اور ان کا انسداد

July 24, 2013

دھان کے کاشتکار
دھان کے کاشتکار

(زرعی میڈیا ڈاٹ کام ) دھان پاکستان کی ایک اہم اور نقد آور فصل ہے۔زمانہ قدیم سے ہی چاول کو انسانی غذا کا اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے اور یہ براعظم ایشیا میں گندم کے بعد اہم ترین غذا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔یہ فصل ہماری غذائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کمانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان دنیا میں چاول برآمد کرنے والے ممالک میں اہم مقام رکھتا ہے۔دھان کی فصل پر سنڈیاں اورنقصان رساں کیڑے حملہ آور ہو کر پیداوار کا نقصان کرتے ہیں۔ دھان کی فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے ان سنڈیوں اور ضرر رساں کیڑوں کا بروقت اور مناسب طریقہ سے انسداد بہت ضروری ہے۔

دھان کے تنے کی سنڈیاں:۔ دھان کی فصل خصوصاً باسمتی اقسام کو سب سے زیادہ نقصان تنے کی سنڈیوں سے ہوتا ہے۔ زرد اور سفید رنگ کی سنڈیاں زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں جبکہ تنے کی گلابی سنڈی کم نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ سنڈیاں مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں کویا (Pupa) میں تبدیل ہوتی ہیں جن سے پروانے بن کر نکلتے ہیں اور آئندہ فصل کیلئے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ یہ سنڈیاں تنے میں داخل ہو کر اندر ہی اندر کھاتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے پودوں میں درمیان والی کونپل سوکھ جاتی ہے جسے ’’سوک یا ڈیڈ ہارٹ‘‘ کہتے ہیں۔ پودوں پر سٹے بنتے وقت حملہ کی صورت میں سٹے سفید ہو جاتے ہیں اور ان میں دانے نہیں بنتے جنہیں ’’وائٹ ہیڈ‘‘ کہتے ہیں،

تنے کی زرد سنڈی:۔ مکمل سنڈی سفیدی مائل زرد ہوتی ہے ،پروانے کے اگلے پروں کے درمیان ایک سیاہ نقطہ نما نشان ہوتا ہے۔ یہ کیڑا سنڈی کی حالت میں دھان کی فصل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ موسم سرما میں سنڈیاں دھان کے مڈھوں میں سرمائی نیند گزارتی ہیں۔

تنے کی سفید سنڈی:۔ پروانے کا رنگ چمکدار، دودھیا سفید ہوتا ہے، مادہ پروانے کے پیٹ کے آخری حصہ پر زرد بالوں کو گچھا ہوتا ہے۔ سنڈی کا رنگ قدرے سبزی مائل سفید ہوتا ہے۔ فصل کی ابتدائی حالت میں حملہ شدہ شاخ کو’’ سوک‘‘ کہتے ہیں۔ موسم سرما میں سنڈیاں دھان کے مڈھوں میں سرمائی نیند گزارتی ہیں۔

تنے کی گلابی سنڈی:۔ پروانے کا رنگ بھورا، جسم بھاری بھرکم، سر چوڑا اور گھنے بالوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ اگلے پروں پر درمیان میں لمبائی کے رخ ایک ہلکی لکیر ہوتی ہے۔ مکمل سنڈی گلابی ہوتی ہے۔ فصل کی ابتدائی حالت میں سوک بناتی ہے۔ دھان کے علاوہ مکئی، کماد، گندم، جئی، سوانک اور سرکنڈا اس کے میزبان پودے ہیں۔

انسداد:۔ تنے کی سنڈیوں کے نقصان کی معاشی حد روشنی کے پھندوں پر 10-8 پروانے فی رات ہے۔ دھان کے تنوں کی سنڈیوں کے تدارک کیلئے دھان کے پتوں پر موجود انڈوں، کھیتوں اور ان کے اطراف میں اگی ہوئی جڑی بوٹیاں تلف کر دیں۔ رات کو روشنی کے پھندے لگائیں۔

پتہ لپیٹ سنڈی اور اس کا انسداد:۔ پروانے کے پر سفید رنگ کے اور ان پر بھوری مائل سیاہ ٹیڑھی میڑھی لائنیں ہوتی ہیں۔ اس کی سنڈیاں پتوں کا سبز مادہ کھاتی ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر مٹیالے رنگ کی لکیریں پڑ جاتی ہیں۔ پتے کا سبز مادہ کم ہونے سے پتے میں خوراک بنانے کی صلاحیت بہت کم رہ جاتی ہے۔ انڈے سے نکلنے کے بعد سنڈی ایک دو دن تک کھلے پتوں پر ملتی ہے مگر بعد میں یہ سنڈی پتے کے دنوں کناروں کو اپنے لعاب سے بنائے ہوئے دھاگے سے جوڑ کر نالی نما بنا لیتی ہے

اور اس کے اندر رہ کر پتے کے سبز مادہ کو کھاتی ہے جس سے ضیائی تالیف کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ دھان کی فصل پر پتا لپیٹ سنڈی کے نقصان کی معاشی حد 2 سنڈیاں فی پودا ہیں۔ اس کے انسداد کیلئے حملہ کی ابتداء ا میں ہی متاثرہ پتوں کو کاٹ کر تلف کر دیں۔

لشکری سنڈی اور اس کا انسداد:۔ یہ کیڑا سنڈی کی حالت میں فصل کو نقصان پہنچاتا ہے، سنڈی کا رنگ سیاہی مائل سبز ہوتا ہے اور اس کے جسم پر ہلکی دھاریاں ہوتی ہیں۔ اس کیڑے کا شمار کاٹنے اور کترنے والے کیڑوں کے گروپ میں ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر ماہ ستمبر، اکتوبر میں مونجی کی پکتی ہوئی فصل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کی سنڈی پکتی ہوئی فصل کے سٹوں کو کاٹ کاٹ کر ضائع کر دیتی ہے اور اس کے شدید حملہ کی صورت میں زمین پر مونجی کے سٹوں اور دانوں کی تہہ بچھ جاتی ہے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ یہ سنڈی چونکہ زیادہ تر پکتی ہوئی فصل پر حملہ کرتی ہے لہٰذا اس موقع پر ایسے زہروں کا سپرے یا دھوڑا کریں جن کا اثر کم عرصہ تک رہے۔ لشکری سنڈی کے انسداد کیلئے کیڑوں کے انڈوں اور چھوٹی سنڈیوں کے حامل پتوں کو توڑ کر تلف کر دیں، متبادل خوراکی پودوں اور جڑی بوٹیوں سے فصل کو پاک رکھیں۔ اگر سنڈیاں پورے قد کی ہو جائیں تو زہر پاشی سے گریز کریں ۔ ٹکڑیوں میں حملہ کی صورت میں پورے کھیت پر سپرے کرنے کی بجائے صرف متاثرہ حصوں پر حملہ کو کنٹرول کریں۔ اگر یہ کیڑا شدت اختیار کر جائے اور اس امر کا احتمال ہو کہ اس کی آبادی متاثرہ کھیت سے دوسرے قریبی کھیتوں میں منتقل ہو جائے گی تو ان کھیتوں کے ارد گرد نالیاں کھود کر پانی بھر دیں اور اس میں مٹی کا تیل ڈال دیں۔ طفیلی کیڑے اور پرندے اس کے انسداد میں بڑا مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔ دھان کے کھیتوں کے نزدیک باجرہ وغیرہ کی فصل کاشت کر کے پرندوں کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔فصل کے شروع ہی میں روشنی کے پھندے لگا دیں تو اس کے پروانوں کو تلف کیا جا سکتا ہے لیکن اگر کسی علاقے میں اجتماعی طور پر روشنی کے پھندے لگائے جائیں تو بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

ٹوکا، ٹڈا (گراس ہاپر) اور اس کا انسداد:۔ دھان کی فصل پر ٹوکا کی 6-5 اقسام حملہ کرتی ہیں۔ ٹوکا کی اکثر اقسام سبز رنگ کی ہوتی ہیں مگر بعض خاکی اور مٹیالے رنگ کی بھی ہوتی ہیں۔ ٹوکا زمین میں یا پتوں پرگچھوں کی شکل میں انڈے دیتا ہے۔ اس کے بچے اور بالغ پتوں کو کھاتے ہیں۔ یہ کیڑا موسم سرما انڈوں کی حالت میں کھیت کی وٹوں پر یا زمین کے اندر گزارتا ہے۔ ان انڈوں سے بچے نکل کر شر وع مارچ میں برسیم، سورج مکھی، کماد اور جڑی بوٹیوں پر گزارا کرتے ہیں جہاں سے کماد، سبز چارے کا نقصان کر کے دھان کی پنیری پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ فصل پرٹوکا کے نقصان کی معاشی حد 5 بالغ کیڑے فی نیٹ ہے۔ اس کے انسداد کیلئے کھیتوں کے اندر اور اطراف میں اگی ہوئی جڑی بوٹیاں تلف کردیں تاکہ یہ کیڑا پرورش نہ پا سکے اس کے علاوہ دستی جالوں سے پکڑ کر بھی ان کو تلف کیا جا سکتا ہے۔

سفید پشت والا تیلہ اور اس کا طریقہ تدارک:۔ یہ کیڑا جسامت میں بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن نقصان بہت پہنچاتا ہے۔ یہ پودے کے نچلے حصہ یعنی تنے سے رس چوستا ہے۔ جب نیچے سے فصل سوکھ جائے تو اوپر پتوں اور منجروں پر حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ کیڑا بچہ اور بالغ دونوں حالتوں میں فصل کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کا حملہ عام طور پر کھیت میں ٹکڑیوں کی شکل میں ہوتا ہے۔ بالغ اور بچے پودوں کے پتوں اور تنوں کا رس چوستے ہیں۔ متاثرہ پتے پیلے اور پھر بھورے ہو جاتے ہیں ۔ شدید حملہ کی صورت میں پودے سوکھ کر سیاہ رنگ کے ہو جاتے ہیں اور جھلسے ہوئے معلوم ہوتے ہیں حملہ کی اس نوعیت کو’’ ہاپر برن یا تیلے کا جھلساؤ ‘‘کہتے ہیں۔تیلے کے نقصان کی معاشی حد میں کیڑوں کی تعداد 20-15 بچے یا بالغ فی پودا ہیں اس کے انسداد کیلئے کھیت کے اندر اور اطراف میں اگی ہوئی جڑی بوٹیاں تلف کردیں کیونکہ تیلا ان پر پرورش پاتا ہے۔ دستی جال سے ان کو اکٹھا کر کے تلف کر دیں۔

دھان کی فصل پر ان نقصان رساں سنڈیوں و کیڑوں کے شدید حملہ کی صورت میں کیمیائی تدارک کیلئے محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے زہروں کا سپرے کریں۔

زرعی فیچر سروس

*****

Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More