کپاس کی پتہ مروڑ وائرس کی علامات و حفاظتی تدابیر

July 15th, 2013

پتہ مروڑ وائرس
پتہ مروڑ وائرس

نوید عصمت کاہلوں (اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی اطلاعات )

(زرعی میڈیا ڈاٹ کام ) کپاس ایک نقد آور فصل ہے اور ملکی زرمبادلہ میں اس کا حصہ 60 فیصد ہے۔ اس فصل کو ہمارے ملک کی اہم زرعی فصلات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ کپاس کی زیادہ پیداوار کا انحصار اعلیٰ اور معیاری اقسام کی بروقت دستیابی و کاشت کے علاوہ متوازن کھاد، پانی کے مناسب استعمال اور ضرر رساں کیڑوں اور بیماریوں کے مربوط انسدادی تدابیر جیسے عوامل پر ہے۔ کپاس کا پودا حساس ہونے کی وجہ سے نہ صرف نقصان دہ کیڑوں بلکہ مختلف بیماریوں خصوصاً پتہ مروڑ وائرس سے جلد متاثر ہوتا ہے۔ اس مہلک بیماری کی روک تھام کا واحد ذریعہ صرف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام ہیں۔ چنانچہ اس اہم مسئلہ کا مناسب حل تلاش کرنے کیلئے زرعی ماہرین نے مسلسل شب و روز کوششیں جاری رکھیں جن کی بدولت کپاس کی قوت مدافعت کی حامل متعدد اقسام دریافت کر لی گئی ہیں۔ کپاس کی پتہ مروڑ وائرس کی بیماری ایک وائرس جس کا تعلق جمنی گروپ سے ہے کی وجہ سے لگتی ہے۔ سفید مکھی اس وائرس کو کپاس کی فصل کے بیمار پودوں سے تندرست پودوں تک پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ سفید مکھی جب بیمار پودوں کے پتوں سے رس چوستی ہے تو اس دوران بیماری کے جراثیم اس کے معدے میں چلے جاتے ہیں جو تندرست پودے کے پتوں سے رس چوسنے کے دوران ان میں منتقل ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں تندرست پودے اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری کو پھیلانے کا سبب صرف سفید مکھی ہی ہے کیونکہ یہ جب تک زندہ رہتی ہے بیماری کے جراثیم اس کے اندر موجود رہتے ہیں جو بہت تیزی سے پودوں پر منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ اس بیماری کے جراثیم نہ صرف کپاس کے پودوں میں ہوتے ہیں بلکہ اس بیماری کے میزبان فصلات کے پودوں اور جڑی بوٹیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس وائرس کے ذرات تمام وائرسوں سے زیادہ باریک ہوتے ہیں اور اس کے پروٹین کا ہالہ یعنی خول بہت تیزی سے پھوٹتا ہے۔ وائرس گروپ کا حملہ پودے کی چھال تک محدود ہوتا ہے۔

پتہ مروڑ وائرس کی بیماری کی علامات:۔ اس بیماری کے حملہ کی وجہ سے پتوں کی نسیں متاثر ہوتی ہیں جو کہ موٹی ہو کر بند ہو جاتی ہیں جس سے تیار شدہ خوراک کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے آخر کار پتوں کی بڑھوتری کم ہو جاتی ہے یا رک جاتی ہے۔ اگر متاثرہ پتے کو سورج کی شعاعوں کے سامنے دیکھاجائے تو یہ نسیں زیادہ صاف اور گہری سبز دکھائی دیتی ہیں۔ نسوں کی موٹائی پتوں کی نچلی سطح پر واضح نظر آتی ہے۔ بعض اوقات پتے کے نیچے نسوں سے چھوٹے چھوٹے پتے نکل آتے ہیں جن کو انیشینز (Enations) کہتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں پتے اوپر کی طرف مڑ جاتے ہیں اور پیالہ نما شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ پودے کیلئے پتے ہی خوراک تیار کرتے ہیں لہٰذا بیمار پتے کم خوراک تیار کرتے ہیں جس سے پودے کی بڑھوتری متاثر ہوتی ہے اور فصل پر پھل، پھول بھی کم لگتے ہیں۔ ٹینڈے جسامت میں چھوٹے رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں کپاس کم ہوتی ہے۔ بیماری سے متاثرہ پودے سے حاصل شدہ روئی کی خصوصیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اس بیماری کا حملہ کپاس کی فصل کے علاوہ کئی متبادل فصلات اور جڑی بوٹیوں پر سارا سال ہوتا رہتا ہے۔ کپاس کی غیر موجودگی کی صورت میں اس وائرس کی زد میں کئی میزبان پودے آتے رہتے ہیں اس طرح یہ وائرس کسی نہ کسی طرح سارا سال ہی موجود رہتا ہے۔ کپاس کی کاشت کے بعد سفید مکھی اس وائرس کو میزبان پودوں سے کپاس کے پودوں پر منتقل کرتی رہتی ہے۔ وائرس کی متبادل فصلوں میں بھنڈی، بینگن، تمباکو، بیر، سن ککڑ اور میزبان جڑی بوٹیوں میں اک، پٹھ کنڈا، کرنڈ، گڑھل، رتن جوت، لہیلی، مٹانا، مکو ہزاردانی شامل ہیں۔ جب کہ وائرس پھیلانے والی سفید مکھی کی میزبان فصلوں میں آلو، بھنڈی، بینگن، تر، کریلا، مرچ، تربوز، خربوزہ، ٹماٹر، ٹینڈا، کھیرا، حلوہ کدو، تمباکو، سورج مکھی، مونگی اور سن ککڑا شامل ہیں۔ سفید مکھی کے متبادل پودوں میں لہیلی، کرنڈ، گارڈینا، مینا، مکو، نٹانا، ہزار دانی، رتن جوت، گڑھل، پٹھ کنڈا اور اک قابل ذکر ہیں۔

بیماری سے بچاؤ کیلئے حفاظتی تدابیر:۔ کپاس کے پتہ مروڑ وائرس سے بچاؤ کیلئے تجربات و مشاہدات کی روشنی میں مرتب کردہ حکمت عملی سے فصل کو اس بیماری کے حملہ سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ کپاس کی چھوٹی فصل میں چھدرائی کے وقت وائرس سے متاثرہ پودوں کو نکال کر زمین میں دبا دیں یا جلا دیں۔ پھول آنے کے بعد وائرس کا حملہ ظاہر ہونے کی صورت میں فصل کپاس میں کھادوں کا متوازن اور متناسب استعمال کریں۔ فصل کی نگہداشت بہتر طریقے سے کریں ۔ نائٹروجنی کھادوں کا استعمال اقساط میں کریں اور آبپاشی کا دورانیہ کم کر دیں۔ میگنیشیم سلفیٹ 3 سو گرام، بوریکس 2 سو گرام اور یوریا کھاد 2 کلوگرام فی 100 لٹر پانی میں حل کر کے ہفتہ کے وقفہ سے 3-2 سپرے کریں۔ جڑی بوٹیوں کی تلفی کو یقینی بنائیں۔ سفید مکھی کی مانیٹرنگ اور اس کی شدت کو کم کرنے کیلئے زرد پھندوں کا استعمال کریں۔ سفید مکھی وائرس کے پھیلاؤ کا بنیادی موجب ہے لہٰذا اس کے تدارک پر خصوصی توجہ دیں۔ کپاس کی فصل، کھیت کے بند، کھالوں اور باغات کو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھیں کیونکہ جڑی بوٹیاں نہ صرف بیماری پھیلانے کا سبب بنتی ہیں بلکہ فصل کے نقصان دہ کیڑوں کی پناہ گاہ بھی ہیں۔ بیماری کے میزبان پودوں کو وقت پر تلف کریں۔فصل کا معائنہ ہفتہ میں 2 بار کریں اور جب سفید مکھی نقصان کی معاشی حد کو پہنچے تو اس کے تدارک کیلئے محکمہ زراعت (توسیع و پیسٹ وارننگ) کے مقامی فیلڈ عملہ کے مشورہ سے نئی کیمسٹری کی زہروں کا استعمال کریں۔

زرعی فیچر سروس

*****

Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More