زرعی یونیورسٹی فیصل آباد امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ساتھ مل کر ریموٹ سنسنگ کے شعبے میں استعداد کار کا ایک مشترکہ پروگرام

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ہینڈ آؤٹuaf-15july2013فیصل آباد 15جولائی 2013ء (زرعی میڈیا ڈاٹ کام ) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے ساتھ مل کر ریموٹ سنسنگ کے شعبے میں استعداد کار کا ایک مشترکہ پروگرام شروع کرے گی۔ اس پروگرام کا مقصد پریسین ایگریکلچر کا جدید نظام پاکستان میں رائج کرنے کے لئے تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا ہے۔ یہ باتیں یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی اور انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچرل ایکسٹنشن اینڈ رورل ڈویلپمنٹ کے باہمی اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار برائے بالغ کسانوں اور تربیت یافتگان کے ساتھ کام کاج کی حکمت عملی کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی زمانہ ٹیچنگ نے ایک آرٹ کی شکل اختیار کر لی ہے لہٰذا تدریسی امور سرانجام دیتے وقت اساتذہ کو صرف نصابی مواد پڑھانے کے ساتھ ساتھ طلباء کو متوجہ کرنے کے لئے دلچسپی کی حامل چیزوں کی طرف دھیان دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی توسیع کا شعبہ آنے والے سالوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے انتہائی اہم اختیار کر چکا ہے لہٰذا یونیورسٹی نے پنجاب کے توسیعی شعبے کے ساتھ مل کر کسانوں کا ڈیٹابیس تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے پیش گوئی پر مبنی ٹیکنالوجی پیکج کی تیاری کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پنجاب کے کسی بھی علاقے سے کسان اپنے زمین کے تجزیے کی روشنی میں معلومات ویب سائٹ میں درج کر کے مطلوبہ گندم کی پیداوار حاصل کرنے کے لئے پیداواری ٹیکنالوجی کا پیکج بلامعاوضہ حاصل کر سکتا ہے۔ قبل ازیں ڈین کلیہ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر اقبال ظفر نے کہا کہ زراعت کی ترقی کے ثمرات دیہی علاقوں تک پہنچانے کے لئے توسیع زراعت کے شعبے پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ویلیوچین مینجمنٹ نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ امریکی یونیورسٹی آف پرڈو کے پروفیسر ڈاکٹر جیری ایل پیٹرز نے اپنے کلیدی لیکچر میں توسیعی زراعت کے شعبے میں نئی جدتوں کے بارے میں حاضرین کو نقشوں، چارٹوں اور ماڈلز کی مدد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ توسیعی نظام کی بہتری کے لئے امریکہ، افغانستان اور پاکستان سہ فریقی کمیشن کے تحت مشترکہ کاوشوں کے اچھے اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں تین ملکوں کے ماہرین کا آپس میں مل بیٹھ کر اس شعبے کی ترقی کے لئے مزید پیش رفت یقینی بنانے کا عمل مکمل کیاجائے گا۔ ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع پنجاب ڈاکٹر انجم علی نے اپنے ادارے کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیرسایہ 538 زراعت افسران ہر مرکز کی سطح پر جبکہ 2981 فیلڈ اسسٹنٹس ہر یونین کونسل کی سطح پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی سائنسدانوں کی مدد سے زرعی بیٹھک کے نام سے ایک ویب سائیٹ قائم کی گئی ہے جس کے ذریعے کسانوں کو براہ راست سکائپ کے ذریعے ماہرین سے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد دی جا رہی ہے جبکہ ای زراعت کے نام سے آئی سی ٹی بیسڈ خدمات وہاڑی، سیالکوٹ اور سرگودھا میں شروع کی جا رہی ہے۔ تقریب سے ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ایگری ایکسٹنشن پروفیسر ڈاکٹر تنویر علی اور ڈاکٹر خالد محمود چوہدری نے بھی خطاب کیا اور بین الاقوامی سیمینار کے حوالے سے حاضرین کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More