زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں عالمی یوم ماحولیات

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ہینڈ آؤٹ

فیصل آباد 05جون 2013ء ( ) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں عالمی یوم ماحولیات کے حوالے سے عوام میں انسانی کوتاہیوں اور بے ترتیبی سے پیداہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے نہ صرف انوائرمنٹ واک کا اہتمام کیا گیا بلکہ اس حوالے سے ایک سیمینار اور نمائش بھی منعقد کی گئی۔ یونیورسٹی کی کلیہ زرعی انجینئرنگ وٹیکنالوجی کے زیراہتمام طلباء و طالبات نے ڈین کلیہ پروفیسرڈاکٹر محمد اقبال کی قیادت میں مرکزی کوری ڈور میں واک کا اہتمام کیا جبکہ انسٹی ٹیوٹ آف سوائل و انوائرمنٹل سائنسز کے طلبہ نے واک کے ساتھ ساتھ انوائرمنٹ نمائش بھی منعقد کی جس کا افتتاح یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراحمد خاں نے کیا۔ علاوہ ازیں شعبہ فارسٹری کے زیراہتمام فارمرز سنڈیکیٹ ہال میں انوائرمنٹ سیمینار بھی منعقد کیا گیاجس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقراراحمد خاں نے دن کو منانے کے حوالے حوالے سے عالمی‘ ریجنل اور ملکی سطح پر ماحول کو پہنچنے والے نقصانات کے تناظر میں فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہرچندصوبائی سطح پر محکمہ جنگلات میں مشتہر آسامیوں کیلئے زرعی یونیورسٹی کی بجائے فارسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پشاور کے گریجوایٹس کو اہل قرار دیا گیا تاہم جلد ہی جب 18ویں ترمیم کے نتیجہ میں پشاور میں قائم یہ ادارہ صوبائی حکومت کی عملداری میں آ جائے گا تو دوسرے صوبوں کیلئے مقامی انسٹی ٹیوٹس کی جاری کردہ ڈگریوں کو ہی اہمیت حاصل ہوگی ۔

فیصل آباد 05جون 2013ء ( ) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ ایگرانومی میں ایگرو کلائمٹالوجی لیبارٹری کے زیراہتمام منعقدہ ایگ میپ پاکستان کی افتتاحی ورکشاپ اور بین الاقوامی سیمینار برائے کلائمیٹ چینج میں دوسرے روز مقررین نے مختلف کراپنگ زونز کی از سرنو نشاندہی اور اس کے نتیجہ میں موسمیاتی اطلاعات کو نظر رکھتے ہوئے نئے کراپنگ ماڈل ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے ماہرین کی توجہ 2ارب ڈالر کے برآمدی چاول کی کاشت کی جانب دلاتے ہوئے کہا کہ برآمدی چاول پیدا کرنے کیلئے خرچ کیا جانیوالا سرمایہ تین ارب ڈالر کی لاگت سے درآمدکئے جانیوالے خوردنی تیل کی قیمت سے پانچ گنا زیادہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اگر چاول کی موجودہ پیداوار سے پانچ گنا کم بھی پیدا کرے تو اس کی ضروریات پوری ہوسکتی ہیں لہٰذااس کے مقابلے میں کم پانی سے زیادہ منافع دینے والی فصلات کو رواج دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیوں سے تحقیق کے نتیجہ میں ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے والی معلومات کو بلاخوف عام کیا جانا چاہئے تاکہ معاشروں اور حکومتوں کی اصلاح کا راستہ نکالا جا سکے ۔ انہوں نے یونیورسٹی میں ایک آزاد پالیسی سنٹر کے قیام کی ضرورت پر زور دیاتاکہ اعداد و شمار پر حقائق پر مبنی معلومات کی روشنی میں حکومت کی رہنمائی کی جا سکے۔ انہوں نے بتایاکہ یونیورسٹی سے ہر سال 3ہزارنئے تحقیقی مقالے وجود میں آتے ہیں لیکن ان میں سے بہت کم تعداد کمیونٹی کے مسائل کو حل کرنے یا معاملات میں بہتری کیلئے بروئے کار لائی جاتی ہے لہٰذا یونیورسٹی تحقیقات کو مجوزہ پالیسی سنٹر میں مختلف حوالوں سے دوبارہ پرکھنے کے بعد پالیسی پیپر بنائے جانے چاہئیں۔ سیمینار سے امریکی پروفیسر گیرٹ ہوجن بوم‘ ڈاکٹر اشفاق احمدچٹھہ‘ ڈاکٹر محمد شکیل‘ ڈاکٹر آفتاب واجد‘ پروفیسرڈاکٹر محمد اشفاق‘ احسن رضا ستار‘ جمہوریہ چین کے سائنس دان ڈاکٹر ژو چنوانگ‘ ڈاکٹر اللہ بخش‘ ڈاکٹر محمد یونس اور تائیوانی پروفیسرڈاکٹر یوہی این لیونے بھی خطاب کیا۔ The University of Agriculture, Faisalabad جامعہ زرعيه فيصل آباد,

The University of Agriculture, Faisalabad جامعہ زرعيه فيصل آباد,
The University of Agriculture, Faisalabad جامعہ زرعيه فيصل آباد,

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More