سستی اور وافر بجلی کی پیداوار کیلئے بڑے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے

hydel-power-generation
hydel-power-generation

فیصل آ باد( ) قائمقام صدر ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد چوہدری محمد بوٹا نے کہاہے کہ سستی اور وافر بجلی کی پیداوار کیلئے بڑے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے۔ آنے والی حکومت کالا باغ سمیت بڑے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دے تاکہ ملک سے توانائی کے بد ترین بحران کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ دستیاب پانی کے ذخیرہ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموں کی تعمیر سے ملک میں نہ صرف گرین انقلاب آئے گا ، ملک خوراک کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکے گا بلکہ بجلی کی زائد دستیابی کو ہمسایہ ممالک کو برآمد بھی کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پانی کے منصوبوں سے ایک لاکھ میگا واٹ بجلی کی پیداوار کی گنجائش موجود ہے جسے استعمال نہ کرنا کفران نعمت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کے بحران کے اصل محرکات چوری اور بد نظمی ہیں اگر بجلی کی چوری اور مناسب انتظامی اصلاحات نافذ کی جائیں تو شارت فال فوراً 7000 میگاواٹ سے کم ہو کر 4000 میگاواٹ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے ضرورت صرف نیک نیتی اور عزم کی ہے ۔ اسی طرح اگر تھرکو ل کے ذخائر سے بھی استفادہ کیا جائے تو آنے والے 100 سالوں تک ہمارے پاس وافر مقدار میں بجلی و گیس اور کول ڈیزل پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی توانائی مشاورتی کمیٹی کی جانب سے 6000 میگاواٹ کم قیمت بجلی کے منصوبوں پر غور کو سراہا ۔

ان منصوبوں کے ذریعے تین سال میں پھوک، بائیوڈیزل اور بائیو گیس کے ذریعے بجلی پیدا کی جائیگی جبکہ گنے کی پھوک سے 2 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائیگی جس سے شوگر ملز نہ صرف اپنی ضرورت کی بجلی پیدا کریں گی بلکہ اضافی حکومت کو بھی فروخت کر سکیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کالا باغ ڈیم تعمیر کر دیا جائے تو اس کے ثمرات ایک سال بعد ہی ملنے شروع ہو جائیں گے۔ انہوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کی آنے والی حکومت سے بھرپور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ توانائی بحران کے حل کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے تا کہ ملک سے جلد از جلد اس بحران کا خاتمہ ہو اور ملک معاشی لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

سیکر ٹری جنرل

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More