بلوچستان کی پیاز مارکیٹ میں آنے سے قیمتوں میں کمی

23 May 2013
کراچی: بلوچستان کی پیاز مارکیٹ میں آنے کے بعد بھارت سے پیاز کی درآمد بند ہوگئی ہے، پیاز کی قلت دور کرنے کے لیے بھارت سے 2 ماہ کے دوران 15 لاکھ ڈالر مالیت کی 75 ہزار ٹن پیاز درآمد کی گئی۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل امپورٹرز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین اسلم پکھالی کے مطابق پاکستان میں منصوبہ بندی کے فقدان کے سبب بھارتی پیاز کی درآمد پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہورہا ہے، بلوچستان کا وسیع رقبہ پیاز کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے تاہم بیج اور زرعی ان پٹس مہنگے ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں پیاز کاشت نہیں کی جارہی، دوسری جانب بھارتی حکومت مغربی بنگال میں پیاز کی کاشت پر بھاری زرتلافی ادا کررہی ہے جس سے بھارت میں پیازکی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور پاکستان سے مڈل ایسٹ اور فار ایسٹ کو کی جانے والی برآمدات میں بھی کمی کا سامنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پیاز کے بیج پر زرتلافی فراہم کرکے بلوچستان میں پیاز کی پیداوار میں غیرمعمولی اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے نہ صرف پیاز کی درآمد پر خرچ ہونے والے 15لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ اضافی پیاز ایران اور افغانستان کو ایکسپورٹ کرکے مزید 10 سے 15 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جاسکتاہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی پیاز 1400 روپے سے 2 ہزار روپے من قیمت پر درآمد کی گئی جس سے مقامی سطح پر پیاز کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا تاہم بلوچستان کی پیاز 800 سے 900 روپے من فروخت کی جارہی ہے جس سے تھوک سطح پر پیاز کی قیمت 22 سے 23 روپے جبکہ خوردہ سطح پر 25 روپے سے 30 روپے کلو کی سطح پر آچکی ہے، ملک سے زیادہ تر سندھ کی پیاز ایکسپورٹ کی جاتی ہے، سندھ میں پیاز کی پیداوار نومبر سے شروع ہوکر مارچ تک جاری رہتی ہے جس کے 2 ماہ اپریل اور مئی کے بعد بلوچستان کی فصل مارکیٹ میں آتی ہے، مذکورہ ڈیڑھ سے 2 ماہ میں پیاز کی تمام تر کھپت بھارتی پیاز سے پوری کی جاتی ہے۔

Published: Zarai Media Team

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More