گلاب میں کالے دھبے کی بیماری اور اس کا انسداد

گلاب میں کالے دھبے کی بیماری اور اس کا انسداد

ڈاکٹر عدنان یونس، ڈاکٹر عاطف ریاض، محمد احسن، عثمان طارق

زرعی میڈیا ڈاٹ کام:

rose black spot disease
rose black spot disease

ُُپھول قدرت کا ایک انمول تحفہ ہیں۔ مشہور معقولہ ہے کہ ایک انسان پھولوں میں پیدا ہوتا ہے پھولوں میں زندگی گزارتا ہے اور پھولوں میں مرجاتا ہے۔ پھولوں میں گلاب کا پھول ایک خاص اہمیت کا حامل ہے اس لیے اسے پھولوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ گلاب ہماری زندگی اور ہمارے رسم و رواج کا اہم حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے گھروں اور باغوں کو ہمیشہ خوبصورتی اور خوشبو دیتا رہا ہے۔برصغیر پاک و ہند کی ہر قسم کی تقریبات میں گلاب کسی نہ کسی شکل میں ضرور استعمال ہوتا ہے۔

لیکن پھولوں کے اس بادشاہ کے بہت سے دشمن بھی ہیں۔ گلاب کا پہلا پتا کھلنے سے پھول کی برداشت (Flower harvest)تک یہ دشمن اس پر حملہ ٓاور ہوتے رہتے ہیں اور اس کی خوبصورتی اور حسن کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ کالے دھبے کی بیماری ان دشمنوں میں سے ایک بڑی دشمن ہے۔

کالے دھبے کی بیماری اہمیت کے اعتبار سے پھپھوندی اور زنگ لگنے کی بیماریوں کا درمیانی راستہ ہے۔یہ پودے کو بے کار و بے جان بنا دیتی ہے مگر ختم نہیں کرتی۔اس بیماری کی تصدیق پتوں پر ایک یا زیادہ دھبوں کا ظاہر ہونا یا پتوں کا گہرے بھورے یا گہرے کالے رنگ کے ساتھ ساتھ پتوں کے کناروں کا دندانے دار ہو جانا ہے۔ ان کا سائز ایک چھوٹے سے دھبے سے لیکر ٓادھے انچ تک ہو سکتا ہے اور یہ دھبے پتے کے ایک یا دونوں سطحوں پر پائے جا سکتے ہیں اور متاثرہ پتا پیلا ہو کر گر جاتا ہے۔جب یہ بیماری پتوں کو لگ جائے تویہ بافتوں میں داخل ہو جاتی ہے اور متاثرہ پتے کاگرنا نا گزیر ہو جاتا ہے ۔جب اس بیماری کو21ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ کا درجہ حرارت کے ساتھ ساتھ زیادہ مرطوب آب و ہوا ایک دن میں چھ سے سات گھنٹے میسر ہو تو یہ بیماری گلاب کے باغ میں جنگل میں آ گ کی طرح پھیلتی ہے۔

بیماری کی وجوہات:۔

یہ بیماری ایک پھپھوندی کی وجہ سے ہوتی ہے جس کو ڈپلو کارپن روزائی (Diplocarpon Rosae)کہتے ہیں۔ اس کے زردانے اس وقت چست ہو جاتے ہیں جب ماحول کا درجہ حرارت ۲۱ ڈگری سینٹی گریڈ ہو اور گلاب کے پتے چھ سے سات گھنٹے مسلسل تر رہیں۔ اگر موسم اسی طرح زردانوں کے پھیلنے کے لیے سازگار رہے تو بیماری بہت جلدی متاثر کرنا شروع کر دیتی ہے اور کالے دھبے تین سے دس دن کے بعد سطح پر نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں جس کے ایک یا دو دن بعد سطح کھردری ہو جاتی ہے جس کو فریکٹیفیکیشن(Fructification) کہتے ہیں۔پتے کے اندر دو خلیے والے زردانے بڑی تعداد میں بنتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے پتے کی اندرونی سطح پھٹ جاتی ہے جس سے زردانے باہر نکلنا شروع ہو جاتے ہیں۔یہ زردانے بارش یا شبنم کے قطروں یا ہوا کے ذریعے ارد گرد پھیل جاتے ہیں۔ اس بیماری کی پھپھوندی ہوا کی نسبت پانی سے زیادہ پھیلتی ہے جس کی وجہ سے جب بھی زیادہ بارشیں ہوں تو کالے دھبے کی بیماری کا حملہ بھی بڑھ جاتا ہے۔جب اس بیماری کا متاثرہ پتا زمین پر گرجاتا ہے تو پتے میں موجود پھپھوندی کے زردانے سازگار ماحول ملنے پر دوسرے پتوں کو بھی متاثر کر دیتے ہیں۔ جب یہ پتے گل سڑ جاتے ہیں تو یہ پھپھوندی مر جاتی ہے۔یہ پھپھوندی صرف پتوں میں رہ سکتی ہے جبکہ یہ زمین میں زندہ نہیں رہ سکتی۔گلاب کے پتوں کی طرح تنے میں بھی یہ پھپھوندی سرایت کر جاتی ہے اور وہاں چھوٹے چھوٹے سوراخ کر کے تنے کی اوپری سطح کو نقصان پہنچاتی ہے اور اپنی زندگی کا دورانیہ(Life cycle) پتوں کی طرح تنے میں بھی پورا کر دیتی ہے۔

بیماری سے بچنے کی تدابیر:۔

گلاب پاکستان میں حیدر آباد کے میدانوں سے لیکر شمالی علاقہ جات میں دیوسائی کی بلندیوں تک کاشت کیا جاتا ہے۔ ان نا موافق قسم کی آب و ہوا میں بیماری سے بچنے کیلئے مناسب اور مدبرانہ تدابیر کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی تک اس بیماری سے بچا جا سکتا ہے ختم نہیں کیا جا سکتا اسلئے مندرجہ ذیل اقدامات کی ضرورت ہے۔

۱) زمین سے فالتو پانی کی نکاسی

اس مقصد کے لئے گلاب لگانے والی جگہ کو مٹی کا ڈھیر بنا کر باقی زمین سے قدرے اونچا کر دیا جاتا ہے تا کہ بارش کا اضافی پانی وہاں جمع نہ ہونے پائے اور اس چیز کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ پانی زمین کی نچلی سطح پر بھی جمع نہ ہو بلکہ زمین میں جذب ہو جائے۔

۲) زمین کو نرم اور بھربھری ہونا چاہئے اس کیلیے زمین میں مٹی کے ذرات اور سوراخوں (Soil particles and pores)کا مناسب توازن ضروری ہے تا کہ ہوا اور پانی زمین کو مناسب مقدار میں ملتے رہیں اور زمین کی اساس مناسب ہونی چاہیے اگر پانی کی نکاسی ٹھیک نہ ہو تو اس سے زمین کی اساس کم ہو جاتی ہے۔ نائٹروجنی کھادوں کا زیادہ استعمال سختی سے منع ہے جو پودے کو نرم کر دیتی ہیں جس سے پودا کیڑوں اور پھپھوندی کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ اس کی بجائے فاسفورس اور پوٹاش کی فراہمی میں توازن پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ پوٹاش پودے کے اوپری حصے کو مضبوط بنا کر کیڑے مکوڑوں اور پھپھوندی سے بچاتی ہے جبکہ فاسفورس جڑ کو مضبوط بناتی ہے۔

۳) گلاب کی اقسام کا انتخاب

جن اقسام میں کالے دھبے کی بیماری عام ہوتی ہو ان اقسام کو ان علاقوں میں کاشت نہ کیا جائے جہاں پھپھوندی کا حملہ زیادہ پایا جاتا ہو۔ اس وقت پاکستان میں گلاب کی کافی تعداد میں ایسی اقسام پائی جاتی ہیں جن کو یہ پھپھوندی کی بیماری نہیں لگتی۔

۴) پودوں کا درمیانی فاصلہ

گلاب کی کاشت کے وقت پودوں کا درمیانی فاصلہ سفارش کردہ فاصلے سے تھوڑا زیادہ رکھنا چا ہیے اس سے پھپھوندی کے زردانے بارش کے قطروں کے ساتھ متاثرہ پودے سے صحتمند پودے میں منتقل نہیں ہونگے۔ اس کے علاوہ خوراک کی فراہمی ان پودوں کو تنومند بناتی ہے جس سے پودے بیماریوں کا شکار نہیں ہوتے۔ ہوا کا گزر پودوں کے درمیان مناسب ہونا چاہیے جس سے پودے کی بڑھوتری پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ http://zaraimedia.com

۵) صفائی ستھرائی

گلاب کے پودوں میں صفائی ستھرائی کی بہت اہمیت ہے۔ تمام گرے ہوئے متاثرہ پتوں اور شاخوں کو کاٹ کر اور اکٹھا کر کے جلا دینا چاہیے کیونکہ ان میں پھپھوندی جمع ہوئی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ ٹاٹ کے تھیلے یا اخبار کے ٹکڑے نیچے بچھا دےئے جاتے ہیں جن پر متاثرہ پتے گرتے رہتے ہیں جن کو آسانی سے اکٹھا کر کے باقاعدگی سے الگ کر کے جلا دیا جانا چاہیے۔ اس سے زمین میں نمی بھی زیادہ دیر تک رہتی ہے اور جڑی بوٹیاں بھی کم اگتی ہیں۔ اس طرح کی تدابیر سے موجودہ اور بعد میں کاشت کی جانے والی فصل پر پھپھوندی کے حملے کا خطرہ بہت حد تک کم ہو جاتا ہے۔

۶) آبپاشی

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب گلاب کے پتے 21ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر دن میں چھ سے سات گھنٹے تر رہیں تو یہ پھپھوند بہت تیزی سے سے پھیلتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بارش کو ہم نہیں روک سکتے مگر اس بات کی ہر ممکن توجہ دینی چاہیے کہ پائپ سے گلاب کو پانی پودے کو اوپر سے نیچے کی طرف لمبے عرصے کیلئے نہیں دینا چاہیے اگر ایسا ہوا تو پھپھوندی ک زردانے پھر بننا شروع ہو جاتے ہیں جو نئے پتوں کے لئے تباہ کن ہیں۔اس کی بجائے جہاں تک ممکن ہو ڈرپ اریگیشن(Drip Irrigation) یا ٹاٹ کے تھیلوں سے نیچے آبپاشی کرنی چاہیے جو کہ زیادہ سود مند طریقہ کار ہے۔ اس طرح گلاب کی پتیوں اور شاخوں کو تر کیے بغیر زمین کو پانی مہیا کیا جاتا ہے۔

۷) سپرے کرنا

گلاب کے پودے کے اوپری حصوں کو باقاعدگی سے آٹھ سے دس دن کے وقفے کے بعد پھپھوندی کش دوا سے سپرے کرنا چاہیے۔ اس سپرے کو برسات کے موسم میں ضرور سپرے کریں جس سے گلاب کے اوپری حصوں پر ایک حفاظتی تہہ (Protective cover)بن جاتی ہے۔ اس طرح کے سپرے میں پھپھوندی کش دوا کی مناسب مقدار ہونی چاہیے جس سے پتوں کی دونوں سطحیں اچھی طرح ڈھک جائیں۔ نئے اور چھوٹے پتوں کیلئے پھپھوندی کش دوا کی مقدار کم رکھنی چاہیے۔ پاکستان میں اس مقصد کیلئے ڈائیتھین- 45، ڈائیتھین- 72، باوسٹن وغیرہ استعمال کی جاتی ہیں۔ http://zaraimedia.com

۸) پودوں کی کانٹ چھانٹ

جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہے کہ متاثرہ گلاب کے پودے کے اوپری حصوں میں پھپھوندی کے زردانے جمع ہوئے ہوتے ہیں تو اس لئیے اچھی طرح معائنہ کے بعد بیمار حصوں کو کاٹ کر الگ کر دینا چاہیے تا کہ اس سے پورا پودا متاثر نہ ہو۔ پودوں کی کانٹ چھانٹ کیلئے خزاں کا موسم بہت سازگار ہے۔

مندرجہ بالا اقدامات سے اس بیماری پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More