بارانی علاقوں میں باجرہ کی کاشت: Millet

May 21, 2013

Millet cultivation in Pakistan
Millet cultivation in Pakistan

زرعی میڈیا ڈاٹ کام: جانوروں کے لیے سبز چارے کی اتنی ہی ضرورت واہمیت ہے جتنی کہ انسانی زندگی کے لیے اچھی غذاکی ۔ 2011-12کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں تقریباً پچاس لاکھ ایکڑرقبہ پر چارہ جات کاشت ہوتے ہیں جس میں سے خریف کے چارے تقریباً 23لاکھ ایکڑ سے زائد اور ربیع کے چارے 25.5لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر کاشت ہوتے ہیں رقبے کے لحاظ سے یہ پاکستان میں چارہ جات کے کل رقبے کا 82فیصد ہے جس سے سبز چارے کی پیداوار225من فی ایکڑ حاصل ہو رہی ہے ۔مئی ،جون میں سبز چارے کی کمی شدت اختیار کر جاتی ہے کیونکہ ان مہینوں میں ربیع کے چارے ختم ہو رہے ہوتے ہیں اور خریف کے چارے ابھی کاٹنے کے قابل نہیں ہوتے اور اسی طرح اکتوبر، نومبر کے مہینوں میں جب خریف کے چارے ختم ہو رہے ہوتے ہیں،ربیع کے چارے ابھی تیار نہیں ہوتے ۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کے پیش نظر وافر دودھ اور گوشت پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے جس کے لئے جانوروں کی چارے کی کمی کو پورا کرنا انہتائی اہمیت کا حامل ہے ۔

جانوروں کے لئے ہمارے ہاں سب سے بڑی غذا سبز چارہ ہے۔ غذائی فصلوں اور نقدآور فصلوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چارے کی پیداوار میں اضافہ کے لئے ہم رقبہ میں اضافہ نہیں کر سکتے ۔ اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم ایسی منصوبہ بندی کریں جس سے چارہ جات کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو ۔ چارہ جات کی زیادہ پیداوار کے لئے زمین کاصحیح انتخاب و تیاری۔ اچھا بیج، مناسب کھادوں کا استعمال، بروقت کاشت، آبپاشی برداشت ، دیگر زرعی عوامل اور زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں تو چارے کی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں دوسے تین گنا اضافہ ممکن ہے لہٰذا چارے کی موجودہ کمی کو پورا کرنے اور جانورں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو چارہ مہیا کرنے کے لئے چارے کی فصلوں کی پیداوارمزید بڑھانے کے علاوہ کوئی طریقہ کار نہیں۔ چارے کی پیداوار بڑھانے کے لئے ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس سے ہمیں چارے کی کمی کے مہینوں میں بھی چارے میسر ہوں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے خریف کے چارے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں کیونکہ ان کی کاشت موسم بہار یعنی مارچ سے لے کرلیٹ خریف یعنی اگست ستمبر تک ممکن ہے۔ اگیتی کاشت سے ہم مئی ، جون کے کمی کے دورانیے کے لیے چارہ پیدا کر سکتے ہیں اور پچھیتی کاشت سے ہم اکتوبر، نومبر میں کمی کے دورانیے کے لیے چارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ رقبہ کے لحاظ سے خریف کے چارے میں سب سے بڑی فصلیں جوار ، سدابہار، باجرہ، مکئی، گوارہ، رواں اور ماٹ گراس ہیں۔

باجرہ موسم گرما کا ایک بہت اہم چارہ ہے جو پانی کی کمی کو دوسرے چارہ جات کی نسبت بہتر طور پر برداشت کرسکتا ہے۔ یہ فصل اناج اور چارے دونوں کیلئے کاشت کی جاتی ہے۔ باجرہ میں خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت دوسری فصلوں کے مقابلہ میں زیادہ ہے جس کی وجہ سے باجرہ سبز چارے اور دانے کی پیداوار کم بارش والے علاقوں میں دیگر خوردنی اجناس سے زیادہ دے سکتا ہے۔ اس کے ٹانڈے خشک کرکے رکھ لئے جاتے ہیں۔ دسمبر، جنوری اور فروری کے مہینوں میں سبز چارے میں ملا کر جانوروں کو کھلائے جاتے ہیں۔ اس کا چارہ دودھ دینے والے اور باربرداری والے جانوروں کے لئے یکساں مفید ہے۔ اس کے علاوہ باجرہ کی فصل کیڑوں وغیرہ کے حملے سے عموماً محفوظ رہتی ہے۔

باجرہ سیم زدہ اور کلراٹھی زمینوں کے علاوہ ہر قسم کی زمین پر کامیابی سے کاشت کیا جاسکتا ہے البتہ اچھی نکاسی والی ہلکی میرا زمین اس کی کاشت کیلئے نہایت موزوں ہے۔ باجرہ کی کاشت کیلئے بارش کے بعد جب زمین وتر آجائے تو دو مرتبہ عام ہل چلا کر دو دفعہ سہاگہ دینے سے زمین تیار ہوجاتی ہے۔ زمین کا نرم اور ہموار ہونا نہایت ضروری ہے۔ باجرہ کیلئے عموماً دیسی یعنی گوبر کی گلی سڑی کھاد استعمال کی جاتی ہے جو کہ دس بارہ گڈے فی ایکڑ استعمال کی جاتی ہے۔ بصورت دیگر چارہ کی فصل کیلئے ایک بوری ڈی اے پی اور ایک بوری یوریا فی ایکڑ جبکہ غلہ کی فصل کیلئے ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریاا ور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ زمین کی تیاری کے دوران کھیت میں ڈال دی جائے تو زیادہ پیدوارحاصل ہوتی ہے۔

بارانی علاقوں میں باجرہ کی کاشت موسم برسات کے آغاز میں ہی شروع ہوجاتی ہے۔ جون کے آخری ہفتہ سے لے کر جولائی کے وسط تک کا عرصہ اس کی کاشت کیلئے موزوں ہے تاہم باجرہ اگست کے آخر تک کامیابی سے کاشت کیا جاسکتا ہے۔ باجرہ کی بطور چارہ کاشت کیلئے 4 تا 6 کلو گرام اور بطور غلہ کاشت کیلئے 2.5 تا 3 کلو گرام بیج فی ایکڑ استعمال کرنا چاہیے۔ بیج کا صاف ستھرا، خالص، صحت مند جڑی بوٹیوں اور بیماریوں سے پاک ہونا بہتر پیداوار کیلئے بنیاد ی شرط ہے۔باجرہ کی کاشت بذریعہ ڈرل قطاروں میں کرنی چاہیے۔ چارہ کیلئے کاشت کی جانے والی فصل میں قطاروں کا درمیانی فاصلہ 30 سینٹی میٹر اور غلہ کے لئے 45 تا 60 سینٹی میٹر رکھا جائے۔ غلے کی فصل کیلئے پودوں کا درمیانی فاصلہ 10 تا 15 سینٹی میٹر رکھنا چاہیے۔فصل اگر چارے کیلئے کاشت کی گئی ہو تو گوڈی وغیرہ کی ضرورت نہیں پڑتی البتہ غلے کیلئے کاشت کی گئی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی کیلئے گوڈی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ قطاروں میں کاشت کی گئی فصل میں پائی جانے والی جڑی بوٹیاں کسولہ یا ترپھالی کی مدد سے ختم کردینی چاہئیں۔باجرہ کی فصل کو تنے کی سنڈی اور ٹوکہ نقصان پہنچاتے ہیں ان کے حملہ کی صورت میں فصل پر محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے تجویز کردہ دوائی کا سپرے کریں۔

(زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب)

***

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب21۔ سر آغا خان سوئم روڈ لاہور
Copy Rights @Zaraimedia.comMillet cultivation in Pakistan

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More