گندم کو گوداموں میں ذخیرہ کرنا

Wheat Storage Pakistan
Wheat Storage Pakistan

لاہور:زرعی میڈیا ڈاٹ کام: پاکستان کی آ بادی میں تیزی سے اضا فہ کی وجہ سے خوراک کی ضروریا ت میں بھی بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔اس وقت ملک میں گندم کی مجموعی ضرورت قریباً 20ملین ٹن ہے جبکہ ماہرین کے مطابق سال 2030تک صرف صوبہ پنجاب میں آبادی کے حساب سے غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے 24.32ملین ٹن گندم درکار ہوگی۔ صوبہ پنجاب میں امسال گندم کا پیداواری ہدف 19.20ملین ٹن مقرر کیا گیا تھا۔ گندم کی پیداوار کے دوسرے تخمینہ کے مطابق پنجاب میں 18-6ملین ٹن پیداوار کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہر سال 10 سے 15 فیصدگندم ذخیرہ کاری کے دوران نقصان دہ کیڑوں کی نذر ہو جاتی ہے۔فصل کی برداشت کے بعد اس کی مناسب ذخیرہ کاری اور دیکھ بھال نہ کی جائے توکیڑے ذخیرہ شدہ گندم کو گوداموں اور بھڑولوں میں نقصان پہنچاتے ہیں۔ گندم کو نقصان پہنچانے والے کیڑے گرمیوں کے آغاز میں ہی متحرک ہو جاتے ہیں اور موسمِ برسات میں فضا میں نمی کی مقدار زیادہ ہوتے ہی ان کا حملہ شدید ہو جانے کا امکان ہوتا ہے۔ ان کے حملے سے گندم کی کوالٹی اور غذائیت میں کمی کے علاوہ بیج کی قوتِ روئیدگی بھی متاثر ہوتی ہے کیونکہ یہ کیڑے گندم کو کھا کر سفوف بنا دیتے ہیں۔

گندم کے نقصان دہ کیڑوں میں سب سے خطرناک کیڑا کھپراہے ۔ یہ صرف لاروہ کی حالت میں نقصان پہنچاتا ہے۔ حملہ کی صورت میں گوداموں میں غلہ کے ڈھیر کی تقریباً ایک فٹ اوپر والی تہہ نسبتاً زیادہ خراب ہوتی ہے۔ بوریوں میں ذخیرہ شدہ غلہ بھی اس کی زد سے محفوظ نہیں رہتا اور ان کے کونوں والے حصے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کیڑے کی سنڈیاں (لاروے) دانوں کو کھاکر غلے کو آٹے کے بے سود ڈھیر میں تبدیل کر دیتی ہیں اور دانوں کے فقط خول باقی رہ جاتے ہیں۔ موسم برسات میں اس کیڑے کا حملہ شدید ہوتا ہے۔

گندم کو نقصان پہنچانے والا دوسرا کیڑا گندم کی سُسری بھی کھپرے کی طرح ذخیرہ شدہ گندم کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ یہ پردار کیڑا اور اس کی سنڈیاں دانوں کے نشاستہ پر گزارہ کرتے ہیں۔ سنڈی دانوں کے اندرونی حصہ کو کھاتی ہے لیکن پردار کیڑا دانوں کو ضائع کر کے آٹا بنا دیتا ہے۔ سنڈیاں اس آٹے کو اس وقت تک کھاتی رہتی ہیں جب تک وہ دانے میں سوراخ کر کے اس کے گودے کو کھانے کے قابل نہ ہو جائیں۔سونڈ والی سُسری بھی انتہائی ضرررساں کیڑا ہے جو کہ پردار حالت میں زیادہ نقصان کرتا ہے۔ سسری اپنی سونڈ نما تھوتھنی سے دانوں میں سوراخ بناتی ہے اور سنڈیاں دانوں کو اندر سے کھاتی ہیں۔ نمی والے گوداموں میں اس کا حملہ زیادہ شدید ہوتا ہے۔گندم کے پروانے کا حملہ زیادہ تر برسات کے موسم میں ہوتا ہے۔ عموماً اس کے حملے سے غلہ کی اوپر والی تہہ زیادہ متاثر ہوتی ہے۔حملہ شدہ دانوں کا 30سے 50فیصد گودہ اس کیڑے کی نذر ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات سنڈی سارے گودے کو کھا جاتی ہے۔ شدید حملہ کی صورت میں غلہ بدبودار ہو جاتا ہے۔

غلہ کو ذخیرہ کرنے سے پہلے گودام /بھڑولے کا اچھی طرح معائنہ کریں اور گزشتہ سال کے پرانے دانوں، بھوسے کے تنکوں اور مٹی وغیرہ سے اچھی طرح صاف کر یں۔ گندم کو پختہ گوداموں میں ذخیرہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر گودام کے فرش کی سطح زمین سے دو تین فٹ اونچی ہو تو محفوظ شدہ غلہ نمی کے اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ گودام کے فرش، دیواروں اور چھت کی مرمت بھی ضروری ہے تاکہ وہاں موجود سوراخ اور دراڑیں بند ہو جائیں اور ان میں کیڑے پناہ نہ لے سکیں۔ گودام روشن اور ہوادار ہونے چاہئیں۔اگر گوداموں میں موجو د دراڑوں اور خالی بوریوں میں گزشتہ ذخیرہ کے کیڑوں کی تلفی بہت ضروری ہے۔گودام میں ایک عارضی انگیٹھی بنا کر لکڑی کا کوئلہ بحساب 7کلوگرام فی ہزار مکعب فٹ جلائیں اور جب درجہ حرارت 52ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو گودام کو اچھی طرح بند کر دیں اور اس درجہ حرارت کو متواتر 48گھنٹے تک بر قرار رکھیں۔ اس عمل سے فرش، دیواروں اور چھت کی دراڑوں میں موجود کھپرا اور سسری تلف ہو جائیں گے۔ گودام کا دروازہ 48گھنٹے کے بعد کھولیں اور ٹھنڈا ہونے پر گودام میں سفیدی کریں۔ایسا گودام جو مکمل طور پر ہوا بند کیا جا سکے اس میں ذخیرہ کاری سے پہلے زرعی ماہرین سے مشورہ کر کے زہریلی گیس والی گولیاں سفارش کردہ مقدار میں رکھ کر گودام کو 3سے 7دن تک مکمل طور پر بند کر دیں۔اس عمل کے دوران پرانی بوریوں کو الٹا کر رکھ دیں تا کہ ان میں موجود کھپرے اور سنڈی کے انڈے اور بچے وغیرہ مر جائیں۔ ذخیرہ کاری کے بعد بھی وقفہ وقفہ سے گودام کا معائنہ کر کے ماہرین کی سفارشات کے مطابق دیواروں، فرش اور بوریوں پر زہریلی ادویات کا سپرے کریں۔ذخیرہ کرنے سے پہلے گندم کو صاف ستھری جگہ پر بکھیر کر دھوپ میں اچھی طرح خشک کر لینا چاہیے۔ ذخیرہ کاری کے وقت دانوں میں نمی کا تناسب 10فیصدسے زیادہ نہ ہو کیونکہ نمدار غلہ کو پھپھوندی یا اُلی لگ سکتی ہے۔ اس کے بعد ایسی چھلنیوں کی مدد سے غلہ کو صاف کرلیا جائے جن کے سوراخوں کا سائز صرف اس قدر ہو کہ ٹوٹے ہوئے دانے اور جڑی بوٹیوں کے بیج ان میں سے گزر سکیں۔صاف اور خشک گندم کو جراثیم اور کیڑوں سے پاک بوریاں بھر کر تیار شدہ گوداموں میں ذخیرہ کر لیا جائے۔

گندم کی بروقت سنبھال اور سفارشا ت کے مطابق ذخیرہ کاری سے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے ساتھ اربوں روپے کے نقصان سے بآسانی بچاؤ ممکن ہے۔ (زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب)

***

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

21۔ سر آغا خان سوئم روڈ لاہور

Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More