چاول پر بہتر تحقیق نہ کی تو برآمدات میں پیچھے رہ جائینگے

09 May, 2013
دنیا بھر میں تحقیق جاری ہے اور بہتر پیداوار کی حامل اقسام تیار کی جا رہی ہیں ملک کروڑوں ڈالرز کے قیمتی زرمبادلہ سے محروم ہو سکتاہے، ترجمان رائس ایکسپورٹرز

فیصل آباد:  پاکستان رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہاہے کہ فلپائن سے اری کی نئی اعلیٰ معیار اور بہتر پیداوار کی حامل اقسام حاصل کرکے شاندار فصل کا حصول ممکن بنایا جا سکتاہے ،

اگر پاکستان نے چاول پر تحقیق کو مزید بہتر نہ بنایا تو ہم برآمدات میں دیگر ممالک سے بہت پیچھے رہ جائیں گے جس سے ملک کو کروڑوں ڈالرز کے قیمتی زرمبادلہ سے بھی محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔
بدھ کو اے پی پی سے بات چیت کے دورانان کا کہنا تھا کہ دنیابھر میں چاو ل پر ہنگامی بنیادوں پر تحقیق جاری ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے بہتر پیداوار کی حامل اقسام تیار کی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں اری 6 اور اری 9 کی اقسام اب تک چل رہی ہیں جبکہ دنیا بھر میں یہ اقسام ختم ہو چکی ہے اور کئی ممالک ان کی جگہ اری 12 سے اری 16 تک کی نئی اقسام تیار کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے تھا کہ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ حکومت پاکستان نے کبھی بھی فلپائنی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی کوشش نہیں کی حالانکہ فلپائن سے نئی اقسام درآمد کرکے بہترین پیداوار کا حصول ممکن بنایاجاسکتاہے۔ ذرائع,اے پی پی

Published: Zarai Media Team

Rice Research, Agriculture in Pakistan

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More