ہفتہ رفتہ، کاٹن مارکیٹوں میں مندی، نرخ 6500 روپے تک آگئے

Cotton Spot Rates
Cotton Spot Rates

پير 6 مئ 2013

کراچی: امریکی اداروں کے مختلف اداروںکی جانب سے روئی کی کھپت، اینڈنگ اسٹاکس سے متعلق غیرحقیقی رپورٹس کااجراکپاس کی بین الاقوامی منڈیوں پر براہ راست اثرانداز ہورہی ہیں اور ان حقیقی رپورٹوں کی بنیاد پرعالمی سطح پر روئی کی قیمتوں میں مصنوعی اتارچڑھائو کا رحجان غالب ہونے سے مخصوص سٹے باز اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔


گزشتہ ہفتے بھی انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ نے عالمی سطح پر روئی کی قیمتوں میں تیزی کے رحجان کومندی اور بعدازاں خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے دوبارہ تیزی میں تبدیل کردیا تھا جس کے اثرات پاکستانی کاٹن مارکیٹس پر بھی مرتب ہوئے اور مقامی کاٹن مارکیٹوں میں میں بھی روئی کی قیمتوں میں استحکام پیدا ہوا لیکن ہفتہ وار کاروبار کے دوران مجموعی طور پر مندی کے اثرات غالب رہے اورگزشتہ ہفتے پاکستان میں فی من روئی کی قیمت100 روپے کی کمی سے6500 روپے کی سطح پر آگئی، پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایاکہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پرپی سی جی اے کی جانب سے کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار کے اعداد وشمار جاری ہونے کے بعد رواں ہفتے مقامی سطح پرروئی کی قیمتوں میں مزید استحکام کی توقع ہے لیکن اس استحکام کا انحصار ٹیکسٹائل، اسپننگ سمیت دیگر متعلقہ شعبوں کوتوانائی کی فراہمی پرمنحصر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر بڑھنے کے سبب سوتی دھاگہ اورروئی کی برآمدی سرگرمیوں میں اضافہ بھی متوقع ہے جو بعدازاں روئی کی قیمتوں پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہیں، انہوں نے بتایاکہ گزشتہ ہفتے نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 2.70سینٹ فی پائونڈ کے اضافے سے 93.50 سینٹ فی پائونڈ145 جولائی ڈلیوری روئی کے سودے 2.18 سینٹ فی پائونڈاضافے سے 86.43 سینٹ فی پائونڈ145 بھارت میں روئی کی قیمت 6سو روپے فی کینڈی اضافے سے 37ہزار 688روپے فی کینڈی جبکہ چین میں بھی گزشتہ ہفتے کے دوران روئی کی قیمت میں ایک فیصد کااضافہ ریکارڈ کیا گیا، ہفتہ واری کاروبار کے دوران کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی کی جانب سے فی روئی کی اسپاٹ قیمت 100روپے کی کمی سے 6ہزار 500روپے رہی ہے۔احسان الحق نے بتایاکہ گذشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی نئی فصل کے ایڈوانس سودوں کا بھی آغاز ہوگیا ہے اورابتدائی طور پرہارون آباد کی ایک جننگ فیکٹری نے 6جون 2013کی ڈلیوری کی بنیاد پر روئی کی 200گانٹھوں کے سودے کیے ہیں اور فیکٹری یہ کاروباری معاہدہ 6ہزار 100روپے فی من کے حساب سے کیا ہے، اسی طرح ایک اورمقامی ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے 6ہزار 100روپے فی من کے حساب سے روئی کے ایڈوانس سودے کی مد میں ایک جننگ فیکٹری کوپیشکش کی گئی ہے لیکن جنر نے ٹیکسٹائل مل کی اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے کیونکہ مقامی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رحجان غالب ہوجائیگا جسکے بعد ہی متعلقہ جنر مہنگے داموں اپنی روئی فروخت کرنے کا خواہاں ہے، انہوں نے بتایاکہ ناگزیر موسمی حالات کے باعث پاکستان میں کپاس کی کاشت ایک بارپھرمتاثرہورہی ہے اور اس امر کا خدشہ ہے کہ رواں سال بھی پاکستان میں کپاس کی کاشت کا مقررہ ہدف حاصل نہیں ہوسکے گا۔  ذرائع,ایکسپریس
Published: Zarai Media Team
Cotton Market, Pakistan Agriculture

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More