مویشیوں میں منہ کھر کی بیماری زرعی معیشت کیلیے خطرہ قرار

پير 6 مئ 2013

کاشف حسین
foot and mouth disease in cattle
foot and mouth disease in cattle
کراچی: مویشیوں میں منہ کھر کی تیز رفتار سے پھیلتی بیماری پاکستان کی لائیو اسٹاک اور ڈیری انڈسٹری کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہے، پاکستان میں ایک سال کی عمر تک پہنچنے والے 35سے 50فیصد مویشی منہ کھر کی بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔امریکی ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ ایشفورڈ نے مویشیوں میں منہ کھر کی بیماری کو پاکستان کی ایگری کلچر اکانومی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے قومی سطح پر روک تھام کے پروگرام، قانون سازی کے ذریعے ویکسینیشن، متاثرہ مویشیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی قومی حکمت عملی کو ناگزیر قرار دے دیا ہے۔ ایکسپریس کے لیے بذریعہ ای میل انٹرویو میں امریکی سفارتخانے کے اینیمل ہیلتھ اتاشی ڈاکٹر ڈیوڈ ایشفورڈ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایک سال کی عمر کو پہنچنے والے ہر 100میں سے 35 تا 50 مویشی منہ کھر کی بیماری میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں منہ کھر کی بیماری تشویشناک رفتار سے پھیل رہی ہے جس کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر منصوبہ بندی اور بیماری کی روک تھام کے لیے خصوصی پروگرام ناگزیر ہے۔ڈاکٹر ایشفورڈ کا کہنا ہے کہ منہ کھر کی بیماری سے پاکستان کی زراعت پر مبنی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے چھوٹے فارمرز جو ملک کی 60فیصد زرعی پیداوار فراہم کرتے ہیں اس بیماری کے سبب دودھ کی پیداوار کی مد میں سالانہ 18ہزار 500روپے فی مویشی نقصان اٹھارہے ہیں، اس طرح مقامی مارکیٹ میں سالانہ 7ارب روپے کے نقصان کا سامنا ہے۔ پاکستان دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے لیکن یہ بیماری مقامی پیداوار میں کمی کے علاوہ ایکسپورٹ کی راہ میں بھی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ مویشیوں کی منہ کھر کی بیماری تشویشناک رفتار سے پھیلنے کے باوجود پاکستان میں قومی سطح پر اس بیماری کی روک تھام کے لیے کوئی پروگرام شروع نہیں کیا گیا، اس طرح کا پروگرام فوری طور پر شروع کرنا ہوگا جس کے تحت بہتروٹرنری سہولتوں، ملک گیر سطح پر مویشیوں کے لیے ٹیکوں کی مہم، مویشیوں کی نقل و حرکت کی موثر نگرانی اور مویشیوں کی ویکسین کی سرٹیفکیشن یقینی بنائی جائے۔منہ اور کھر کی بیماری سے متاثرہ مویشیوں کی ایکسپورٹ سے یہ بیماری دیگر ملکوں میں بھی پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے اسی لیے کسی بھی ملک میں اس بیماری کی روک تھام کے لیے اجتماعی طور پر علاقائی حکمت عملی اور عالمی اشتراک بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان میں اس بیماری کے پھیلنے کی کوئی حتمی وجہ نہیں بتائی جاسکتی لیکن بیماری کے پھیلائو کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، اس بیماری کی روک تھام کے لیے امریکی معاونت سے چلنے والے پائلٹ پراجیکٹ سے اس طرز کی قومی حکمت عملی اور اس پر موثر انداز سے عمل درآمد کی اہمیت تسلیم کرنے میں نمایاں مدد ملی ہے۔ پاکستان میں مویشیوں کے طبی ماہرین کی تعداد کافی ہوسکتی ہے اور ماضی میں بھی پاکستان عالمی برادری کے تعاون سے اسی طرز کی بیماری Rhinderpestسے چھٹکارہ حاصل کرچکا ہے تاہم منہ اور کھر کی بیماری کی روک تھام کے لیے ماہرین اور ڈاکٹرز پر اکتفا نہیں کیا جاسکتا۔اس کے ساتھ ویکسینیشن کے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے معائنہ ٹیموں کو بھی متحرک کرنا ہوگا تاکہ ملک بھر میں حرکت پذیر مویشیوں کی نگرانی اور جانچ کے ذریعے منہ کھر کی بیماری کے پھیلنے کے امکانات کو محدود کیا جاسکے۔ پاکستان میں یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ایگری کلچر اور فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے اشتراک سے منہ کھر کی بیماری کی تشخیص کے لیے ہر صوبے کے متعدد ڈسٹرکٹس میں بنیادی ڈائگناسٹک سہولت مہیا کردی گئی ہے اور یہ سہولت بیماری کی تشخیص اور پھیلائو کی رفتار کو کم کرنے میں اہمیت کی حامل ہے، پاکستان میں متعلقہ ادارے بین القوامی معاونت سے بیماری کی روک تھام کے لیے سخت محنت کررہے ہیں ورلڈ اینمل ہیلتھ آرگنائزیشن (او آئی ای) دنیا بھر میں وٹرنری سہولتوں کے حوالے سے پائی جانے والی خامیوں اور ضروریات کی نشاندہی کرتی ہے اور اس طرح کی قدر پیمائی پاکستان کے لیے بھی کی جائیگی۔ پاکستان میں اس بیماری کے بارے میں کافی حد تک آگہی پائی جاتی ہے لیکن اس بیماری میں مبتلا مویشیوں کے مالکان بیماری کے نقصانات کی شدت سے کم آگاہی رکھتے ہیں، فارمرز کو اس بیماری کے معیشت پر پڑنے والے اثرات سے آگہی نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں پائی جانے والی مویشیوں کی اس دیرینہ بیماری کی روک تھام کے بجائے اس بیماری سے سمجھوتا کرنے کا رجحان برقرار ہے۔ یورپ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان کے ساتھ فلپائن اور ملائشیا نے موثر قومی حکمت عملی، علاقائی سطح پر مویشیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور مربوط و موثر ویکسنیشن پروگرام کے ذریعے منہ کھر کی بیماری پر کامیابی سے قابو پالیا ہے۔ خود ریاست ہائے متحدہ امریکا نے بھی قومی پروگرام کے ذریعے اس بیماری پر قابو پایا ہے۔ پاکستان میں بھی اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں برازیل کی مثال سامنے ہے جو دنیا میں گوشت ایکسپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے۔ امریکی ادارہ اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ انسپیکشن سروس ( اے پی ایچ آئی ایس) پاکستان میں پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اس بیماری کی روک تھام کے لیے کام کررہا ہے اور اب تک اس پراجیکٹ پر 4ملین ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں۔اس پراجیکٹ کے تحت پاکستانی پارٹنرز کی مدد سے اب تک 5لاکھ مویشیوں کی ویکسنیشین کی گئی ہے اس پراجیکٹ کا مقصد پاکستان میں منہ کھر کی بیماری کی روک تھام کے قومی منصوبے کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے پراجیکٹ کے تحت پاکستان میں بیماری کی تشخیص اور رپورٹنگ کی سہولتوں کو بہتر بناتے ہوئے فارمرز میں آگہی کو فروغ دیا جارہا ہے اسی طرح بیماری کی روک تھام کیلیے بہتر اور کارگر ویکسین کی تیاری اور ویکسین کی تیاری کی گنجائش میں اضافہ کیا جارہا ہے اسی طرح تربیت یافتہ تکنیکی عملے کی قلت دور کرنے اور مویشیوں کے نمونے جمع کرنے اور نجی وٹرنرز کی تربیت کی جارہی ہے تاحال 1900 افراد کو تربیت دی جاچکی ہے اسی طرح پاکستان کو اس بیماری سے نجات دلانے کے لیے سوشو پولیٹیکل سپورٹ دی جارہی ہے۔ ذرائع,ایکسپریس 

Published: Zarai Media Team

foot and mouth disease in cattle

Foot and Mouth Disease,  Pakistan Agriculture

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More