شہد کی مکھیوں کے لیے نقصان دہ کیڑے مار دواؤں پر پابندی

دواؤں پر پابندی
دواؤں پر پابندی

پير 6 مئ 2013

یورپی کمیشن نے شہد کی مکھیوں کے لیے نقصان دہ متعدد کیڑے مار دواؤں پرعارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ رکن ریاستوں کے درمیان عدم اتفاق کے بعد سامنے آیا ہے۔

برسلز(مانیٹرنگ ڈیسک) اس حوالے سے برسلز میں ووٹنگ ہوئی۔ رکن ریاستیں شہد کی مکھیوں کے لیے نقصان دہ خیال کی جانے والی تین قسم کی کیڑے مار دواؤں پر پابندی کے لیے قانونی مہلت دینے پر عدم اتفاق کا شکار رہیں تاہم بعض ریاستوں کے تحفظات کے باوجود یورپی کمیشن نے پابندی کے اقدامات کی حمایت کرنے والی 15ریاستوں کے مؤقف کی تائید کی ہے۔

اس فیصلے کے بعد یورپی کمشنر فار ہیلتھ اینڈ کنزیومر پالیسی ٹونیو بورگ نے ایک بیان میں کہا کہ چونکہ ہماری تجویز شہد کی مکھیوں کی صحت کو درپیش متعدد خطرات کی بنیاد پر ہے جن کی نشاندہی یورپین فُوڈ سیفٹی اتھارٹی (ای ایف ایس اے) نے کی، کمیشن آئندہ ہفتوں کے دوران اس کے مسودے پر آگے بڑھے گا۔بورگ کا مزید کہنا تھا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہماری شہد کی مکھیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی پوری کوشش کروں گا، جو ماحولیاتی نظام کے لیے انتہائی اہم اور یورپی زراعت کو سالانہ 22 ارب یورو کا فائدہ پہنچاتی ہیں۔ یورپی کمیشن نے ایسی تین کیڑے مار دواؤں دوائیں کلوتھیانیدین، امیداکلوپریڈ اور تھیامیٹاوکسام پر دو سالہ پابندی کی تجویز دی تھی جنہیں شہد کی مکھیوں کے اعصابی نظام پر نقصان دہ اثرات کی حامل سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع دنیا
Published: Zarai Media Team
Honey Bee, Pesticides 

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More