حکومت گندم کے خریداری ہدف میں اضافہ کرے، ابراہیم مغل

wheat-procurementپير 6 مئ 2013

کم ہدف کے باعث کاشتکار 67فیصد حصہ آڑھتی اور مڈل مین کو بیچنے پر مجبور ہیں ہرسال15لاکھ ٹن گندم ضائع اوراتنی ہی بطوربیج استعمال ہوتی ہے، کاشتکاروں کوکم قیمت ملتی ہے بڑھتی آبادی کی ضروریات کیلئے گندم کی پیداوار بڑھانے کے اقدامات کیے جائیں، چیئرمین ایگری فورم

اسلام آباد:  ملک میں سالانہ2کروڑ 60لاکھ ٹن گندم کی کھپت ہوتی ہے جس میں سے2کروڑ 30 لاکھ ٹن غذائی ضروریات کی تکمیل،15لاکھ ٹن کاشتکاری کیلئے بطور بیج استعمال کی جاتی ہے جبکہ فصل کے پکنے سے کٹائی تک کے مراحل اور ذخیرہ کرنے کے عمل کے دوران15 لاکھ ٹن گندم سالانہ ضائع ہو جاتی ہے۔

ایگری فورم پاکستان کے چیئرمین ابراہیم مغل نے کہا ہے کہ ہماری آبادی سالانہ 2.5 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے جس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے گندم کی پیداوار بڑھانے کے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
کاشتکاروں سے گندم کی امدادی قیمت پر خریداری کیلئے حکومتی اداروں کو گندم کی خریداری کے اہداف میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو مڈل مین سے بچایا جا سکے۔ حکومت کے خریداری ہدف کے مطابق گندم خریدنے کے باوجود ملک کی مجموعی پیداوار کا 67 فیصد حصہ کاشتکار آڑھتی اور مڈل مین کے پاس بیچنے پر مجبور ہوں گے جس سے ان کو امدادی قیمت سے کم قیمت وصول ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی کارکردگی اور پیداوار بڑھانے کیلئے زرعی شعبے کو دی جانے والی سبسڈیز میں اضافے کی ضرورت ہے۔ ۔ذرائع(اے پی پی)
Published: Zarai Media Team
Wheat Procurement
Agriculture in Pakistan

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More