بھارتی ماہی گیر وں کا پاکستانی حدودمیں سالانہ 21کروڑ ڈالر کا ڈاکہ

 سالانہ 21کروڑ ڈالر کا ڈاکہ
سالانہ 21کروڑ ڈالر کا ڈاکہ

پير 6 مئ 2013

سا لانہ ایک لاکھ 44 ہزار میٹرک ٹن کی اعلیٰ نسل کی مچھلیاں بھارت پہنچتی ہیں بھارتی ماہی گیر شکار کر کے بھاگ جاتے ہیں، مچھلیوں کی اعلیٰ نسل کو شدید خطرات

کراچی (رپورٹ۔ مسرور افضال پاشا) بھارتی ماہی گیر ہر سال پاکستانی سمندری حدود سے 21کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کی اعلیٰ معیارکی مچھلیاں غیر قانونی طور پر پکڑ کر لے جاتے ہیں، بھارتی ماہی گیروں کے اس ڈاکے سے مچھلیوں کی اعلیٰ نسل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔ میرین فشریز ڈپارٹمنٹ کے ذرائع نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ200سے زائد بھارتی فشنگ بوٹس اور ٹرالرز سالانہ پاکستانی سمندری حدود سے تقریباً ایک لاکھ 44 ہزار میٹرک ٹن کی مختلف اقسام کی اعلیٰ نسل کی مچھلیاں بھارت لے جا تے ہیں جو اقوام متحدہ کے فشریز مینجمنٹ آرگنائزشن کے پروٹو کول کی خلاف ورزی ہے جس کو باہمی تعاون کے تحت دونوں پڑوسی ممالک کو حل کرنا ہوگا لیکن بھارت کئی سال سے اس معاملے پر بات چیت کرنے پررضامند نہیں اور اپنی مرضی کر رہا ہے ۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی ماہی گیر پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون کے 15سے 20 ناٹیکل میل اندرآکر مچھلی کا شکار کر کے واپس بھاگ جاتے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ بھارتی ماہی گیر جان بوجھ کر انڈس ڈیلٹا کے علاقے سے اعلیٰ معیار کی مچھلی کثرت سے شکار کر کے لے جاتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستانی ماہی گیر بھارتی پانی میں مچھلی پکڑنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے ۔ذرائع دنیا

Published: Zarai Media Team
Fisheries

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More