یورپی یونین پاکستان کے زرعی اور لائیوسٹاک سیکٹر کے لئے مواقع فراہم کر رہی ہے

04 May 2013

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ہینڈ آؤٹ

University of Agriculture, Faisalabad
University of Agriculture, Faisalabad

(زرعی میڈیا ڈاٹ کام ) یورپی یونین پاکستان کے زرعی اور لائیوسٹاک سیکٹر کی ترقی کے لئے گذشتہ کئی دہائیوں سے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے علاوہ پاکستانی سائنسدانوں کو پی ایچ ڈی سکالرشپ اور ریسرچ پراجیکٹس کے حوالے سے بھرپور مواقع فراہم کر رہی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں غذائی استحکام اور غذائی کمی کے مسائل پر قابو پانے کی مربوط کوششیں کی جانی چاہئیں۔ ان باتوں کا اظہار پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر مسٹر لارس گنروگ مارک نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے دورے کے دوران یونیورسٹی کے ڈینز اور ڈائریکٹر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بدلتے ہوئے موسمی تغیرات، پانی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی سب سے زیادہ ضرورت ہے خصوصی طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں صورتحال بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیڈو کے تحت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں فوڈ سیفٹی اینڈ کنٹرول پر تین سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومے کا اجراء کے ذریعے ملک میں سیفٹی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا موقع ملے گا۔ اس موقع پر کینیڈا کے ہائی کمشنر گریگ جیوکاس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا میں زراعت کو سبسڈی کی بجائے مقابلہ جاتی بنیادوں پر آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ کسانوں میں تجارتی حوالے سے مقابلے کی فضا پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جینیاتی حوالے سے ترقی یافتہ ٹیکنالوجی (GMO) کو بروئے کار لا کر دنیا بھر میں غذائی استحکام کے لئے کوششوں میں بہتری پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی مدد سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے ساتھ ساتھ زراعت کی ترقی کے لئے خاطرخواہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ہی واحد شعبہ ہے جس میں سرمایہ کاری اگر زیادہ کی جائے تو دیگر شعبہ جات کے مقابلے میں لوگوں کو روزگار کے زیادہ مواقع میسر آ سکتے ہیں۔ انہوں نے توسیعی شعبے میں خواتین کے کردار کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے دیہی خواتین کو زراعت اور لائیوسٹاک میں پیداواریت کی جانب متوجہ کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے دونوں سفیروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی بین الاقوامی اداروں کے ساتھ باہمی تعاون کے حوالے سے تیزرفتاری کے ساتھ پیش قدمی یقینی بنا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت یورپی یونین کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، برازیل، ملائیشیا اور ترکی سمیت مختلف ممالک کے ساتھ اساتذہ و طلباء کے ایکسچینج پروگراموں کے ساتھ ساتھ مشترکہ ڈگری پروگراموں پر پیش رفت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمی تغیر کے حوالے سے متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہے اور یہاں تقریباً موسم میں ایک مہینے کا فرق واضح طور پر دیکھنے میں آیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنا پیداواری منصوبہ جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ دونوں سفیروں نے زرعی یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور وہاں جاری تحقیقی منصوبوں کی تعریف کی۔ سینڈیکیٹ ہال میں اجلاس کے دوران دونوں سفیروں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کی بین الاقوامی درجہ بندی میں موجودگی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان کے لئے ایک اعزاز سے تعبیر کیا۔

Agriculture in Pakistan,
Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More