چین سے پولٹری مصنوعات کی درآمد پر مقامی صنعت کا اظہار تشویش

جمعرات 2 مئ 2013

چین سے پولٹری مصنوعات کی درآمد
چین سے پولٹری مصنوعات کی درآمد

برڈ فلو کی وجہ سے 35ممالک سےپولٹری مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی تھی چین پابندی والے ملکوں میں شامل تھا ، بڑی کھیپ کسی تصدیق کے بغیر درآمد کی گئی

کراچی(بزنس رپورٹر)مقامی پولٹری صنعت نے وفاقی وزارت تجارت کی جانب سے پابندی کے باوجود چین سے پراسیس چکن فوڈ کی درآمد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چین سے پولڑی مصنوعات کی درآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔وفاقی وزارت تجارت نے گزشتہ ماہ 35ملکوں کی پولٹری مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی جس کا مقصد برڈ فلو کی وبا سے پاکستانی شہریوں کو محفوظ رکھنا تھا، ان ممالک میں چین کا نام بھی شامل ہے مگر یہ امر باعث تشویش ہے کہ چین سے پراسیس شدہ پولٹری مصنوعات کی درآمد پہلے کی طرح جاری ہے اور وفاقی وزارت تجارت کے اس مثبت فیصلے کے باوجود پاکستانی شہریوں کی زندگی کو خطرات لا حق ہیں۔جن ممالک سے پولٹری اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کی گئی تھی ان میں چین، آذربائیجان، یوکرائن، افغانستان ،ویت نام، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، جاپان، میانمار، کمبوڈیا، لاؤس، تائیوان، ملائشیا، ہانگ کانگ، روس، جنوبی افریقہ، قازقستان، منگولیا، یونان، رومانیہ، ترکی، کروشیا، ایران، اٹلی، عراق، بلغاریہ، سلووانیا، فرانس، نائجیریا، سلوواکیہ ، آسٹریا، جرمنی، اور بوسنیا ہرزوگووینا شامل ہیں۔چین میں برڈ فلو سے ہونے والی تقریباً دو درجن ہلاکتوں کے باوجود ایک بڑی سطح پر پاکستان فوڈ چینز کے لیے پولٹری مصنوعات کی درآمد جاری ہے۔ چین کے ویٹرینری حکام پہلے ہی مقامی پولٹری میں انفلوئنزا وائرس کی موجودگی کی تصدیق کر چکے ہیں، چین سے پولٹری کی درآمد مقامی ویٹرینری حکام کی تصدیق سے مشروط ہے لیکن دستیاب اطلاعات کے مطابق پولٹری مصنوعات کی ایک بڑی کھیپ کسی تصدیق کے بغیر درآمد کر لی گئی ہے جو مقامی صنعت کے لیے باعث تشویش ہے ۔ ذرائع ,دنیا نیوز

Published: Zarai Media Team

Pakistan Poultry

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More