ڈینگی کے بارے میں آگاہی اور انسداد کے لئے اقدامات

26 April 2013

Dengue Awareness
Dengue Awareness

لاہور:زرعی میڈیا ڈاٹ کام: محکمہ زراعت پنجاب کے انٹامالوجسٹس انسدادِ ڈینگی مہم کوکامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈینگی کے بارے میں آگاہی اور انسداد کے لئے اقدامات کے حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کی طرف سے مربوط حکمت عملی مرتب کی گئی ہے لیکن اس کی کامیابی کے لئے عوام کی فعال شرکت ضروری ہے۔ یہ بات محمد رفیق اختر ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب نے بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں ڈینگی کے بارے آگاہی سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس سیمینارکا انعقاد نظامت زرعی اطلاعات پنجاب اوربارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کی طرف سے مشترکہ طور پر کیا گیا ۔سیمینار میں یونیورسٹی کے اساتذہ ، طلباء اور سول سوسائٹی کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔ اس موقع پر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب کی طرف سے تیار کی گئی ویڈیو ڈاکومینٹری کو بھی دکھایا گیا تاکہ عوام الناس میں شعور اجاگر کیا جا سکے اور اگرخدانخواستہ کوئی فرد ڈینگی بخار میں مبتلا ہو جائے تو اس کے علاج کے لئے بھی رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ محکمہ زراعت پنجاب ملک محمد فیاض نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ڈینگی کے انسداد کے لئے محکمہ زراعت پنجاب کے انٹامالوجسٹس پوری جانفشانی اور مستعدی کے ساتھ ڈینگی مچھر کے لاروے کی تلاش اور تلفی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کے خاتمہ کے لئے حکومت پنجاب کی مربوط حکمت عملی کے تحت محکمہ زراعت پنجاب کو ایک اہم ذمہ داری دی گئی ہے جس کے تحت عوام الناس میں ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور مچھر کے خاتمہ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم میں عوام الناس کی بھرپور شرکت سے ڈینگی مچھر اور ڈینگی بخار کی وبائی مرض سے باآسانی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ بارانی یونیورسٹی کے انٹا مالوجسٹ ڈاکٹر محمد طارق نے ڈینگی مچھر کی افزائش کی روک تھام ، تلفی اور ڈینگی بخار سے بچاؤ سے متعلق احتیاطی تدابیر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ ڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھرکی مخصوص قسم ایڈیز24تا 33 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر نشوونماپاتے ہیں جبکہ 16ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی درجہ حرارت کو برداشت کر لیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ 42ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی درجہ حرارت کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

بارانی یونیورسٹی کے وائس چانسلر رائے نیاز احمد نے اختتامی خطاب میں کہا کہ دنیا کے 100سے زائد ممالک میں ڈینگی کے سالانہ 50ملین کیسز ر پورٹ کیے جا تے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی کو سال 2012ء کے دوران سب سے زیادہ پھیلنے والی وبائی مرض قرار دیا ہے اور گذشتہ 50سال سے اس وبا ء کے پھیلاؤ میں 30گنا اضافہ ہو اہے ۔انہوں نے کہا کہ سال 2011ء میں پنجاب میں 30ہزار سے زائد افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے اورقریباََ350افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تاہم اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حکومت پنجاب کی کامیاب حکمت عملی اور متعلقہ محکموں کی شب و روز کاوشوں کی بدولت گذشتہ سال صوبہ پنجاب میں ڈینگی وبا ء پر مکمل کنٹرول رہا ہے اور کوئی جانی نقصان نہ ہو ا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس مرض کے لیے کوئی قابل ذکر علاج مئیسر نہیں اور ویکسین ابھی ریسرچ مراحل میں ہے لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھروں اور ماحول کو صاف رکھیں کہیں پانی کھڑانہ ہونے دیں تاکہ ڈینگی مچھروں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ ہو سکے انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی طلباء ڈینگی کے بارے میں آگاہی حاصل کر کے اس سے نجات کے لیے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں اور ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ڈینگی کے تدارک کے لیے سرکاری اداروں سے تعاون کریں اور ماہرین کی راہنمائی پر عمل کریں تاکہ مکمل طور پر ڈینگی سے نجات حاصل ہو سکے ۔

****
Dengue Awareness

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب
Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More