پاکستان میں زراعت کو انڈسٹری کا درجہ دے کر آسٹریلیا کی طرز پر پرائمری انڈسٹری کے لیے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے

April 27, 2013

Agriculture in Pakistan
Agriculture in Pakistan

لاہور: زرعی میڈیا ڈاٹ کام:پاکستان میں زراعت کو انڈسٹری کا درجہ دے کر آسٹریلیا کی طرز پر پرائمری انڈسٹری کے لیے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زرعی میکینائیزیشن کے ذریعے خوراک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے ۔ یہ بات پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل اسلام آباد کے چیئرمین ڈاکٹر افتخار احمد نے لاہور میں’’ انٹرنیشنل سیمینار برائے بنجر زمینوں کو میکینائزیشن کے ذریعے قابل کاشت بنانا ‘‘میں صدارتی خطبہ میں کہی ۔ سیمینار میں زرعی ماہرین اور زرعی انجینئرز کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔سیمینار کا اہتمام ساؤتھ ایشین کنزرویشن ایگریکلچر نیٹ ورک (SACAN)نے کیا تھا۔ڈاکٹر افتخار نے کہا کہ زرعی آلات و مشینری کی خریدارای کے لئے چھوٹے کاشتکاروں کو قرضوں کی فراہمی کیلئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ مشینی کاشت کو فروغ دیا جاسکے۔انہوں نے پاکستان میں زراعت کی ترقی کے لیے برازیل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بڑے کاشتکار زرعی اجناس خود ایکسپورٹ کرتے ہیں جبکہ چھوٹے کاشتکاروں سے ان کی اجناس فوج خریدتی ہے ۔

مشتاق گل سابق ڈائریکٹر جنرل زراعت (اصلاح آبپاشی )نے کہا کہ کنزرویشن ٹیکنالوجی کے فروغ سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکاروں کو بلڈوزر کی سہولت فراہم کر کے پنجاب کے 40لاکھ ایکڑ رقبے کو قابل کاشت بنایا جا سکتا ہے جس سے صوبے میں 15لاکھ ٹن گندم کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ زراعت کے پاس زمین کی بحالی کے لیے 338بلڈوزرز موجود ہیں جو کاشتکاروں کو ارزاں کرائے پر فراہم کیے جاتے ہیں جس کے لیے حکومت سالانہ 80لاکھ روپے مختص کرتی ہے ۔

ڈاکٹر طلعت نصیر پاشا وائس چانسلر وٹرنری یونیورسٹی لاہور نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان سے دودھ اور گوشت کی برامدات میں اضافہ کیلئے لائیوسٹاک سیکٹر کو میکانائز کرناوقت کا تقاضہ ہے ۔ بیلجیم کے زرعی ماہر مسٹر وان باؤٹ نے ویڈیو ڈاکومینٹری کے ذریعے سیمینارکے شرکاہ کو گندم کی کٹائی سے متعلق جدید مشینر ی کے بارے میں بریف کیا ۔

*****

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

21۔ سر آغا خان سوئم روڈ لاہور

Agriculture in Pakistan
Copy Rights @Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More