محکمہ زراعت: 1لاکھ 13ہزار سے زائد کاشتکاروں کی 14لاکھ ایکڑزمین کو قابل کاشت بنایا گیا

agricultural-engineering
agricultural-engineering

تاریخ:20-04-2013

لاہور:زرعی میڈیا ڈاٹ کام: محکمہ زراعت کے شعبہ زرعی انجینئرنگ کی طرف سے 2002ء سے اب تک 4ارب 62کروڑ 15لاکھ روپے کی سبسڈی سے 1لاکھ 13ہزار سے زائد کاشتکاروں کی 14لاکھ ایکڑزمین کو قابل کاشت بنایا گیاہے۔ یہ بات نگران وزیر زراعت پنجاب قیصرذوالفقار خان کو آج زراعت ہاؤس لاہور میں محکمہ زراعت کے شعبہ فیلڈمیں جاری منصوبوں سے متعلق بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت (فیلڈ) ڈاکٹرمحمد بشیر،ڈائریکٹرزرعی اطلاعات محمد رفیق اختر ،ڈپٹی ڈائریکٹر (پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ) ڈاکٹر محمد غفار ڈوگر،ڈپٹی ڈائریکٹر (انجینئرنگ) زاہد بشیر اور محکمہ زراعت کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔

ڈاکٹر محمد بشیر نے بریفنگ کے دوران نگران وزیر زراعت کو بتایا کہزمینی وسائل کی تر قی کے لئے شعبہ زرعی انجینئرنگ کا شتکاروں کو صو بہ بھر میں رعایتی نرخوں پر 344بلڈ وز ر مہیا کر رہا ہے جن میں 120ہارس پاور کے 296 کما ٹسو اور 90ہارس پاور کے 48کیٹر پلرشامل ہیں جن کے ذریعے سالانہ قریباْ 30ہزارایکڑ زمین ہموار کر کے قابل کاشت بنائی جاتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت کی طرف سے کاشتکاروں کی سہولت کے لیے بلڈوزروں کا کرایہ1400روپے سے کم کرکے 560روپے فی گھنٹہ بشمول ڈیزل مقرر کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں گذشتہ دو سالوں میں قریباََ27کروڑ روپے کی سبسڈی سے 13 ہزار ایکڑ سے زیادہ زمین ہموار کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گند م کے بھوسے کو محفوظ کرنے کے لئے 55لاکھ روپے کی سبسڈی سے 260چوپر ز کاشتکاروں کو فراہم کئے گئے ہیں تاکہ وہ گندم کا بھوسہ جانوروں کی خوراک اور گتہ بنانے والی فیکٹریوں کو فروخت کرکے اپنی آمدن میں اضافہ کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں انرجی کے بحران سے نمٹنے کے لئے 7کروڑ 50لاکھ روپے کی سبسڈی سے 1500فیملی سائز بائیو گیس پلانٹس چھوٹے کاشتکاروں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کوپورا کرنے اور فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے مشینی زراعت کا فروغ وقت کا تقاضا ہے اور محکمہ زراعت کی طرف سے گذشتہ دو سالوں کے دوران 1ارب روپے کی سبسڈی سے چھوٹے کاشتکاروں کو 9017 زرعی آلات فراہم کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے وزیر زراعت کو بتایا کہ ٹیوب ویل کی ڈرلنگ کی مناسب جگہ کے تعین کے لئے محکمہ کی طرف سے الیکٹریکل رزسٹیوٹی میٹرکی سہولت انتہائی کم نرخوں پر کاشتکاروں کو فراہم کی جا رہی ہے جس سے کاشتکار ڈرلنگ سے پہلے پانی کی مقدار، کوالٹی اور دیگر خصوصیات کے بارے آگاہی حاصل کر لیتے ہیں۔

نگران وزیر زراعت پنجاب نے کہا کہ کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی اور بھرپور پیداوار کے لیے مشینی کاشت کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے مشینی کاشت کی ترقی اور فروغ کے لئے تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف زرعی انجینئرز پر زور دیا کہ وہ جدید زرعی آلات کے ماڈلز ترقی یافتہ ممالک سے درآمد کر کے مقامی ضروریات کے پیش نظر کم قیمت زرعی آلات مقامی مارکیٹ میں متعارف کرانے کے ساتھ مقامی زرعی مشینری کے صنعتکاروں کو بھی فنی تعاون مہیا کریں تاکہ ہمارے چھوٹے کاشتکاروں کو مناسب قیمت پر تمام کاشتی امور سے متعلق زرعی آلات کی دستیابی ممکن ہو ۔انہوں نے کہا کہ مشینی کاشت کے فروغ کے بغیر زرعی شعبہ کی ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے ۔

****

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

21۔ سر آغا خان سوئم روڈ لاہور
Agriculture department,

Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More