برڈفلواور اس کی نقصانات

bird flu
bird flu

*ڈاکٹر محمد عرفان انور(ڈی ڈی ایل او، پولٹری)،ڈاکٹر عاصم رفیق(وی او، پولٹری )،ڈاکٹر ملک شہزاد،ڈاکٹر احمدرضا، ڈاکٹر محمد عثمان نصیر*ڈپٹی ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک آفس ( پولٹری پروڈکش) فیصل آبا د۔

زرعی میڈیا ڈاٹ کام:
تعارف:برڈ فلو پرندوں کی خطرناک بیماری ہے جسے پرندوں کا طاعون بھی کہتے ہیں۔یہ وائر س سے ہونے والی مہلک بیماری ہے جو پرندوں میں سانس میں دشواری، کھانے پینے میں کمی، پیداوار میں کمی، اور اموات کا باعث بن سکتی ہے۔ اس بیماری میں شرح اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔

بیماری کا سبب:

اس بیماری کا سبب آرتھومگزووریڈی(orthmyxoviridae) فیملی سے تعلق رکھنے والا ایک وائرس ہے جس کی مختلف اقسام مرغیوں کے علاوہ انسانوں اور دوسرے جانوروں میں بھی خطرناک بیماری پیدا کر سکتی ہیں۔اس وائرس کی سطح پر دو اہم پروٹینز(لحمیات) ہوتی ہیں جسے HاورNکہتے ہیں ان میں ابھی تک H1 سے H16 تک اور N1سےN9 تک دریافت ہو چکی ہیں جو کہ آپس میں مل کر وائرس کو کم یا زیادہ خطرناک بناتی ہیں۔H7اور H5 اس کی خطرناک اقسام ہیں جو مرغیوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتی ہیں۔

تاریخی پس منظر:

اس بیماری کی دنیا میں سب سے پہلے اٹلی میں شناخت ہوئی اور ڈاکٹر پے دن سٹیو نے اس کو پرندوں کی طاعون کا نام دیا۔ اس بیماری نے 1992 میں امریکہ ، 1994 میں سکاٹ لینڈ اور 1959 میں کینڈا میں پولٹری انڈسٹری کو کافی نقصان پہنچایا۔ 1963 تک یہ بیماری تقریباََ پوری دنیا میں پھیل چکی تھی۔1983-84 میں اس بیماری سے امریکہ میں تقریباََ 70لاکھ مرغیوں کو نقصان ہو۔، نومبر1994میں پاکستان میں اس بیماری سے پولٹری انڈسٹری کو خاصہ نقصان ہوا۔

میزبان پرندے:

مرغیاں، بٹیر، ٹرکی ، آبی پرندے، چکور، اور تیتر وغیرہ اس بیماری میں میزبان پرندے ہیں مرغیوں اور ٹرکی میں اس بیماری کا حملہ خطرناک ہوتا ہے جبکہ بطخوں میں اس بیماری کے خلاف مو ثر مذاحمت ہوتی ہے۔

بیماری کا پھیلاؤ:

بیماری کا پھیلاؤ درج ذیل طریقوں سے ہوتا ہے۔

۱۔ پرندوں کے ناک سے نکلنے والی رطوبتوں سے۔

۲۔ پرندوں کی بیٹوں سے۔

۳۔ بطخ اس بیماری کے پھیلنے میں بہت بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔

۴۔ کام کرنے والے عملے ، فارم پرآنے والی ٹرانسپورٹ، انڈوں کے کریٹ، اور جوتے وغیرہ۔

علامات:

اس بیماری کی علامات پرندوں کی عمر، قسم ، وائرس کی قسم ، اور بیماری کی شدت پر منحصر ہوتی ہیں۔کم شدت والے وائرس کے حملے کے نتجے میں چوزوں کا اکٹھا ہونا، نظام رنفس کی ابتدائی علامات، سانس کے ساتھ آوازیں آنا، آنکھ اور ناک سے پتلی رطوبتوں کا نکلنا، بڑے پرندوں میں انڈوں کی پیداور میں معمولی کمی ہونا شامل ہیں۔شدید بیماری کے حملے کی صورت میں پرندوں میں اچانک شرح اموات میں اضافہ ہو جاتا ہے انڈوں کی پیداوار نہ ہونے کے برابر کم ہو جاتی ہے۔پرندوں میں سانس لینے میں دشواری ، کے ساتھ مخصوص آوازیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ پرندوں کی کلغی اور چہرے کی رنگت سرخی مائل نیلی ہو جاتی ہے۔

موت کے بعد علامات:

سانس کی نالی میں بلغم اور بعض اوقات اس میں خون بھی ہو سکتا ہے۔ سر اور گردن کی سوزش،واٹل اور کلغی کو سوزش، انتڑیوں کی سطح پر خون کے دھبے، پھپھڑوں میں پانی اور خون کے دھبے، دل کی جھلی میں پانی پڑ جانا اور اس پر خون کے دھبے، گردوں کی سوزش، انڈے بننے والی جگہ پر خون کے دھبے وغیرہ اس بیماری میں پوسٹ مارٹم کرنے پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

حفاظتی تدابیر اور روک تھام:

جنگلی پرندوں کو فارم میں داخل نہ ہونے دیں۔

پرندوں کو شدید حالات(زیادہ گرمی اور سردی) سے بچائیں۔

بیمار پرندوں کو صحت مند فلاک سے علیحدہ کر دیں۔

فارم پر صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔

مختلف عمروں اور انوع کے پرندوں کو اکٹھا نہ رکھیں۔

فارم پر وقتاََفوقتاََ جراثیم کش دوائی کی سپرے کرتے رہیں۔

پرندوں میں اس بیماری کے خلاف ویکسین کروائیں۔

لیئر میں اس بیماری کا ویکسینیشن شیڈول:

عمر(دن)

بیماری

طریقہ

20-21

ND+H9

ٹیکہ لگوائیں

70

ND+H9

ٹیکہ لگوائیں
Bird Flu,

Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More