گندم کی کٹا ئی، گہا ئی او رسنبھال

April 13, 2013

گندم کی کٹا ئی، گہا ئی او رسنبھال
گندم کی کٹا ئی، گہا ئی او رسنبھال

زرعی میڈیا ڈاٹ کام: پاکستان ایک زرعی ملک ہے جسکی سر زمین قدرتی وسا ئل سے مالا مال ہے ان قدرتی وسا ئل سے فا ئدہ حاصل کرنے کیلئے بہت سے عملی اقدامات کر نا ضروری ہیں۔ پاکستان کی آ بادی میں جس تیزی سے اضا فہ ہو رہا ہے اسکی وجہ سے خوراک کی ضروریا ت بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ خوردنی اجناس میں گندم کو ایک نما یا ں مقام حا صل ہے جو کہ ہماری غذا کا انتہا ئی اہم جزو ہے۔ گندم کی زیا دہ تر کاشت پنجا ب کے بیشتر میدانی علا قوں میں ہو تی ہے۔ صوبہ پنجا ب انا ج کی تقریباََ80فیصد ملکی ضروریا ت کو پورا کر تا ہے۔ گند م کی فصل پکنے کے بعد کٹا ئی کیلئے تیا ر ہے اور کٹا ئی کے دوران ہونیوالے نقصانات پر قابو پاکر پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتاہے۔ زیادہ پیداوار حا صل کر نے کیلئے عام کسا نو ں کے علا وہ ترقی پسند کا شتکار بھی زمین کی تیا ری سے لیکر فصل کے پکنے تک ہر مرحلے پر بہت احتیاط سے کام لیتے ہیں مگر وہ فصل کی کٹا ئی اور انا ج کی ذخیرگی کے دوران ہونیوالے نقصان سے بچا ؤ کی احتیا طی تدابیر پر عمل پیرا نہیں ہوتے ۔ گندم کا بھو سہ اور انا ج دونو ں انتہا ئی اہمیت کے حامل ہیں چو نکہ ان سے انسان اور مو یشی دونو ں کی بہت سی ضروریا ت پو ری ہو تی ہیں۔ ایک محتاط اندا زے کے مطا بق کٹا ئی کے بعد گندم کی کل پیداوار کا تقریبا10فیصد حصہ ضا ئع ہو جا تا ہے۔

گندم کی کٹا ئی کے دوران بھر یا ں بناتے وقت اور بھریوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر تے وقت خو شوں میں سے دانے جھڑ جا تے ہیں۔ فصل کا ٹنے کے بعد اگر بھر یو ں کو زیا دہ دن تک کھیت میں کھلے آ سمان تلے چھوڑاجائے اور بھریا ں ضرورت سے زیادہ خشکہو جانے سیبھی دانے جھڑ جا تے ہیں ۔ اسی طرح اگر گہا ئی میں تاخیر ہو جائے تو دانو ں میں نمی کا تناسب کم ہو جا تا ہے اور دانے سکڑنے کے علاوہ انکے ٹوٹنے کے امکانات بھی بڑھ جا تے ہیں۔گہائی کیلئے نا منا سب جگہ کے انتخا ب کی وجہ سے انا ج کی کوالٹی، بھو سے اور پیداوار میں کمی واقع ہو تی ہے۔ گہا ئی کیلئے کھیت کے درمیان ایسی پکی جگہ کا انتخا ب کرنا چاہئے جو ہموار ہو نے کے ساتھ ساتھ دراڑوں سے پاک ہو۔ ہمارے ملک میں تقریبا60سے 80فیصد گہا ئی تھریشر یا کمبا ئین ہارویسٹر سے کی جا تی ہے۔ گہا ئی کے دوران فصل میں نمی کا تنا سب صحیح نہ ہو نا ،ہوا کا رخ اور تھریشرکی سمت میں مطابقت نہ ہو نا،تھر یشر کا صحیح کام نہ کرنا،تھر یشر چلانے والے کا ماہر نہ ہونااور موسمی پیشین گو ئی کے مطابق عمل نہ کرناگندم کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔گہا ئی کے بعد انا ج کو کھیت سے گھر، گودام یا منڈی منتقل کرنا ایک اہم مرحلہ ہے، چھو ٹے کاشتکار جن کے پاس وسا ئل کی کمی ہے وہ اناج کو بو ریوں میں بھر کر بیل گا ڑیو ں اور اونٹ کی پیٹھ پر لاد کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا تے ہیں۔ لیکن بڑے کاشتکار اس مقصد کیلئے ٹرا لیاں اور ٹرک استعمال کر تے ہیں۔ کاشتکار گندم کی بھرائی /.سنبھال کیلئے پھٹی ہو ئی پرانی بو ریاں استعمال کرتے ہیں جن میں سوراخ ہو نے کی وجہ سے دانے گرتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر اڑھا ئی من والی پٹ سن کی بو ریا ں استعمال کی جا تی ہیں جو وزنی ہونے کی وجہ سے اٹھا نے میں دقت ہو تی ہے۔بوریوں کے پھٹنے کی ایک وجہ ریڑھی کے فرش میں لگے کیل یا ٹرالی کی نو کدار سا ئیڈیں گندم کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔ اچھی پیداوار حا صل کرنے کے بعد اس پیداوار کو منڈی تک پہچانایا گودام میں محفوظ کرنا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے دیہا توں میں کسان کھانے اور بیج کیلئے اناج تقریباََایک ہی جگہ ذخیرہ کرتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے وہ پٹ سن کی بو ریو ں میں انا ج بھر کر گھر کے کمروں یا برآمدوں میں اینٹوں کے اوپر یا لکڑی کے تختوں پر رکھ لیتے ہیں۔اسکے علا وہ کچھ زمیندار صحن میں رکھے گارے یا لو ہے کے بھڑولوں میں بھی انا ج ذخیرہ کرتے ہیں۔

جب اناج کو گوداموں میں محفوظ کر لیا جائے تو مختلف نوعیت کے نقصانات اناج کے معیار اور وزن پر اثر انداز ہو تے ہیں۔ پرندے حشرا ت اور دیگر کترنے والے جانداروں کے علاوہ درجہ حرارت میں زیادتی ، کمی اور آ ب و ہوا بھی اناج کے معیار کو متا ثر کر تے ہیں۔ گودام کا درجہ حرارت زیادہ ہو جا ئے تو اناج میں عمل تنفس تیز ہو جا تا ہے جس سے انا ج کے گلنے کے امکا نات بڑھ جا تے ہیں۔ اسی طرح گودام میں نمی کا تنا سب متوازن نہ رہے تو بھی اناج کے ضا ئع ہو نے کا خدشہ بڑھ جا تا ہے۔ گودام میں ہوا کی آ مدورفت منا سب نہ ہو تو مختلف عوامل کی وجہ سے کیڑے مکوڑو ں اور خوردبینی جا نداروں کا حملہ بڑھ جا تا ہے جو اناج میں بد بو پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ انا ج ذخیرہ کرنے سے پہلے گودام کی اچھی طرح صفا ئی کرکے زہر کے محلول کا سپرے کریں تا کہ گودام کیڑے مکو ڑوں اور دیگر بیماریو ں سے پاک ہو جائے۔سپرے کرنے کے بعد گودام کو دو دن کیلئے ہوا بند رکھیں اور کھولنے کے 4تا 6گھنٹے تک گودام میں داخل نہ ہو ں۔گودام میں کیڑے مکو ڑوں کے حملہ سے بچا ؤ کیلئے مختلف کیمیا ئی مرکبا ت مثلاً ایلو مینیم فاسفائیڈ، میتھا ئل بروما ئیڈاور سوڈیم سا یا نا ئیڈ وغیرہ استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ہر پندرہ دن بعد سٹور کا معا ئنہ کریں۔اس کے علاوہ بھڑولوں اور بو ریو ں میں دانے ڈالنے سے پہلے نیچے اور اوپر نیم کے پتے رکھے جا سکتے ہیں جو بیماریو ں اور حشرات کے نقصانات کو کم کرنے میں معا ون ثا بت ہو تے ہیں۔ کاشتکار ان عوامل پر اچھی طرح سے عمل کریں تو کٹا ئی، گہا ئی اور ذخیرگی کے دوران ہونیوالے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ اور ملک و قوم کی ترقی اور خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب****

Wheat harvesting in Pakistan
Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More