گاجر بوٹی :پارتھینیم

گاجر بوٹی(پارتھینیم)
گاجر بوٹی(پارتھینیم)

زرعی میڈیا ڈاٹ کام : پارتھینیم (گاجر بوٹی) تیزی سے بڑھنے والی دنیا کی دس بدترین جڑی بوٹیوں میں سے ایک ہے ۔یہ پنجاب میں سب سے بڑی جڑی بوٹی کے طور پر سامنے آرہی ہے۔یہ انسانوں، جانوروں اور فصلوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور ماحول کے لیے ایک لعنت ہے۔ اس جڑی بوٹی کا سائنسی نام Parthenium hysterphorus L. ہے۔ پاکستان میں یہ بوٹی گذشتہ صدی کی آخری دہائی میں یہاں وارد ہوئی ہے۔ دراصل اس کا اصلی وطن وسطی امریکا( میکسکو) کا علاقہ ہے۔ جہاں سے یہ بڑی تیزی سے دنیا کے مختلف علاقوں مثلاً آسٹریلیا، مشرقی افریقہ ،ایشاء میں پھیل گئی۔

1956ء میں یہ جڑی بوٹی حادثاتی طور پر انڈیا میں پائی گئی اور پھر برصغیر کے دیگر علاقوں میں پھیلی۔اب یہ جنوبی چین ، تائیوان، ویت نام اور کئی دیگر افریقی ممالک(ایتھوپیا، کینیا اورجنوبی افریقہ) میں قدم جماچکی ہے۔پاکستان میں یہ جڑی بوٹی امکان ہے کہ پانی کے ذریعے ہندوستان سے وارد ہوئی اور اب اس کا پھیلاؤ بڑ ی تیز ی سے جاری ہے۔

کچھ عرصہ قبل تک یہ جڑی بوٹی صرف ناکارہ جگہوں پر ہی دیکھنے میں آتی تھی۔محکمہ زراعت کے حالیہ سروے کے مطابق یہ جڑی بوٹی پانی کے کھالوں، راستوں اور ناکارہ زمینوں سے کھیتوں کی طرف تیزی سے پھیل رہی ہے اور خاص طور پر وسطی پنجاب کے کھیت اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔دھان کے کھیتوں مکئی، کماد، کھالہ جات، سڑکوں اور نہروں کے اطراف خالی جگہوں پر گرمیوں میں اسے بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوااور آزاد کشمیر کے اکثر علاقوں میں بھی یہ کثرت سے پائی جارہی ہے۔

پودے کی ساخت:

یہ یک سالہ شاخ دار جڑی بوٹی ہے ۔اس کے پتے ہلکے سبز ہوتے ہیں اور نرم چھوٹے بالوں (روئیں) سے ڈھکے ہوتے ہیں۔ چھوٹے پودے کے پتوں پر بال نماساختیں زیادہ ہوتی ہیں اور بڑے پودے کے پتوں پر یہ ساختیں کم ہو جاتی ہیں۔اس کے پتوں کے کناروں پر گہرے کٹاؤ (Lobes)ہوتے ہیں۔

پودے کی جڑیں گہریں ، تنا سخت اور سیدھا ہوتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ تنے کی سختی مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر زمین اچھی ہو اور ماحول سازگار ہوتو یہ 4ہفتے میں اپنا دور حیات مکمل کر کے بیج پیدا کرلیتا ہے اور اس کاقد 2میٹر تک ہو جاتاہے۔

اس کے پھول چھوٹے اور سفید رنگ کے ہوتے ہیں اور اُن کی شکل ستارے جیسی ہوتی ہے۔ پودے پر پھول شاخ کے اوپر آخری کنارے پر لگتے ہیں۔ بیج کے پک جانے پر اِ ن پھولوں کا رنگ بھورا ہو جاتاہے۔

ہر پھول سے 4سے5بیج پیدا ہوتے ہے جن کی لمبائی 2ملی میٹرہوتی ہے۔اس کے بیج گہرے بھورے او رسیاہ رنگ کے ہوتے ہیں۔ پارتھینیم میں بہت زیادہ بیج پیدا کرنے کیصلاحیت ہے جو لمبے عرصے تک زندہ رہتے ہیں
اور ہوا کے ذریعے تیزی سے پھیلتے ہیں۔پارتھینیم کا ایک پودا اندازاً25000بیج پیدا کرتا ہے جو 7سال تک اُگنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ خشک گرم موسم میں اس کی بڑھوتری کم ہوتی ہے مگر برسات کے موسم میں اس کی بڑھوتری زیادہ ہوتی ہے اوراس میں سارا سال پھو ل آتے ہیں۔موسم اور آب ہوا:

یہ بوٹی کم وبیش تمام قسم کی زمینوں میں اُگ سکتی ہے لیکن چکنی میرا زمین میں یہ کامیابی سے نشوونما پاتی ہے۔اس کے بیج موسم بہار اور موسم گرما کے آغاز(مارچ اپریل) میں اُگتے ہیں۔ اس جڑی بوٹی کے اُگاؤ کے لیے قدرے زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کم بارش والے علاقوں میں اس کا اُگاؤ اور بڑھوتری کم ہوتی ہے۔ پاکستان میں اوسط بارش والے علاقے اس کی تیز نشوونما کے لیے سازگار ہیں۔ وسطی پنجاب اور شمالی پنجاب میں اس کا حملہ زیادہ ہے جبکہ جنوبی پنجاب میں اس کا حملہ کم ہے۔اس کے بیج 2سال اور بعض اوقات 2سال سے زائد عرصے تک زیر زمین پڑے رہتے ہیں او رجب بھی ماحول اور آب وہوا ساز گار ہوتاہے تو یہ بڑی تیز ی سے اُگ آتے ہیں۔ اس سے زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں جو دوسرے پودوں اور چارے کے بیجوں کی نشوونما کو روکتے ہیں۔ تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ سردیوں کے مہینوں میں بننے والے بیج کااُگاؤ (Germination)گرمیوں کے مہینوں میں بننے والے بیج سے بہتر ہوتا ہے۔12سے 27سینٹی گریڈ درجہ حرارت اس کے اُگاؤکے لیے بہترین ہے۔پانی ملنے پر یہ بیج سے 4سے7دن میں اُگ آتا ہے۔ بیج کا بہتر اُگاؤ اور زیادہ تعداد میں بیج کا پید ا ہونا ہی اصل خطرہ ہے جو دیگر گھاس ، چارہ جات اور فصلات کی جگہ پانی ، ہوا اور خوراک حاصل کر کے اُن کی پیداوار کو متاثر کرتاہے۔

اس موذی جڑی بوٹی کی بہتات کوپنجاب میں زراعت پر ایک خطرہ تصورکیا جارہا ہے۔ ہمارے ہمسائے ملک بھارت میں بھی یہ جڑی بوٹی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ جس کے لیے زرعی کارکنوں کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی اورکاشتکاروں کی تنظیمیں مل کر جدوجہد کر رہی ہیں کیونکہ اس کے مندرجہ ذیل نقصانات شدومد سے ظاہر ہورہے ہیں۔

انسانی صحت کے لیے خطرہ:

سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ جڑی بوٹی انسانی صحت کے لیے بڑ اخطرہ ہے۔ اس جڑی بوٹی کے ایک پودے لاکھوں کی تعداد میں بیج لگتے ہیں۔ان کے پھولوں کے ذر دانوں سے پولن الرجی اور دیگر سانس کے امراض کا بھی خطرہ ہوتاہے۔ اس بوٹی کی سطح پر موجود باریک بال نما ساختیں جب انسانی جلد سے چھوتی ہیں تو اس سے جلدکو الرجی،آنکھوں میں چبھن اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔پودے کا ہر حصہ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔

زراعت اور حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ:

اس بوٹی کی جڑیں بے شمار زہریلے مرکبات خارج کرتی ہیں ۔جو اس کے قریب اُگے والے دیگر نباتات کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔ ان مرکبات کی وجہ سے ہمارے نہایت اہم نباتات تیزی سے ناپیدہورہے ہیں اور اس جڑی بوٹی کو مزید پھیلنے کا موقعہ مل رہا ہے۔اس کے علاوہ جانوروں کے چارہ جات اور دیگر اجناس کی پیداوار میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

یہ جڑی بوٹی نہ صرف خوراک، پانی اور روشنی کے لیے فصل کا مقابلہ کرتی ہے بلکہ کئی خطرناک کیڑوں اور بیماریوں مثلاً ملی بگ اور وائرس کو بھی پناہ فراہم کرتی ہے جونہ صرف فصلات کے لیے ایک خطرہ ہے ۔ تیزی سے پھیلاؤ کے باعث اس پودے نے زرخیز زمینوں اورجنگلات میں کارآمد پودوں کی جگہ لے لی ہے۔یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتی ہے اور(Nitrogen Fexation)کے عمل میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔

مویشیوں کی صحت کے لیے خطرہ:

روزانہ ہزاروں کسانوں اور ان کے مویشیوں کو اس بوٹی کاسامنا ہے اور ہمارے جنگلات کو بھی اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ابھی اس بوٹی کے پھیلاؤ کے نتیجے میں پید اہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانا تو مشکل ہے۔ مگر یقیناًاس کا اندازہ کروڑوں روپے کی مَد میں جا پہنچے گا۔جانور اس بوٹی کو کھانا عموماً پسند نہیں کرتے۔ مگر اگر کوئی چارہ دستیاب نہ ہو یا پھر یہ ان کے چارہ میں ملی ہوتی ہو تو وہ بادل ناخواستہ اسے کھا جاتے ہیں۔ اس کے اثرات ان کے دودھ اور گوشت میں بھی پائے جاتے ہیں۔مویشیوں کے گوشت اور دودھ میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔یہ بوٹی مویشیوں میں الرجی کا باعث بن سکتی ہے۔

پھیلاؤ:

پارتھنیم کثیر تعداد میں بیج پیدا کرنے والا پودا ہوتا ہے۔جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ہے کہ اس کے ایک پودے سے تقریباً 25ہزار تک بیج ہوسکتے ہیں۔ جو کے ہوا ، بہتے ہوئے پانی، جانوروں ، زرعی آلات اور دیگر مشینری سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھیل جاتے ہیں۔ آج کل اس کو مختلف پھولوں کے (Bouquet)میں سجاوٹ کے لیے بھی استعمال کیاجا رہا ہے اور (Bouquet)کے خشک ہونے پر اُس کوپھینک دیا جاتا ہے جو غیر آباد زمینوں میں اُگ کر اس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

روک تھام اور تدارک:

اس موذی جڑ ی بوٹی کی تلفی کے لیے دنیا میں مختلف طریقے اپنائے جارہے ہیں۔ اسٹریلیا میں جہاں اس کا نقصان سب سے زیادہ جانوروں پر ریکارڈ ہواہے۔ اس کے کنٹرول کے لیے گیارہ مختلف اجزا کو استعمال کررہا ہے۔ ہندوستان میں ایک کیڑے جس کا نام (Zygogramma bicolorata)ہے کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک پھپھوندی کا بھی استعمال کیا جارہاہے۔ اس کے تدارک کے لیے بین الاقوامی ادارے کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

محکمہ زراعت ،توسیع پنجاب میں پارتھینیم (گاجر بوٹی) کے تدارک کے لیے آگاہی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے چونکہ پاکستان میں اس جڑی بوٹی کے قدرتی دشمن موجود نہیں لہٰذا یہ خوب پنپ رہی ہے تاہم کچھ زرعی زہریں اس کے تدارک کے لیے سفارش کی جارہی ہیں مگر ان زہروں کا وسیع پیمانے پر استعمال ماحول اور انسانی صحت کے لیے پیچیدہ مسائل پید اکر سکتا ہے۔

* اس لیے سفارش کی جاتی ہے کہ اس جڑی بوٹی کو اُگتے ہی دستانے پہنے ہاتھ سے تلف کریں۔وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی جڑی بوٹی کی ہاتھ سے تلفی بہت مشکل اورمہنگا عمل ہے تاہم چھوٹے رقبے پر جیسا کہ پھولوں کیاری، لان، سبزیات کی چھوٹی کیاریوں میں اُگی ہوئی بوٹی کو تلف کرنے کے لیے یہ طریقہ مؤثر ہے اور اسی طریقے کو اپنانا چاہیے۔ایک بات کا خیال رکھیں کہ پھول آنے سے پہلے پودوں کی تلفی کو یقینی بنائیں اور پودے جڑ سے اکھاڑیں اگر ان کو جڑسے نہ اکھاڑا جائے تو یہ دوبارہ اُگ سکتے ہیں۔

* زرعی کارکنان ہر سطح پراس جڑی بوٹی کو نکلتے ہی تلف کرنے کے لیے آگاہی مہم شروع کریں۔ ضلعی حکومتوں میں دوسرے ادارے کے ملازمین کو بھی اس جڑی بوٹی کے بارے میں آگاہی دیں تاکہ اجتماعی قوت سے اس کو تلف کیا جائے۔کاشتکار تنظیمیں اپنے کارکنوں کے ذریعے اس جڑی بوٹی کے بارے میں آگاہی دیں۔

* دیہی علاقہ جات میں کاشتکاروں کے اجتماعات میں ہرسطح پر اس جڑی بوٹی کے بارے میں آگاہی دی جائے اور گاؤں کی سطح پر تنظیمیں اس اجتماعی کام کے لیے اس جڑی بوٹی کو پھول بنانے سے پہلے تلف کرنے کے لیے آگے آئیں۔

* تلفی کے بعد اس کو ایک جگہ پر اکٹھا کر کے خشک ہونے پر جلا دیں۔

* اس کے علاوہ فصلوں کے ہیر پھیر سے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کی باقیات کو بطور نامیاتی کھاد استعمال کیا جا سکتا ہے۔

* کیمیائی طریقہ انسداد میں (Glyphosate)ایک لیٹر فی ایکڑ کے حساب سے 200لیٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔

* گاجر بوٹی پر مشتمل پھولوں کے گلدستوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

* یہ جڑی بوٹی سرعت کے ساتھ بڑھتی اور پھیلتی ہے۔ اس کا دوران زندگی مختصر اور بیج پیدا کرنے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔ سازگارماحول ملنے پر اس کااُگاؤ دوسری نباتات کے مقابلے میں زیادہ ہوتاہے اور اس کا یہی رویہ اور طرز زندگی ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس خطرے کے گھنٹی کی آواز پر دھیان دیں اور اس بڑھتے ہوئے طوفان کو روکنے کی کوشش کریں۔ اس کا مقابلہ انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور سماجی طور پر کرنا ہو گا۔ تمام طریقے بروئے کا رلاتے ہوئے کاشتکاروں میں اور معاشرے کے تمام طبقوں میں اس موذی مسئلہ کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے اور دوسرے اداروں جیسے محکمہ ریونیو، آبپاشی، جنگلات اور مواصلات کوبھی اس جڑی بوٹی کے نقصان کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

Agriculture in Pakistan,
Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More