مرغیوں میں گیلی بچھالی (Wet Litter)سے ہونے ہوالے نقصانات اور ان سے بچاؤ کے طریقے!!

*ڈاکٹر محمد عرفان انور(ڈی ڈی ایل او، پولٹری)،ڈاکٹر عاصم رفیق(وی او، پولٹری )،ڈاکٹر احمدرضا، ڈاکٹر عثمان نصیر *ڈپٹی ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک آفس ( پولٹری پروڈکش) فیصل آبا د۔

تعارف:

Wet Litter
Wet Litter

(زرعی میڈیا ڈاٹ کام ) دنیا میں بڑھتی ہوئی گوشت اور انڈوں کی ضرورت نے پولٹری انڈسٹری کو دنیا کی سب سے بڑی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت بنا دیا ہے۔ تاہم پولٹری کی صنعت میں بڑا مسلۂ اس کے فاضل مادوں مثلاََ بیٹ اور بچھالی کا ضائع کرنا ہے۔ پولٹری صنعت سے جتنی بھی بچھالی نکلتی ہے اسے میں سے زیادہ تر زرعی زمیں کو ذرخیز کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہے جو کہ فصلوں کو نائٹر وجن ، فاسفورس اور دوسرے اجزاء مہیا کرتی ہے۔صحت مند پولٹری انڈسٹری کے لئے ضروری ہے کہ بچھالی اچھی اور آرام دا ہوجو مرغیوں کو سکون مہیا کرے اس سے مرغیوں کی پیداوار میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے۔بچھالی کا خشک ہونامرغیوں کی صحت کے لئے بہت ضروری ہے۔خشک بچھالی شیڈ میں امونیا کی مقدار کو کم کرتی ہے اور شیڈ کے ماحول کو بہتر بناتی ہے۔بچھالی میں مناسب نمی اور درجہ حرارت مرغیوں کو اکثر بیماریوں سے بچاتا ہے۔ پاکستان میں چا ولوں کا چھلکا(پھک/تو) ، لکڑی کا برا دہ یا چورہ اور ریت وغیرہ کو بچھا لی کے طور پر استعمال کیا جا تا ہے۔ نرم لکڑی کا برادہ سب سے اچھی بچھالی ہے۔ اس میں نمی کو جذب کر نے کی زیا دہ صلا حیت ہو تی ہے جبکہ سخت لکڑی کا برادہ کم نمی کو جذب کر تا ہے اور گیلا ہو کر بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ شیڈ میں 2سے 4 انچ مو ٹی بچھا لی کی تہہ ڈالیں اور ا س کو وقتاََ فوقتاََ ہلا تے رہیں۔

بروڈنگ کے دوران بچھالی کی قسم اور اس کی حالت بہت اہم ہے ، بروڈنگ کے لئے بہت سی اقسام کی بچھالی استعما ل کی جاتی ہے مگر سب سے اچھی اور زیادہ استعما ل ہونے والی بچھالی نرم لکڑی کا برادہ ہے یہ نمی کی کافی مقدار جذب کر سکتا ہے۔بروڈنگ کے دوران شیڈ میں بچھالی بچا کر اس پر اخبار بچھا دیں تاکہ چوزے بچھالی نہ کھائیں۔

اچھی بچھالی کی خصوصیات:

بچھالی میں مندرجہ ذیل خصوصیات ہونی چاہئیں۔

۱۔اس میں زیادہ نمی جذب کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

۲۔وزن میں ہلکی ہونی چاہیے۔

۳۔اس کے ذرات کا سائز درمیانہ ہونا چاہیے۔

۴۔سستی اور آسانی سے دستیاب ہو۔

بچھالی کے فائدے:

اچھی بچھالی کے بہت سے فوائدہیں۔

۱۔ یہ انسولیٹرکا کام کرتی ہے جس سے چوزوں کے جسم کا درجہ حرارت برقرار رہتاہے۔

۲۔چوزوں کو نرم اور پُر سکون جگہ مہیا کرتی ہے۔

۳۔یہ بیٹ میں موجود نمی کی مقدار کو جذب کر کے شیڈ میں نمی کی مقدار کو برقرار رکھتی ہے۔

۴۔ ٹرکی پرندوں کوبیٹھے رہنے کے د وران ان کی چھاتی کو زخمی ہونے سے بچاتی ہے۔

گیلی بچھالی کے نقصانات:

بچھالی میں 35 فیصد سے زیادہ نمی کی مقدار چوزوں کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے۔ بہت زیادہ نمی کی مقدار مرغیوں میں پنجوں کی سوزش کا باعث بنتی ہے جس کی وجہ سے بریڈرز میں بڑھوتری اور انڈوں سے چوزے نکلوانے کی شرح میں کمی آجاتی ہے۔زیادہ نمی والا ماحول جراثیموں کی پرورش کے لئے بھی موزوں ہوتا ہے۔زیادہ نمی ہوکے باعث شیڈ میں امونیا جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے جس سے مرغیوں میں سانس کی بیماریاں ہونا شروع ہوجاتی ہیں ۔ اسی طرح زیادہ نمی والے ماحول میں پھپھوندی پیدا ہوناشروع ہو جاتی ہے اور مرغیوں میں اموات کا باعث بن سکتی ہے۔

عوامل جو گیلی بچھالی کا باعث بنتے ہیں:

بارش کی وجہ سے لٹر میں نمی کی مقدار زیادہ ہوسکتی ہے۔چھت یا پانی کے پائپ سے پانی لیک ہو نے سے بچھالی میں نمی کی مقدار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ گول پانی والے برتن بھی بچھالی میں نمی کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں۔مرغیوں میں پتلی بیٹوں کی وجہ سے بھی بچھالی میں نمی بڑھ جاتی ہے۔ کم جگہ پر زیادہ مرغیاں پالنا، زیادہ نمکیات اور پروٹین والی خوراک، غیر مناسب ہو ا کا بندوبست،پانی کے نظام کا درست نہ ہونا شیڈ میں بچھالی میں نمی کی مقدار میں اضافہ کرنے والے اہم عوامل ہیں۔

گیلی بچالی سے بچاؤ طریقے:

بچھالی کوگیلی ہونے سے بچانے کے لئے نِپل ڈرنکر کا استعمال کریں، اگر کہیں سے پانی کی پائپ لائن میں یا چھت میں سوراخوں کی وجہ سے بچھالی گیلی ہو رہی ہو تو اسے مرمت کروائیں۔

مرغیوں کو کم نمکیات اور پرٹین والی خوراک دیں تاکہ وہ کم پانی پیئیں اور بیٹیوں میں کم پانی سے بچھالی کم گیلی ہو۔

اسی طرح مرغیوں کو کم چربی والی خوراک دیں ، زیادہ چربی (فیٹ) بیٹوں سے بچھالی میں جا کرنمی کو جذب نہیں ہونے دیتی اور شیڈ میں نمی کی مقدار زیادہ ہو جاتی ہے۔

شیڈ میں مناسب ہو کا بندوبست کریں تاکہ شیڈ میں امونیاگیس جمع یہ ہواور مرغیاں سانس کی بیماریوں سے محفوظ رہیں۔

بچھالی کو نمی کی وجہ سے پھپھوندی سے بچانے کے لئے اس میں کاپر سلفیٹ ملائیں۔

کم جگہ پر زیادہ مرغیوں کو نہ رکھیں۔

نمی کی مقدار کو قابو کرنے کے لئے خشک بچھالی ، گیلی بچھالی میں ڈالیں اور دن میں اسے دو بار ہلائیں۔

بیمار پرغیوں کو (جنہیں پیچش لگے ہوں) شیڈ سے علیحدہ کرلیں اور ان کا علاج کروائیں۔

Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More