ملک میں 20فیصد لوگ غزائی قلت کا شکار پیں: سربراہ پابک

Thursday, 04 April 2013
Food crisis in Pakistan
Food crisis in Pakistan

دس سال قبل ملک میں ایسے افراد کی تعداد 10 فیصد تھی،سیاسی جماعتیں غذائی قلت کے مسئلے کواپنے منشور میں شامل کریں:ڈاکٹر اقبال چودھری

کراچی(ثناء نیوز)پاکستان بائیو ٹیکنالوجی انفارمیشن سنٹر (پابک)کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوھدری نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ملک سے غذائی قلت کے خاتمے جیسے اہم مسئلے کو اپنے انتخابی وسیاسی منشور میں داخل کریں، ملک میں خوراک کی کمی کا مسئلہ شدت اختیار کرسکتا ہے جس کی اہم وجہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے ، ملک میں 20 فیصد لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ دس سال پہلے ایسے افراد کی تعداد 10 فیصد تھی، بائیوٹیکنالوجی میں قابل قدر ترقی سے ملک میں موجود غذائی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔

بدھ کو آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی میں بائیوٹیکنالوجی کے ماہرین سے گفتگو کے دوران انہوں نے ماہرین کو بتایا کہ دنیا کے بیشتر مسلم ممالک غذائی اجناس درآمد کرتے ہیں ، پاکستان سمیت تین مسلم ممالک ایسے ہیں جنھوں نے بائیوٹیکنالوجی کی مدد سے غذائی اجناس میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں اجناس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ، انہوں نے کہا مسلم ممالک میں ایران اور ترکی نے سب سے زیادہ ترقی کی ہے ، پاکستان کی موجودہ آبادی ساڑھے 18 کروڑ ہے جبکہ ماہرین کے مطابق 2030 ء میں یہ آبادی 30کروڑ ہونے کا اندیشہ ہے ، فوری مناسب اقدامات نہ ہوئے توملک میں شدید غذائی قلت کا بحران پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ پانی کی کمی سے قابل کاشت زمین بنجر ہورہی ہے ان حالات میں درست منصوبہ بندی اور غذائی اجناس میں گراں قدر اضافہ ناگزیر ہے ، انہوں نے کہا کہ زرعی بائیوٹیکنالوجی اک ایساسائنسی وسیلہ ہے جس کے ذریعے ملک میں بنجر زمینوں کے باوجود کم ہوتی ہوئی غذائی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ ذرائع, دنیا نیوز
Food crisis in Pakistan
Published: Zarai Media Team

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More