جشن بہاراں کی تقریبات کا اہم پروگرام کسان میلہ

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ہینڈ آؤٹ

uaf-festival-pic2013

فیصل آباد 31مارچ 2013ء ( )زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں جشن بہاراں کی تقریبات کا اہم پروگرام کسان میلہ یونیورسٹی کے اقبال آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ وائس چانسلرڈاکٹر اقرار احمد خاں کی صدارت میں منعقدہ پروگرام کے مہمان خصوصی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلرڈاکٹر نذیر احمد سانگھی تھے جبکہ حکومت پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ریسرچ ڈاکٹر نور الاسلام خان اور ڈائریکٹر جنرل توسیع ڈاکٹر انجم علی بٹر نے مہمانان اعزاز کے طو رپر شرکت کی۔استقبالیہ خطاب میں وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ انکا ادارہ گزشتہ پانچ برسوں سے سال میں دو مرتبہ ربیع و خریف فیسٹیول منعقد کروا رہا ہے جس میں صوبے کے مختلف اضلاع کے ہزاروں کسان‘ مویشی پال حضرات ‘ زرعی انڈسٹری سے وابستہ ادارے و شخصیات اور حکومتی ذمہ داران شرکت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کسانوں کی وکالت بڑے موثر انداز میں کر رہی ہے تاکہ کسان کی پیداوار میں اضافہ ہوسکے اور اسے بہترو مسابقتی مارکیٹنگ کی سہولیات مہیا ہوسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی سائبرایکسٹینشن اور فرٹیلائزرکال سنٹرز کے ذریعے کسانوں کی رہنمائی کر رہی ہے تاکہ فصلوں کو اتنی ہی کھاد فراہم کی جائے جتنی اسے حقیقتاً ضرورت ہے۔ڈاکٹر اقرار نے بتایا کہ وہ لاہور اور گوجرانوالہ ڈویژن میں اپنے سب کیمپس قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہاں کی زراعت کو نئی جدتوں سے ہمکنار کیا جا سکے۔
ان کاکہنا تھا کہ پاکستان میں گیس اور بجلی کا بحران خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے لہٰذا کسانوں کو بائیوگیس کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد محمود نے بتایا کہ گزشتہ سال ملکی تاریخ میں کپاس کی 14.7ملین گھانٹوں کے ساتھ ریکارڈ پیداوار ہوئی جس کی وجہ ملکی زراعت کو خاطرخواہ سہارا ملا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار امریکہ اور بھارتی پنجاب سے بھی زیادہ ہے جسے دیکھ کر یہاں کا دورہ کرنے والے امریکی سائنس دان بھی حیران و شسدر رہ گئے تھے۔
انہوں نے بہترین کوالٹی کے زرعی مداخل کی ارزاں خرید اور بعد از برداشت مارکیٹنگ میں آڑھتی مافیا کے کردار کو محدود کرنے کیلئے کسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کی راہ دکھاتے ہوئے آمدہ انتخابات میں بہترزرعی پالیسی کی حامل سیاسی قیادت کو سامنے لانے پر بھی زور دیا۔مہمان خصوصی ڈاکٹر نذیر ا حمد سانگھی نے کسانوں کو ملک سے افلاس اور بھوک ختم کرنے جیسا عظیم کام سرانجام دینے والا طبقہ قرار دیا۔ انہوں نے کسان میلہ منعقد کرنے پر یونیورسٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نہ صرف اپنی سپورٹ کا وعدہ کیا بلکہ یونیورسٹی کے ساتھ ملکر کام کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ڈائریکٹر جنرل توسیع ڈاکٹر انجم علی بٹر نے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال دالوں کی 15لاکھ ٹن ضرورت کے مقابلہ میں 10لاکھ ٹن پیداوار حاصل ہورہی ہے لہٰذا پانچ لاکھ ٹن دالوں کی درآمد پر کثیرزرمبادلہ خرچ ہورہا ہے جسے زیادہ رقبہ دالوں کے زیرکاشت لاکربچایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان پانچ برس پہلے تک مونگ برآمد کر رہا تھا جبکہ آج اس کی درآمدکی جا رہی ہے۔دوآبہ فاؤنڈیشن لیہ کی نمائندہ فرحت پروین نے بتایا کہ آج کھادیں اور سپرے کسان کی قوت خرید سے باہر ہوچکے ہیں لہٰذا ان کی فاؤنڈیشن آرگینک فارمنگ پر توجہ دے رہی ہے جس کیلئے انہیں یونیورسٹی سے بھرپور معاونت حاصل ہورہی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے انہیں گزشتہ چند سالوں سے کسان میلوں میں باقاعدہ مدعو کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی پیداواریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انگریزی روزنامہ کے نامور صحافی احمد فراز خان نے کہا کہ انہیں کسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو ایک چھت تلے جمع دیکھ کر انتہائی مسرت ہوئی ہے ۔
انہوں نے کسانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوکر مسائل کا حل نکالنے اور اپنے حقوق کیلئے حکومتی اداروں پر مربوط پریشرڈالنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہرچند پاکستان کی 70فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے تاہم 65برسوں کے دوران کسی زرعی پالیسی کا سامنے نہ آنا انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تقریب سے نجی نیوزچینل کی صحافی زبیدہ انور خان نے بھی خطاب کیا۔

University of Agriculture Faisalabad (UAF),

Copyright: Zaraimedia.com

 

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More