انٹرویوایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی

Dr. Aneela Durrani Inteview
Dr. Aneela Durrani Inteview

انٹرویوایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی، چیئر پرسن ڈیپارٹمنٹ آف کلینیکل میڈیسن اینڈ سرجری، ڈائریکٹریونیورسٹی ایڈوانس منٹ اینڈ فنانشل ایڈ، انچارج یو وی اے ایس 24/7ایکسٹینشن سروس

انٹرویو پینل: ڈاکٹر محمدمبین(ڈپٹی ایڈیٹر ویٹرنری نیوز اینڈ ویوز) ، جنید نواز رندھاوا

خواتین کو اپنے آپ منوانے کیلیے مردوں سے زیادہ کام کرنا ہوگا

خواتین ویسے تو اپنے حقوق کی بات کرتی ہیں لیکن جب کام کی باری آتی ہے تو صنفِ نازک بن جاتی ہیں

اور 12بجے چھٹی لینا چاہتی ہیں ۔

میں بطور خاتون اپنے کسی افسر سے soft corner نہیں چاہتی۔

انسان کا چہرہ، شکل،زبان کچھ نہیں بولتا صرف اور صرف اُس کا کام بولتا ہے۔

مونگ مصر کی دال،سادہ چاول اور اچار پسندیدہ غذا ہے۔

اپنی پریشانی کسی سے شیئر نہیں کرتی صبر شُکر سے کام لیتی ہوں۔

بچپن میں بہت اچھا گاتی تھی۔

اقبال کی یہ غز ل بہت پسندہے

؂ یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِیک دانہ

یک رنگی و آزادی ہے ہمتِ مردانہ

نیوزویوز: سب سے پہلے آپ کو24/7ایکسٹینشن سروس کے اجراء پر بحیثیت انچارج مبارکباد دیتے ہیں۔بتائیے اس کا آئیڈیا کیسے آیااور اس کی ورکنگ کے بارے میں بھی بتائیے۔

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: اس سروس کا باقاعدہ آغاز جولائی ۲۰۱۲ میں کیا گیا۔اس کا بنیادی مقصد فارمرز کو ان کے دروازے پر یونیورسٹی کی جانب سے سروسز کی فراہمی ہے۔تاکہ ادارے کے کمیونٹی کے ساتھ روابط مضبوط ہوسکیں۔ پہلے ہم For the communityیا To the communityکام کرتے تھے۔ اب ہم with the community کام کریں گے۔ اس سروس میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ طلباء بھی جاتے ہیں جس سے اُن کا نہ صرف فیلڈ کا تجربہ بڑھتا ہے بلکہ فارمرز سے روابط بھی استوار ہوتے ہیں جو آگے ان کی انٹرن شپ اور جاب کیلیے مدد گارثابت ہوتے ہیں۔

نیوزویوز: اس سروس سے عام فارمر کو کیسے فائدہ ہوگا؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: چھوٹے فارمرز کیلیے ایڈوائزری سیل بنایا گیا ہے۔وہ ہم سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے اپنے مسائل کا حل پوچھتے ہیں اور یہ سروس بالکل مفت ہے۔

نیوزویوز: اس سروس سے ادارے کو کیا فائدہ ہوگا؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: اس سروس سے ادارے کے کمیونٹی کے ساتھ روابط بڑھیں گے۔ یہ سروس No profit No loss کے تحت چل رہی ہے جس سے یونیورسٹی کو کوئی مالی فائدہ تو نہیں ہورہا تاہم ہمارے ادارے کی ہیومن ریسورس کی capacity building ہورہی ہے جس سے ہمیں طویل المدت فائدہ ہوگا۔

نیوزویوز: آپکا دوسرا نیا قدم یونیورسٹی فنانشل ایڈ کا قیام ہے، جسکی آپ ڈائریکٹر بھی ہیں۔اس سیل کے قیام کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: یونیورسٹی ایڈوانس منٹ اینڈ فنانشل ایڈ کا آغاز ایچ۔ای۔سی کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔ کیونکہ ایچ۔ای۔سی چاہتاہے کہ یونیورسٹیز فنڈز کے سلسلے میں خودکفیل ہوں اور وہ زیادہ عرصے تک یونیورسٹی کو سپورٹ نہیں کرسکتا۔لہذا یونیورسٹی کو اپنے فنڈز خود generate کرنے ہوں گے۔ اسی سوچ کے پیشِ نظر یہ سیل بنایا گیا ہے۔ تاکہ ہم ڈونر سوسائیٹیز سے روابط بڑہائیں۔اسی سلسلے میں ہم نے ایک پورا ہفتہ فنڈ ریزنگ ویک کے طور پر منایا۔ ایڈوانس منٹ آفس کا دوسرا مقصد طلباء کی کیریئر کونسلنگ اور انہیں بروقت internship اور روزگار کی فراہمی ہے۔اس سلسے میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ساتھ ہماری Alumni ہمارے قابلِ بھروسہ سورسز ہیں۔کیونکہ ویٹرنری کے ہر شعبہ میں ماشاء اللہ ہمارے ادارے کے گریجویٹ موجود ہیں جو ہمیشہ اس سلسلے میں ہمارے معاون ثابت ہوئے ہیں۔

نیوزویوز: طلباء اس سے کس طرح مفید ہوسکتے ہیں؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: ان فنڈز کا بیشتر حصہ طلباء کی سکالرشپ کیلیے ہے۔اس سلسلے میں ہم نے SAFEکے نام سے ایک اکاؤنٹ بنایا ہے جس کی تمام تر رقم طلباء کی need based اور میرٹ کی بنیاد پرسکالر شپ کیلیے خرچ ہوگی۔ اس اکاؤنٹ میں ایک ملین رقم PEEF کی جانب سے فراہم کی جائے گی۔ ایچ ای سی اس سارے عمل کی نگرانی کر رہی ہے ۔اس سلسلے میں علیحدہ بورڈ آف ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔ ان فنڈز کی ٹرانسپیرنسی ہماری اولین ترجیح ہے۔

نیوزویوز: اس سیل کا انفراسٹرکچر کیا ہوگا کہ یہ long termچل سکے وگرنہ اسطرح کے پروگرامز آغاز میں تو خاصے ایکٹیو ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی دیکھ بھال نہیں ہو پاتی اور یہ ختم ہوجاتے ہیں؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: فی الحال تو یونیورسٹی نے اپنے سابقہ ریسورسز کو استعمال کرتے ہوئے اس کا آغاز کیا ہے ۔اس میں ایک ڈائریکٹر اور تین مینیجرشامل ہیں۱۔ مینیجریونیورسٹی ایڈوانس منٹ ۲۔ مینیجرکیرئیر سروسز ۳۔ مینیجرفنانشل ایڈ۔ تاہم مستقبل میں اس کے لیے علیحدہ آفس اور سٹاف رکھا جائے گا۔

نیوزویوز: بحیثیت چیئر پرسن میڈیسن ڈیپارٹمنٹ آپ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی درجہ بندی کیسے کریں گی؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: ہمارے ڈیپارٹمنٹ کے تمام اساتذہ پی ایچ ڈی ہیں ۔تقریباًسب کے ریسرچ آرٹیکلز چھپتے ہیں ۔ماشاء اللہ ہمارے اساتذہ compitent ہیں،تاہم اس سلسلے میںcurriculum میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ کورسز کو Review کیا جائے اور کچھ نئے کورسز شامل کیے جائیں بالخصوص Pet Center کیلیے نئے کورسز متعارف کرائے جائیں۔

نیوزویوز: کیا یہ انٹرنیشنل سٹینڈرڈز سے مماثلت رکھتا ہے؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: جہاں تک انٹرنیشنل سٹینڈرڈزکی بات ہے تو فیکلٹی کی حد تک تو ہم مماثلت رکھتے ہیں تاہم ریسورسز کے حوالے سے ابھی بہت بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں فنڈز کے حوالے سے کچھ مسائل کا سامنا ہے۔ ابھی ہماری کوشش ہے کہ انفرادی طور پر اس میں بہتری لائی جائے۔ پہلے ہماری کلینیکل لیب کمرشل لیول پر کام نہیں کر رہی تھی اب ہم اسے کمرشل بنا رہے ہیں جس سے نئے آلات وغیرہ آئیں گے اور طلباء کو سیکھنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔

نیوزویوز: ایک ویٹرنری ڈاکٹر سے معاشرے کے تمام افراد بہتر ڈائیگنوسس اور علاج کی توقع رکھتے ہیں ۔اس سلسلے میں آپکا ڈیپارٹمنٹ طلباء کو پریکٹیکل بنیادوں پر کیسے تیار کر رہا ہے تاکہ وہ فیلڈ میں سرخرو ہوسکیں؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: ڈائیگنوسس اور علاج سکھانے کیلیے ہمارے کورس میں تھیوریٹیکل، پریکٹیکل اور کلینیکل کورسز شامل ہیں اس کے علاوہ ہمارے پاس آؤٹ ڈور کلینک،انڈور کلینک، ستاروالا آؤٹ ریچ سٹیشن، پتوکی آؤٹ ڈور کلینک اور 24/7 سروس موجود ہے۔جہاں تک exposure کی بات ہے تو یونیورسٹی طلباء کو زیادہ سے زیادہ ایکسپوژر فراہم کر رہی ہے۔ اب یہ طلباء پر ہے کہ وہ اسے کیسے اپنی بہتری کیلیے استعمال کرتے ہیں۔

نیوزویوز: بطور خاتون ڈاکٹر آپ کو فیلڈ میں کن مسائل کا سامنا رہا اور آپ ان سے کیسے نبردآزما ہوئیں؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: میں نے اپنی جاب کا آغاز۱۹۹۱میں لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں بطورویٹرنری آفیسر کے طور پر کیا تھا ۔میری پہلی پوسٹنگ فیلڈ میں ہی ہوئی تھی یہ جیا بگا کا علاقہ تھا۔ میں وہاں ڈائیگناسٹک لیب میں تھی۔ خواتین کا فیلڈ میں کام کرنا قدرے مشکل ضرور ہوتا ہے تاہم یہ ناممکن کسی صورت نہیں ،لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کو اپنے کام پر مکمل عبور حاصل ہو۔جب میں نے کام کا آغاز کیا تو ابتدا میں گاؤں کے لوگ میرے پاس جانور لے کر نہیں آتے تھے۔صرف خواتین ہی مرغیاں وغیرہ لے کر آتی تھیں۔ پھر میں نے کیٹل کرشCattle crush پرکھڑا ہونا شروع کردیا ۔جب لوگوں نے دیکھا کہ ایک لیڈی کرش پر کھڑی ہے اور وہ ڈاکٹر بن کر آئی ہوئی ہے تو انہوں نے تجسس سے آنا شروع کردیا پھر جب ان کے جانور ٹھیک ہونا شروع ہوئے تو آہستہ آہستہ یہ بات پورے گاؤں میں پھیل گئی اور لوگوں نے مجھ سے علاج کرانا شروع کردیا۔پھر میں GTZ چلی گئی یہ ایک جرمن پروجیکٹ تھا۔ آفس میں مجھے جن مشکلات کا سامنا ہوا وہ فیلڈ سے مختلف ہیں ۔فیلڈ کی دشواریاں manageableتھیں کیونکہ جب آپ کو کام آتا ہو اور آپ اپنے کردار اور پروفیشن میں مضبوط ہوں تو مسائل خود ہی حل ہوجاتے ہیں ۔آفس میں مجھے مختلف چیلنجز کا سامنا رہاتاہم مجھے کوئی خاص پریشانی تو نہیں اُٹھانی پڑی کیونکہ میں نے ہر مشکل کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا اور اس سے بہت کچھ سیکھا۔دراصل یہی تنقید اور مشکلات آپ کو جاب کرنے کا ڈھنگ سکھاتی ہیں۔مجھ پر بہت زیادہ کام لادا گیا لیکن میں آج بھی مشکور ہوں اُن آفیسرز کی جنہوں نے اتنا کام دے کر اُس وقت تو مجھے تھوڑا پریشان کیا لیکن میں نے اسی کام سے آگے بڑھنا سیکھا۔اس کے بعد میں یونیورسٹی آگئی۔یہاں بطور خاتون تو مجھے کسی قسم کا مسئلہ نہیں ہواکیونکہ یہاں جنسی تعصب gender bias کم ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ خواتین کو اپنے آپ کو کچھ ثابت کرنے کیلیے مردوں سے زیادہ کام کرنا ہوگا۔خواتین ویسے تو اپنے حقوق کی بات کرتی ہیں لیکن جب کام کی باری آتی ہے تو صنفِ نازک بن جاتی ہیں اور 12بجے چھٹی لینا چاہتی ہیں ۔ ایسے انہیں کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔میں بطور خاتون اپنے کسی افسر سے soft corner نہیں چاہتی، میں صرف ایک عورت نہیں ہوں، ایک employee ہوں ،ان کی کولیگ ہوں میں بھی مردوں جتنا بلکہ اُن سے زیادہ کام کرسکتی ہوں۔اگر آپ کا یہ رویہ ہو تو کوئی آپ کو پیچھے نہیں رکھ سکتا۔کیونکہ انسان کا چہرہ، شکل،زبان کچھ نہیں بولتا صرف اور صرف اُس کا کام بولتا ہے۔

نیوزویوز: اپنی ابتدائی تعلیم سے گریجویشن تک کے بارے میں مختصراً بتائیے؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: میرا تعلق جہلم سے ہے ،میٹرک وہیں سے کی۔پھر ہم لاہور شفٹ ہوگئے۔ یہاں سے ایف ایس سی کی۔لاہور کے میڈیکل کالج میں داخلہ نہیں ملا۔ میں سب سے چھوٹی تھی میرے بڑے بھائی vet ہیں،انہوں نے میرا داخلہ ڈی وی ایم میں کرادیا۔ دوسرے سمسٹر میں میرا داخلہ بہاولپور کے میڈیکل کالج میں ہوگیالیکن میں نے گھر والوں کے زور کے باوجودجانے سے انکار کردیاکیانکہ میں نے محسوس کیا کہ اس فیلڈ میں لڑکیاں بہت کم ہیں اور میرے لیے ترقی کے زیادہ مواقع ہیں۔

ذاتی سوالات

نیوزویوز: تاریخ پیدائش

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: 2 جنوری، کیپری کون سٹار

نیوزویوز: زندگی کا خوشگوار ترین لمحہ۔

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: (سوچتے ہوئے) جب میری بیٹی کی شادی ہوئی۔ جب بیٹیاں اپنے گھروں کی ہو جاتی ہیں تو یہ والدین کیلیے بڑی achievement ہوتی ہے۔

نیوزویوز: خوشی کا اظہار کیسے کرتی ہیں۔

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: (ہنستے ہوئے) ہنس کر کرتی ہوں۔

نیوزویوز: زندگی کاکوئی نا خوشگوارواقعہ

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: بے شمار ہیں(ہنستے ہوئے)، زندگی تو نام ہی خوشی اور غم کا ہے۔ لیکن عموماً میں اپنی پریشانی بتاتی نہیں ہوں۔میں اپنی شخصیت میں بہت مضبوط ہوں ۔ میں اپنے مسائل خود حل کرتی ہوں حتیٰ کہ میں نے کبھی اپنی والدہ کو بھی اپنی پریشانی نہیں بتائی۔

نیوزویوز: ناراضگی کا اظہار کیسے کرتی ہیں

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: ناراضگی کا اظہارکم ہی کرتی ہوں۔ زیادہ تر صبر شکر سے کام چلاتی ہوں۔

نیوزویوز: پسندیدہ غذا

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: دال چاول میری پسندیدہ غذا ہے، مونگ مصر کی دال ساتھ میں سادہ چاول اور اچار۔

نیوزویوز: پسندیدہ غزل یا گانا ۔

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: میں سکول کے زمانے میں بہت اچھی singer تھی۔ علامہ اقبال کی یہ غزل اکثر گایا کرتی تھی جو مجھے ابھی تک یاد ہے

؂ یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِیک دانہ

یک رنگی و آزادی ہے ہمتِ مردانہ

اس غزل میں امید اور حوصلہ ہے جس سے میں بہت انسپائر ہوئی۔

نیوزویوز: ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہ ہوسکی ہو۔

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: نہیں میں اپنی خوہشیں چھوٹی چھوٹی رکھتی ہوں جنہیں اللہ پاک خودی پورا کر دیتا ہے۔ تاہم میری ایک خویہش تھی کہ میری امی میرے ساتھ رہیں لیکن ان کا انتقال ہوچکا ۔ان کی کمی اکثر محسوس کرتی ہوں

نیوزویوز: آپ نے اپنا Post Doc یوکے سے کیا ہے، بتائیے وہاں کی اور یہاں کی یونیورسٹی میں کیا فرق ہے اور طلباء میں کیا فرق ہے؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: وہاں اور یہاں کے طلباء میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہاں کے طلباء کافی mature ہیں ۔ ایک تو وہ بہت محبِ وطن ہیں ۔ دوسرا وہ معاشرہ کے مفید شہری بننے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ تیسرا یہ کہ انہیں اپنے اور اپنی قوم کے مستقبل کی بڑی فکر ہوتی ہے ،وہ جب کبھی بھی بیٹھتے ہیں تو ایسی بات سوچتے ہیں جو اُن کے معاشرے کیلیے مفید ہو۔ ہمارے طلباء کو چونکہ فنڈنگ گھر کی طرف سے ہوتی ہے اس لیے وہ زندگی کو سٹوڈنٹ لائف تک بہت آسان لیتے ہیں،وہ اپنے اور قوم کے بارے میں بالکل نہیں سوچتے ۔حالانکہ ایک یونیورسٹی کے طالبعلم کے پاس اگلے دس سال کا پلان ہونا چاہیے۔لہذا میری طلباء سے التماس ہے کہ وہ اپنے اور اپنی قوم کے بارے میں سوچیں ،اس ملک کیلیے سوچیں ۔

نیوزویوز: آپsosiation Commonwealth Vet Asکی جانب سے کونسلر فار پاکستان بھی ہیں ، بتائیے دیگر ممالک کے ویٹس پاکستانی vetکوکس تناظر میں دیکھتے ہیں؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: ہمارے ویٹس دنیا کے کسی ویٹ سے کم نہیں ہیں ۔ We can do the Wonders ہمارے ویٹ مشکل سے مشکل صورتِ حال کا مقابلہ کرتے ہیں۔تاہم ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے۔ پوٹینشل بہت ہے بس مستقل

مزاجی کی کمی ہے۔

نیوزویوز: آپ یونیورسٹی کے ادارہ توسیعِ تعلیمICE&Eکی ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں ، بتائیے پاکستان میں ابھی تک کتنا ایکسٹینشن ورک ہوچکا ہے اور اس شعبہ میں مزید کتنے کام کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: توسیعِ تعلیم بہت ضروری ہے کیونکہ جب تک ہماری ایکستینشن سروس مضبوط نہیں ہوگی ہم معاشرے میں تبدیلی نہیں لا سکتے ۔ گو کہ ہمارے لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ میں ایکسٹینشن کا علیحدہ شعبہ موجود ہے لیکن وہ صرف

theraputic extensionتک محدود ہے۔ جو باہر کے پروجیکٹس آتے ہیں وہ بھی جب زمینی حقائق پر آتے ہیں تو ٹیکے کی طرف ہی جاتے ہیں فارمرز کے رویوں میں اُن کے طرزِ زندگی میں تبدیلی کی طرف نہیں جاتے۔ اُن کی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ پروجیکٹ کی مدت پوری ہو، وہ Quantitative نتائج تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن Qualitative نتائج کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا ۔لہٰذاصحیح معنوں میں ایکسٹینشن ورک کی بہت ضرورت ہے۔

نیوزویوز: آخر میں اپنے طلباء کیلیے بالخصوص فی میل ویٹس کو کوئی پیغام دیجیے۔

ڈاکٹر انیلہ ضمیر درانی: فی میل ویٹس کو پہلے تو شعبہ وارانہ مضبوط ہونا ہوگا اور وہ بہت زیادہ کام کر کے معاشرے میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں ۔ شارٹ کٹس کی طرف نہ جائیں بلکہ محنت صرف اور صرف محنت کریں

اور اپنے وطن سے محبت کریں جو افراد اپنے ملک سے پیار نہیں کرتے وہ بطور قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔

** شکریہ**

Copyright: Zaraimedia.com

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More